پرویزی فکر کی علمی و اخلاقی سطح - مراد علوی

پرویز صاحب کی فکر تو ان کے ساتھ ہی پیوندِ خاک ہوگئی لیکن اب بھی ان کے کچھ نادان مقلدین کہیں کہیں نظر آتے ہیں۔ پرویز صاحب کے عقیدت مند ہمیشہ یہ باور کراتے پائے گئے ہیں کہ ان دولت کدے سے اخلاقیات کی آبشاریں پھوٹتی ہیں، لیکن کبھی اپنے حال پر نہیں سوچا. اگر اب بھی آپ کو ان کے ساتھ گفتگو کا اتفاق ہو جائے تو یقیناََ اس بات کی تصدیق کریں گے۔ ملاّ کو گالی دینے کی لمبی داستان ہے۔ پرویز صاحب کے صرف تیس مضامین مولانا مودودی کو گالیاں دینے پر مشتمل ہیں؛ ان میں چند کے عنوانات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے: جسے نہ خوفِ خدا نہ شرمِ رسول، مرزائیت کے نقشِ قدم پر چلنے والا، ہوسِ اقتدار میں پاکستان کو جہنم میں دھکیلنے والا، ملائیت کا سرخیل، اسلام، پاکستان دونوں کا دشمن جماعت اسلامی کا امیر، اپنی مفاد پرستی کے لیے اسلام کا مقدس نام استعمال کرنا، یہودیوں کی طرح دین ساز، جرات اور دیدہ دلیری سے جھوٹ بولنے والا، علیٰ ھذالقیاس۔ ''تحریکِ پاکستان اور پرویز'' اس بابت ایک دستاویز کی حیثیت رکھتی ہے۔ مذکوہ مضامین کوپڑھنے کے بعد ہی فیصلہ کیجیے گا کہ موصوف نے کیسی تسنیم و کوثر سے دھلی زبان استعمال فرمائی ہے۔

بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ فکرِ پرویز سے وابستہ حضرات کو اپنے علم پر اب بھی بہت گھمنڈ ہے۔ حیرت ہوتی ہے ان کی عقل پر۔ شاید سادہ فکری ان کو کارل مارکس سے وراثت میں ملی ہے۔ کبھی کبھار یہ حضرات علمی مکالمے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ علمی مکالمہ آخر کس کے ساتھ؟ ایک طرف سادہ فکری، علمی غرور، بازاری زبان، سطحی ذہنیت۔ ان کو اپنے مزعومہ امام کی حقیقت معلوم ہے؟ "سنت کی آئینی حثیت" کم ہے کیا؟ وہاں پر امام صاحب کی سطح کتنی ہے۔ کیوں کہ بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ ''سنت کی آئینی حثیت'' والا ''مکالمہ'' دراصل مولانا مودودی اور پرویز صاحب کی براہ راست گفتگو ہے، یعنی پرویز صاحب نے ڈاکٹر عبدالودود کا روپ دھار کر مولانا سے ''مکالمہ'' کیا۔ اس بات کو تقویت دینے کے لیے ''مسئلہ جبر و قدر'' کو دیکھنا ضروری ہے، کیوں کہ ''مسئلہ جبر و قدر'' پرویز صاحب کے سوالات کا جواب ہے۔ ابتداء میں مولانا نے ان کا نام ظاہر نہیں کیا تھا لیکن بعد میں کر دیا۔ تاہم دونوں کے انداز میں کوئی واضح فرق نظر نہیں آتا۔ "سنت کی آئینی حثیت" میں کئی جگہ ڈاکٹر عبدالودود نے قرآن کی آیات ہی غلط لکھی ہیں۔ لکھنے میں تو بالکل چوک نہیں ہونی چاہیے کیوں کہ آیت لکھتے وقت انسان اپنے حاٖفظے پر اعتماد نہیں کرسکتا (اگر کوئی حافظ ہو تب) لیکن پھر بھی آیات غلط لکھی گئی ہیں جن کی مولانا نے تصحیح کرکے یہ تاریخی جملہ رقم کیا: ''اگر ان کے سامنے قرآنِ مجید کی چند آیات بغیر اِعراب کے رکھ دی جائیں تو وہ اُن آیات کی درست تلاوت بھی نہیں کرسکیں گے"۔ اگر لکھنے کا یہ عالم ہے تو ناظرہ کا کیا ہوگا۔ آج کے جدید دانشوروں کے بارے میں تو پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ان کو محض ناظرہ بھی نہیں آتا۔ اردو کتب کے طفیل اسلامی اسکالر بننے والوں کی قرآن فہمی کی کیا حالت ہوگی؟

ہمیں تو پرویز کے ناظرہ پر بھی تحفظات ہیں کہ وہ ٹھیک طور پر قرآن کی تلاوت سے قاصر نظر آتے ہیں۔ لیکن ''قرآنیون'' کا متوقع جواب یہ ہوگا کہ یہ ملائیت ہے، اصل میں تو قرآن فہمی مقصود ہے۔ افسوس! قرآنی سکالر قرآن کی تلاوت بھی نہیں کرسکتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com