گالیوں کے ہجوم میں گھرا ہوا شخص - عاکف آزاد

یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں عقلیت پسندی کا رجحان جذبات پر غالب آچکا ہے۔ دلیل ہماری اتنی طاقت ور ہے کہ بیانیہ بوجھل ہو چکا۔ عقل اور شعور کی پختگی اب روداری اور درگزر کی حدود کو پامال کرنے کا جواز رکھتی ہے۔

اگر آپ کسی نکتے پر کھڑے ہیں تو آپ کی چاہت، خواہش، جذبہ یا عقیدت آپ کے دفاع کے لیے کافی نہیں ہے۔ آپ معقول جواز پیش کیجیے کہ آپ یہاں کیوں موجود ہیں ؟ اگر آپ کے پاس معقول جواز نہیں ہے جو کہ بالفاظ دیگر نہیں بلکہ ہر گز نہیں ہے تو ایک گروہ کے خیال میں آپ دنیا کے بے وقوف ترین انسان ہیں۔

معاف کیجیےگا ، گروہ کہہ کر میں نے ان کی حق تلفی کی ہے۔ یہ گروہ نہیں بلکہ دنیا کے ان عظیم انسانوں کے بغل بچے ہیں جو چاندپر پہنچے، مریخ پر قدم رکھا اور دیگر سیاروں پر ابتدائی تحقیقات کے لیے چوہے چھوڑ چکےہیں۔ کیلیفورنیا کے ریسرچ سینٹرز اور ناروے کی تہہ در تہہ برف میں بنائے گئے تجربہ گاہوں میں ہونے والے تجربات سے ثابت ہوچکا ہے کہ آپ غلط سوچتے ہیں۔

ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں یہ بات نہ صرف ثابت ہوچکی بلکہ سوشل میڈیا پر بھاری اخراجات کےساتھ لگائی گئی پوسٹوں، کئی ہزار لائکس اور لاکھ کے عدد کو چھوتے ہوئے فیڈ بیکس، چاہے وہ ہمارے حق میں ہوں یا ہمارے خلاف، کی روشنی میں مؤرخ یہ فیصلہ دے چکاہے کہ قدامت پسندوں کی ایک جماعت پاکستان کے تمام مسائل کی بنیاد قرار پاتی ہے۔ اگر یہ صدق دل سے توبہ تائب ہوکر ہتھیار ڈال دیں اور اقرار کرلیں کہ آئندہ گالی دینے والے کے خلاف کوئی رد عمل نہ دیں گے اور جھوٹ بولنے والے کو بے نقا ب نہ کیا جائے گا تو پاکستان کے مسائل نہ صرف خود بخود ختم ہوجائیں گے بلکہ جادوئی طریقے سے سارے کے سارے مسلمان یک دم چاند پر پہنچ جائیں گے۔ ترقی کی انتہا ہوجائے گی اور فساد ختم ہوجائے گا۔

اگر کچھ لوگ یہاں گالی دینے کی اجازت رکھتے ہیں تو یقین کیجیے تب بھی یہ کوئی آزادی نہیں ہے۔ کیوں کہ گالی دے دینے سے تکلیف کم نہیں ہوجاتی۔ اجازت دیجیے کہ کاٹ کھائیں اور بھنبھوڑ پھینکیں۔

چوں کہ آپ ایک طے شدہ معیار پر پورے نہیں اترتے لہٰذا آپ حرفِ غلط، آپ ش کا چوتھا شوشہ،آپ ہی تزویراتی تنہائی کا شکار بڑی ے کے دو نقطے ہیں جنہیں دیکھ لینے کے بعد رد عمل واجب ہوجاتا ہے۔

انسانیت کے خاص معیارات جو ترقی یافتہ اقوام اور اقوام متحدہ کے مجتہدین عظام نے ہمیں عطا فرمائے ہیں ہمارے ماتھے کا جھومر ہیں۔ البتہ آپ کے اعتراضات کی بدولت ہم پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ دراصل پیچیدگی یہ ہے کہ انسانیت کے حقوق متعین کرنے والے علماء کرام انسان کا مفہوم بتانا بھول گئے۔لہٰذا اب ایشیائی ممالک میں فوجیں اتارنا، شہروں کو کھنڈر کرنا،وسائل چوسنا، دولت سمیٹنا، سیاسی معاملات میں مداخلت کرنا جیسے مسائل کا تصفیہ کرنے سے پہلے انسان کا مفہوم متعین کیا جائے۔

آپ نے دیکھا ہوگا ، بلکہ نہیں دیکھا تب بھی مانیے کہ پاکستان کی عوام ان الجھ بیٹھیوں سے تنگ آچکی ہے۔ ڈاکٹر فلاں، فلاں اور فلاں فلاں یونی ورسٹیز کے نصاب میں بھی یہی پڑھایا جارہا ہے اور اب تو بہت سے بیوروکریٹس بھی اللہ کے فضل سے ہماری فل سپورٹ میں ہیں۔ لہٰذا اب ہمیں اپنی دلیل سمجھانے کی کوشش مت کیجیے۔ حالات پہلے بھی آپ کے حق میں ساز گار نہیں ہیں۔

یہ ہماری بلکہ اب تو آپ کی بھی خوش قسمتی ہے کہ ہم اس دور میں جی رہے ہیں جہاں عقلیت پسندی کا رجحان جذبات پر غالب آچکا ہے۔ دلیل ہماری اتنی طاقت ور ہے کہ بیانیہ بوجھل ہو چکا۔ عقل اور شعور کی پختگی اب روداری اور درگزر کی حدود کو پامال کرنے کا جواز رکھتی ہے۔