مغرب کی روشن خیالی کی حقیقت - حماد احمد

ہنگر گیمز سے عالمی شہرت حاصل کرنے والی خاتون اداکارہ جینیفر لارنس کہتی ہے کہ میں اپنی آواز ہر اس بندے کے لیے اٹھاؤں گی جو محسوس کرتے ہیں کہ وہ اپنا تحفظ نہیں کر سکتے۔ جینیفر لارنس کے مطابق ان کو فلم پروڈیوسر نے عریاں قطار میں کھڑا کیا اور انہیں وزن کم کرنے کا کہا. مزید کہتی ہے کہ اس وقت انہوں نے اس ذلت آمیز سلوک پر آواز اس لیے نہیں اٹھائی کیونکہ وہ جانتی تھی کہ ہالی ووڈ میں کیرئیر بنانے کے لیے یہی کچھ کرنا پڑتا ہے۔

یہ حال ہے روشن خیال اور لبرل مغرب کا جس کے بارے میں ہمارے یہاں یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں عورت محفوظ ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کسی ساحل سمندر پر عریاں لیٹی عورتوں کی تصاویر دکھائی جاتی ہیں، جہاں ان خواتین کے بالکل پاس غیر مرد ہوتے ہیں اور وہ ان کی طرف دیکھتے تک نہیں۔

جبکہ National Crime Victimization survey کے مطابق صرف سال دو ہزار چھ میں تقریبا دو لاکھ تینتیس ہزار خواتین جنسی طور پر ہراساں ہوئیں یا ان کا ریپ کیا گیا یعنی ایک دن میں چھ سو خواتین ، یہ وہ تعداد ہے جو پولیس کو رپورٹ بھی نہیں ہوئی۔

اینٹی سوشل وائلنس آرگنائزیشن RAINN یعنی rape abuse & incest national network کے مطابق امریکہ میں ہر اٹھانوے سیکنڈ میں ایک بندہ جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے۔ یعنی ہر سال بارہ سال یا اس سے اوپر کے عمر کے لوگوں پر تقریبا تین لاکھ بیس ہزار سے اوپر جنسی حملے کیے جاتے ہیں۔

روشن خیال لبرل امریکی معاشرے میں پندرہ فیصد بچے جن کی عمریں بارہ سے سترہ سال تک ہوتی ہیں، اس جنسی درندگی کے شکار ہوتے ہیں، 54 فیصد اٹھارہ سے چونتیس، 28 فیصد پنتیس سے چونسٹھ اور 3 فیصد پنسٹھ سے اوپر کے عمر کی بزرگ خواتین شکار ہوتی ہیں۔ RAINN ہی کے مطابق چھ میں سے ایک امریکی خاتون پر جنسی حملے کی کوشش ہوئی یا وہ مکمل ریپ کا شکار ہوچکی ہے.

یہ بھی پڑھیں:   عافیہ صدیقی: روز جیتے ہیں روز مرتے ہیں - عابد محمود عزام

کیا امریکی معاشرہ روشن خیال ہے؟ آپ اس بات سے اندازہ بآسانی لگا سکتے ہیں کہ امریکی عوام نے ایک ایسے شخص کو صدر منتخب کیا جس پر کئی خواتین نے جنسی طور پر ہراساں کرنے کے الزامات لگائے ہیں۔

سی این این کی ڈیجیٹل کارسپانڈنٹ Kelly Wallace کے مطابق ایسوسی ایشن آف امریکن یونیورسٹیز کی ایک نئی سروے کے مطابق تئیس فیصد کالج گرلز سٹوڈنٹس نے بتایا کہ وہ ناپسندیدہ جنسی تعلق کی اذیت سے گزر چکی ہیں، ان میں گیارہ فیصد کے مطابق وہ Oral sex کا شکار ہوئیں۔

یہ ہے لبرل یعنی آزاد و روشن خیال امریکہ معاشرے کا اصل چہرہ
جہاں ایک بچی سے لے کر اداکارہ تک کوئی بھی محفوظ نہیں۔

امام سید قطب ایسے معاشروں کے بارے میں فرماتے ہیں کہ:
عہد حاضر کے جاہلی معاشروں میں اخلاق کا مفہوم اس حد تک محدود ہو کر رہ گیا ہے کہ اس کے دائرے سے ہر وہ پہلو خارج ہوچکا ہے جو انسانی صفات و حیوانی صفات میں خط فاصل کا کام دے سکتا ہے، اخلاق کا مفہوم قریب قریب اقتصادی معاملات کے اندر محصور ہو کر رہ گیا ہے اور کبھی کبھی سیاست کے اندر بھی اس کا چرچا ہوتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ کسی بھی معاشرے سے یہ گندگی ختم کیسے کی جا سکتی ہے۔
اس کے لیے ہمیں چودہ سو سال پیچھے جا کر اس دور کا مطالعہ کرنا ہوگا جب عورت، بچے اور بچیاں ایسے ہی قدیم جاہلیت کے شکار تھے اور پھر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی قیادت میں صحابہ کی جمعیت نے اس خباثت سے پورے معاشرے کو نجات دلا دی۔