مزاحتی تحریکیں: عزمِ جواں کے بل پر تاریخ کو بدلنا - اَشفاق پرواز

تاریخ کے ہر دور میں مزاحمتی تحریکیں ابھرتی رہی ہیں۔ ان میں سے کچھ کامیاب ہوئیں اور اکثر ناکام ہی رہیں۔مگر اس کے باوجود بھی لوگوں میں مزاحمت کے جذبات کم نہیں ہوئے۔ اس لیے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر لوگ کیوں مزاحمت کرتے رہے ہیں، اور ناکامیوں اور شکستوں کے باوجود یہ تحریکیں کیوں پیدا ہوتی رہی ہیں۔؟اس کی وجہ ایک تو انسان کی فطرت ہے کہ وہ ظلم و استحصال کو ایک خاص حد تک برداشت کرتا ہے اور جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو جاتا ہے تو وہ اس نظام، روایت اور قدروں سے بغاوت کرتا ہے جو کہ اس کی راہ میں حایل ہوتے ہیں۔

مزاحمتی تحریکوں میں ہم کئ مقاصد کار فرما دیکھتے ہیں۔ان میں سے کچھ تحریکیں ظلم و استحصال کے خاتمہ، انصاف و مساوات اور عام لوگوں کی خوشحالی اور حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ یہ سماج کے پورے نظام کو تبدیل کر کے اس کی جگہ ایسا متبادل نظام لانے کی خواہش مند ہوتی ہیں کہ جس میں طبقاتی فرق یا تو کم ہوجایےں یا پھر ختم ہی ہوجایےں اور عام آدمی کو اس کے حقوق مل سکیں۔ کچھ مزاحمتی تحریکیں اشرافیہ کے خلاف ہوتی ہیں اور اس کی جگہ متوسط طبقے کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کرتی ہیں۔ ان کے منشور میں عام لوگوں کے لیے زیادہ جگہ نہیں ہوتی۔ وہ ایک استحصالی نظام کو ختم کر کے اس کی جگہ دوسرا استحصالی نظام لانا چاہتے ہیں۔ کچھ مزاحمتی تحریکیں فرد اور اس کے ذاتی مفادات تک محدود رہتے ہیں۔ان ہی میں سے چند ایسی مزاحمتی تحریکیں بھی رہی ہیں جو ماضی کے گمشدہ سنہری دور کو واپس لانا چاہتی تھیں، اور جو کسی مہدی یا نجات دہندے کی آمد پر تحریک کا آغاز کر کے جدوجہد کرتی تھیں کہ ایک مثالی معاشرہ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ لہٰذا مزاحمتی تحریکوں میں ہمیں کئ مقاصد پنہاں نظر آتے ہیں۔ مگر ایک چیز جو سبھی مزاحمتی تحریکوں میں مشترک رہی ہے وہ یہ کہ یہ تحریکیں سماج کو تبدیل کرنا چاہتی ہیں اور فرسودہ نظام کی جگہ ایک نے اور توانا نظام کو نافذ کرنا چاہتی ہیں۔

مزاحمتی تحریکیں دو قسم کی ہوتی ہیں۔ ایک وہ جو مسلح جدوجہد اور تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا چاہتی ہے۔ دوسری وہ جو جمہوری اور دستوری طریقے سے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کی کوشش کرتی ہے۔مسلح مزاحمت اس وقت ہوتی ہے جب گفت و شنید کے تمام دروازے بند کر دیے جائے اور ریاست کا جبر اس قدر بڑھ جائے کہ مسلح جدوجہد کے علاوہ کوئی اور راستہ باقی نہ رہے۔عمومی طور یہ صورت حال بادشاہت اور آمرانہ دور حکومت میں ہوتی ہے۔کیونکہ ایسی حکومت میں تمام اختیارات سمٹ کر فرد واحد کے پاس آجاتے ہیں، جو کسی تنقید اور مخالفت کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہوتا۔ اس لیے مطالبات کو تسلیم کروانے یا حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے اس قسم کی جدوجہد کے علاوہ اور کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔یہی صورت حال اس وقت پیش آتی ہے جب کسی ملک پر حملہ کر کے کوئی دوسرا طاقت ور ملک قابض ہوجائے، لہٰذا اس قبضے کے خلاف مسلح مزاحمتی تحریک اٹھتی ہے جو حملہ آوروں اور قابض طاقتوں کو مجبور کرتی ہے کہ وہ ملک چھوڑ کر چلے جایےں۔ قابض طاقتوں کے خلاف اس قسم کی مزاحمتی تحریکیں تاریخ کے ہر دور میں رہی ہیں۔ بادشاہت کے زمانے میں مزاحمتی تحریکوں کو بغاوت سے موسوم کیا جاتا تھا۔ بادشاہ باغیوں کو اپنا مجرم سمجھتا تھا اور یہ لوگ سخت سزاوں کے مستحق سمجھے جاتے تھے۔ انہیں سبق آموز سزایےں دی جاتی تھیں۔ ان کے جسم کے اعضا کاٹے جاتے تھے۔ زندہ آگ میں جلایا جاتا تھا۔ ہاتھی کے پیروں تلے کچلا جاتا تھااور سرعام پھانسی دی جاتی تھی تاکہ لوگ عبرت حاصل کریں اور آیندہ بغاوت کی جرت نہ کریں۔ لیکن ان سخت سزاوں کے باوجود لوگ ظلم و جبر کے خلاف برابر مزاحمت کرتے رہے اور خاموش ہوکر تماشائ نہیں بنے۔ مزاحمتی تحریکوں میں اس وقت ایک تبدیلی آئجب جمہوری ادارے اور روایات کو فروغ ہوا۔دستور اور قانون میں اس کی گنجایش پیدا ہوئکہ لوگ اپنے حقوق کے لیے پر امن مزاحمت کر سکتے ہیں۔لہٰذا اب مطالبات کو تسلیم کروانے کے لیے مظاہرے، ایجی ٹیشن، جلسے جلوس اور تحریر و تقریر کے زریعے اہل اقتدار پر دباو ڈالا جانے لگا۔ اگر سرکاریں پرامن طریقوں اور ذرائع سے لوگوں کے مطالبات تسلیم نہیں کرتی تو اس صورت میں پرامن تحریکیں بھی تشدد کا راستہ اختیار کر لیتی ہیں۔

جن طبقات نے مزاحمتی تحریکوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیاان میں خاص طور سے کسان شامل ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں کی جابر پالیسیوں اور جاگیرداروں کے خلاف مسلسل مزاحمت کی کیونکہ یہ ان کے ستآئے ہوئے تھے۔ اگر چہ ان کے ہتھیار بمقابلہ اپنے مخالفین کمتر ہوتے تھے مگر اس کے باوجود تربیت یافتہ اور مسلح افواج سے مقابلہ کرتے تھے۔دوسرا طبقہ غلاموں کا تھا۔ اگر چہ یہ بے انتہا مجبور اور بے بس ہوا کرتے تھے، مگر ایک وقت ضرور آتا تھا جب یہ اپنے آقاوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غلاموں کی بغاوتوں نے بڑی سلطنتوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مزدوروں کی مزاحمتی تحریکیں خاص طور پر صنعتی انقلاب کے بعد ابھریں جب فیکٹریوں اور کارخانوں میں کام کرنے والے متحد ہوئے اور اپنے حالات کی بہتری کے لیے آواز اٹھائ۔ تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جب مزاحمتی تحریکیں شروع ہوئ تو ان کے رہنماوں کو اس کا پورا اندازہ تھا کہ ان کے مخالف ان سے زیادہ طاقتور اور منظم ہیں۔ان کے پاس ان کے مقابلہ میں اسلحہ بھی ہے لیکن اس کے باوجود بھی وہ مزاحمت کرنے پر تیار رہتے تھے۔ان کے پاس مقصد کے حصول کا جذبہ تھا جو انہیں ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رکھتا تھا۔ انہیں اس بات کا بھی احساس رہتا تھاکہ وہ ریاست اور اس کے اداروں سے جنگ ہار جایےں گے لیکن اس کے باوجود بھی وہ مزاحمتی تحریکوں کے ذریعہ ظلم و ناانصافی کو لوگوں کے سامنے لاتے تھے اور ان میں تبدیلی کی خواہش کو پیدا کرتے تھے۔ اسطرح ان کی شکست ان کی فتح ہوتی تھی۔ ان تمام مزاحمتی تحریکوں کی ایک خاص بات رہی ہے کہ مزاحمت کرنے والے کسی خاص مقصد کے لیے جب آواز اٹھاتے تو ان میں اتحاد و یگانیت کے جذبات پیدا ہوجاتے تھے اور وہ مقاصد کے حصول تک قدم ملا کے چلتے تھے۔ یہی اتحاد و یکجہتی تحریک کا سب سے موثر ہتھیار ہوا کرتا تھا جو انہیں مزاحمت پر آمادہ کرتا تھا۔

تاریخ کی ستم ظریفی ہے کہ روایتی مورخوں نے مزاحمتی تحریکوں کے بارے میں جو کچھ لکھاہے وہ سب منفی ہے۔ وہ ان تحریکوں کو ملک و قوم دشمن قرار دیتے ہیں جو سماج کے استحکام کو کمزور کرتی ہیں، انتشار اور بے چینی کا باعث بنتی ہیں۔تاریخ کے اس پروپیگنڈے کی وجہ سے مزاحمتی تحریکوں کے مقاصد اور ان کے سماج پر اثرات لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہوگیے اور یہ تحریکیں تاریخ کے اندھیروں میں گم ہوکے رہ گیےں۔ موجودہ دور میں بہت سے مورخ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ تاریخ کو روایتی مورخوں کے چنگل سے نکال کر اس کی از سر نو تشکیل کریں۔ اس سلسلے میں مزاحمتی تحریکیں ان کا اہم موضوع ہیں۔ وہ ان تحریکوں کی تاریخ کو ماضی سے نکال کر نے سرے سے ان کا جایزہ لے رہے ہیں۔ ان تحریکوں کے رہنماوں کی شخصیتوں کو منظر عام پر لا رہے ہیں کہ جنہوں نے تحریکوں کی رہنمائ کرتے ہوئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا اور اپنے خون سے انہیں زندہ رکھا۔ وہ ان تحریکوں کے سماج پر اثرات کا بھی جایزہ لے رہے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کبھی انقلابی اور کبھی خاموشی سے معاشرے پر اثرات ڈالے اور تبدیلی کی راہیں ہموار کیں۔

مزاحمتی تحریکوں کی بنیاد کسی نظریہ اور فکر پر ہوتی ہے۔ ان کے پیش نظر کوئی منصوبہ ہوتا ہے جس کی تکمیل ان کا مقصد ہوتا ہے۔ اگر تحریک سامراجی طاقت کے خلاف ہوتی ہے تو اس کا مقصد ملک کی آزادی ہوتا ہے۔ اگر ریاست اور حکومت کے خلاف ہو تو اس کی پالیسیوں کو تبدیل کرنا اور اس کی جگہ کوئی اور متبادل نظام قایم کرنا تحریک کا مقصد ہوتا ہے۔واضح رہے مزاحمتی تحریکیں کامیاب ہوں یا ناکام ان کے سماج پر گہرے اثرات ہوتے ہیں۔ اول یہ سماج کے جمود تو توڑ کر مایوسی کا خاتمہ کر تی ہے۔ایک ایسے وقت میں کہ جب لوگ تبدیلی سے نا امید ہوجاتے ہیں ایسے ماحول میں یہ اس احساس کو دور کرتی ہے کہ حالات کبھی نہیں بدلیں گے، ظلم و بربریت اور ناانصافیوں کی جڑیں اسی طرح سے سماج کے نظام میں پیوست رہیں گی۔مزاحمتی تحریکیں لوگوں میں جزبہ، حوصلہ اور جوش پیدا کرتی ہیں۔ ان تحریکات کا دوسرا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ مسایل جن کے بارے میں لوگوں کی معلومات یا تو کم ہوتی ہیں یا بالکل نہیں ہوتی۔ تحریک کے ذریعے وہ مسایل عوام کے سامنے آجاتے ہیں۔لوگ ان کی اہمیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ان مسایل کے حل کا شعور آتاہے۔اس طرح مزاحمتی تحریکیں عوام میں ایک نئ طاقت اور توانائ پیدا کر دیتی ہے جو ریاستی استحصال کے خلاف جدوجہد کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔

ہر مزاحمتی تحریک کسی نظریہ اور فلسفہ کی بنیاد پر ابھرتی ہے۔ جیسے جیسے تحریک آگے بڑھتی ہے وقت کے ساتھ ساتھ اور تجربہ کی روشنی میں اس کے خیالات و افکار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر تحریک ناکام ہوجاتی ہے تو اس کی ناکامی پر غور و فکر کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ناکامی کے نتیجہ میں ایک اور توانا تحریک جنم لیتی ہے۔اس کی مثال ہمارے سامنے زار روس کی ہے جہاں مزاحمتی تحریکوں کو بار بار سختی سے کچلا گیا، مگر ایک کے بعد ایک اور تحریک جنم لیتی رہی جو روس کے انقلاب پر ختم ہوئ۔لیکن اس کا دارومدار سماج کے رویوں اور دانشوروں کے تازہ افکار و خیالات اور داناوں کی ثابت قدمی پر ہوتا ہے۔ جو تحریکوں کو ناکامیوں کے باوجود دید و حوصلہ کے ساتھ آگے بڑھاتے رہتے ہیں۔ مزاحمتی تحریکوں کی سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ لوگوں کو مایوس نہیں ہونے دیتی بلکہ ان میں امید اور تبدیلی کی خواہش کو زندہ رکھتی ہے اور انہیں تبدیلی لانے کے لیے اتحاد و یکجہتی کا درس دیتی ہے۔

Comments

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز

اشفاق پرواز ٹنگمرگ، مقبوضہ کشمیر کے جواں سال قلم کار ہیں۔ مقامی اور بین الاقوامی اخبارات میں ان کے کالم شائع ہوتے ہیں۔ دلیل کے مستقل لکھنے والوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.