محبت کیسے ہوتی ہے؟ حنا تحسین طالب

چیزیں ہمیشہ اپنے موافق کی طرف مائل ہوتی ہیں. چیزوں کے درمیان جتنی مناسبت اور یکسانیت پائی جائے گی، اتنا ہی ان کا جھکاؤ ایک دوسرے کی طرف ہوگا. دراصل کسی انسان کے میلانات اور رجحانات اس کی شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں. سوچ کیسی ہے؟ کسی صورت حال میں ممکنہ رویہ کیا ہوگا؟ اس کا اندازہ میلانات دیکھ کر لگایا جا سکتا ہے.

آپ کبھی غور کیجیے گا کہ بچے کے سامنے بہترین علمی کتاب اور چاکلیٹ پیش کی جائے تو وہ یقینا چاکلیٹ منتخب کرے گا. بچے نے ایسا محض اس لیے کیا کہ اس کی شعوری سطح یہی ہے، اور اسی کی مناسبت سے اس نے اپنے لیے وہ چیز منتخب کی جو اس کے مطابق قابل التفات ہے. بچے کے اسی میلان کے پیش نظر ہم اس کے رویے کا اندازہ کر سکتے ہیں، مثلا وہ معاملات میں عجلت پسند ہوگا، کسی معاملے کی گہرائی میں اترے بغیر ردعمل کا مظاہرہ کرے گا وغیرہ.

کبھی ایک انسان کو دوسرے انسان سے محبت بھی اسی بنا پر ہوتی ہے کہ وہ اس میں اپنا عکس دیکھتا ہے، اور اسی مناسبت اور یکسانیت کی بنا پر دونوں میں الفت پیدا ہو جاتی ہے.

محبت کی وجوہات میں یکسانیت اور مناسبت سب سے مضبوط وجہ ہے جس کی وجہ سے دو انسان آپس میں جڑتے ہیں. جس چیز کو انسان اپنی طرح پاتا ہے، طبعا اس کی طرف کھنچتا ہے.

انسان اپنی صحبت سے بھی دو وجوہات کی بنا پر پہچانا جاتا ہے.
1 - ایک یہ کہ انسان لازما اپنی صحبت کا اثر قبول کرتا ہے جیسے حدیث میں آتا ہے کہ
"اچھے برے دوست کی مثال ایسی ہے جیسے مشک والا اور آگ کی بھٹی دھونکنے والا. مشک والے کے پاس ہمیشہ خوشبو ملتی ہے اور بھٹی والے کے پاس بیٹھنے والے کے کپڑے جل جاتے ہیں.'' (بخاری و مسلم)

بقراط کو ایک ناقص قسم کے آدمی سے محبت ہوگئی تو بڑے غمگین ہوئے اور کہنے لگے "مجھے جب بھی کسی سے محبت ہوئی ہے تو میں نے اس کے اخلاق و عادات کو اپنایا ہے."
یا پھر انسان اپنی صحبت پر اثر انداز ہوتا ہے، بالفاظ دیگر انسان اور اس کی صحبت میں یکسانیت و مناسبت پیدا ہو جاتی ہے.

2 - دوسرا یہ کہ صحبت کا اختیار کرنا ایک اختیاری عمل ہے. انسان اپنے دوست اپنی مناسبت سے منتخب کرتا ہے. اسی لیے انسان کو دیکھنا چاہیے کہ وہ کیسے دوست بناتا ہے.
انسان اس شخص، اس چیز اور اس ماحول کی طرف کھنچتا ہے جو اس سے کسی بھی طرح مماثلت رکھتے ہوں.

ارواح، نظریات، عادات اور مشاغل کی یکسانیت و مناسبت دو انسانوں میں محبت کی وجہ بنتی ہے. بلاشبہ محبت کی سب سے مضبوط وجہ روح اور نظریات کی یکسانیت اور مناسبت ہے. انسان ان لوگوں کے ساتھ وقت گزارنا سب سے زیادہ پسند کرتا ہے جن کے ساتھ وقت گزارتے ہوئے یہ احساس ہو کہ گویا خود اپنے ساتھ وقت گزار رہا ہے.

کبھی انسان اعلی صفات کا حامل نہیں ہوتا مگر ایسے لوگوں کی طرف مائل ہوتا ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ان صفات کی دل میں کہیں نہ کہیں قدر کرتا ہے اور شعوری یا لاشعوری طور پر ان کو اختیار کرنے کی چاہت رکھتا ہے.

اسی لیے انسان قیامت کے روز ان کے ساتھ ہوگا جن سے اس نے محبت کی، کیونکہ یہ محبت اس کے اندر کی اچھائی یا برائی کی علامت بھی ہے.

ٹیگز

Comments

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب

حنا تحسین طالب کا تعلق کراچی سے ہے۔ درس و تدریس کے شعبے سے وابسته ہیں۔ بنیادی طور پر سپیکر ہیں اور اسی کو خاص صلاحیت سمجھتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.