اب اترن پر کاہے ٹیکس لگاتے ہو - سائرہ فاروق

خطِ غربت سے نیچے ہی نہیں خطِ غربت سے اوپر کی عوام بھی گرم کپڑے خریدنے کے لیے لنڈے بازار کا رخ کرتی ہے، اپنے تئیں کوشش سی ہوتی ہے کہ سردیاں بھی گزر جائیں اور بھرم بھی رہ جائے، مگر افسوس ان استعمال شدہ کپڑوں پر ڈیوٹی بڑھا کر وہ بھرم بھی ہر سال نوچ لیا جاتا ہے.

مجھے یہ جاننا ہے کہ استعمال شدہ کپڑوں پر درآمدی ٹیکس میں اضافہ حکومت کا خزانہ کتنا بھر سکتا ہے؟ کیا آئی ایم ایف یا ورلڈ بنک کا قرضہ اب غریب کی اترن کھینچ کر ادا کیا جائے گا؟ کیا زندہ معاشروں میں حکومت کرنے کے اب یہی اصول رہ گئے ہیں؟

حکمران طبقے کے نوکر بھی شاید لنڈے کا رخ نہ کرتے ہوں مگر غریب کے بچے کی کمزور چھاتی انھی کپڑوں میں سانس لیتی ہے، کیا ہمارا حکمران طبقہ اتنا انجان بن گیا ہےکہ فرد کی بنیادی ضروریات سے بھی کنی کترا رہا ہے. اگر آپ عوام کو اس کی بنیادی سہولتیں فراہم کرنے میں ناکام ہیں تو پھر اقتدار کی کرسی پر جمے رہنے کا کیا جواز باقی رہ گیا آپ کے پاس؟ ڈرو خدا سے، کہ تمھارے پاس اختیار بھی ہو، پیسہ بھی ہو، رسائی بھی ہو. مگر وینٹیلیٹر پر لیٹ کر بھی تمھارے بچے کو سانس نہ آرہی ہو.

ریاست تو اک ماں کی طرح مہربان ہوتی ہے. اس کے لیے تمام اولاد برابر ہوتی ہے، لیکن وہ اپنے کمزور بچے کے لیے زیادہ فکر مند رہتی ہے، وہ انصاف کے تقاضے نبھاتے ہوئے کمزور بچے کے حصے کا، شکایتوں کا بروقت ازالہ کرتی ہے، یہ نہیں کہ اس کی اولاد میں سے کمزور بچہ چیز کم ہونے یا نہ ہونے پر بلکتا رہے، اور دوسرا بچہ مزے لے لے کر اسے چڑاتا رہے، وہ مساوی تقسیم پر یقین رکھتی ہے.

کیا ہماری ریاست ماں کا رول ادا کر رہی ہے؟ یہ تو سوتیلی کی طرح حقوق غضب کیے جا رہی ہے، طاقتور کو مزید شہ دے رہی ہے، اسے مزید نواز رہی ہے اور کمزور کو مزید مات در مات. وہ ان کی کمی کو محرومی میں مستقل کنورٹ کر رہی ہے، جو اک ریاست کو کرنے کے بنیادی مقاصد کی ازخد نفی ہے. آزاد ریاست حاصل کرنے کا مقصد ہی مقاصد کی تکمیل ہے. یہ کیسا جمہوری اصولوں پر مبنی معاشرہ ہے کہ جہاں کھانے پینے کی اشیاء سے لے کر تن ڈھانپنے تک عوام کی پریشانیوں میں اضافہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا.
یقین جانیے باریک پتلے کپڑوں میں سردیوں کی طویل راتیں نہیں گزرتیں. بڑے تو شاید صبر کر لیں مگر بچوں کا کیا قصور ہے کہ انھیں تن کے کپڑوں کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑے؟

یہ بھی پڑھیں:   تلاشِ نفس - عالیہ زاہد بھٹی

غریبی تو شاید ہی ہمارے ملک سے ختم ہو، کیا اس امیری کو ختم نہیں کیا جاسکتا؟ یہ کیسا نظام ہے جو آپ کے اختیار سے باہر ہے؟ جو ایک امیر کو امیر کر رہا ہے اور غریب کو غریب. اگر یہ امیری کم یا ختم ہو جائے تو شاید غریبی بھی ختم ہوجائے گی. معاشرتی انصاف کا تقاضا تو اسی بات کا متقاضی ہے کہ معاشرتی عہدوں سے ہٹ کر اختیار اور طاقت سے مرعوب ہوئے بغیر معاشرے کے غریب طبقے سے یکساں سلوک کیا جائے. دولت کی اجارہ داری چند ہاتھوں میں نہ رہنے دی جائے. ورنہ عام آدمی احساس محرومی کی اس حد تک جا سکتا ہے جہاں پر ریاست سے نفرت و بیزاری شروع ہونے میں دیر نہیں لگتی.