کراس میڈیا اونر شپ، میڈیا پر کچھ لوگوں کی اجارہ داری - محمود زکی

جب کچھ ادارے یا انفرادی شخصیات کے گروہ ایک سے زائد میڈیا آؤٹ لیٹس پر اپنا تسلط جما لیتے ہیں تو ان کی دلچسپیاں ابلاغیات کے بہاؤ یعنی "فلو آف انفارمیشن" کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ "کراس میڈیا اونرشپ" کے نام سے ایسے ہی اداروں یا انفرادی شخصیات کو معنون کیا جاتا ہے جو ایک سے زائد میڈیا آؤٹ لیٹس پر اپنا تسلط جما کر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ پچھلی چند دہائیوں سے یہ معاملہ بہت بڑھتا جارہا ہے جس پر خصوصا مغرب میں کافی بحث و تمحیص ہوئی ہے۔

میڈیا کے بنیادی مقصد ابلاغیات اور حقیقی خبروں کی ترسیل کے لیے ضروری ہے کہ وہ حکومت کے بے جا اثر و رسوخ اور ان بڑے سرمایہ داروں یا انفرادی شخصیات، جو میڈیا آؤٹ لیٹس پر طاقت رکھتے ہوں، کے تسلط سے آزاد ہو جو طے شدہ اہداف کے لیے اسے بطور آلہ استعمال کریں۔ یہ سرمایہ دار یا انفرادی شخصیات اگر میڈیا کے ذرائع پر تسلط جمائیں تو بڑی آسانی سے عوامی رائے زنی کو اپنے سانچے میں ڈھال لیتے ہیں جو کہ بظاہر ایک قدرتی انقلاب کی صورت لگتا ہے لیکن آگے چل کر ملک کی نئی راہیں متعین کرتا ہے۔

جب چند لوگ، جن کے اپنے اہداف اور دلچسپیاں ہوتی ہیں، طے شدہ اہداف کے لیے جانبدارانہ بیانیہ دکھا کر ایک بڑی تعداد میں عوام کو کنٹرول کرتے ہیں جس سے لوگ معلومات اخذ کرتے ہیں تو نتیجتاً ان کے اذہان میں لاشعوری طور پر ان چند لوگوں کے لیے ہمدردیاں جنم لیتی ہیں۔ اس بات پر سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت ہے کہ اگر حکومت نے ان اداروں کو مکمل اختیار دیا ہے کہ اپنے میڈیا آؤٹ لیٹس سے "جو چیز چاہو آن ایئر کردو اور جو چاہو روک دو" تو یہ سلسلہ کہاں تک جا کر رکے گا؟

پاکستان میں بھی اگر دیکھا جائے تو میڈیا آؤٹ لیٹس اندرونی یا بیرونی طور پر کسی کو بھی جواب دہ نہیں، جو کہ ایک سنجیدہ سوال کھڑا کردیتے ہیں کہ "چیک اینڈ بیلنس" کس چڑیا کا نام ہے؟ اگرچہ کوئی بھی آزاد جمہوریت پسند معاشرہ یہ نہیں چاہے گا کہ ان کے میڈیا پر قدغن لگا دی جائے جو آزادی اظہار رائے کی راہ میں رکاوٹ بنے۔ میڈیا کو نہ صرف سرکاری قدغنوں سے آزاد ہونا چاہیے بلکہ اپنی 'کارپوریٹ لیپس' اور جانبداری سے بھی اسے آزادی کی ضرورت ہے۔ عوام کو کسی بھی وقوعے کی دیانت دارانہ اور شفاف معلومات فراہم کرنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ آزادی اظہار رائے پر قدغن میڈیا کے بنیادی اخلاقیات و اصول کے آڑے نہ آئیں۔

یہ بھی پڑھیں:   ستم گر محبوب - سہیل وڑائچ

پاکستان میں بھی "کراس میڈیا اونرشپ" چونکا دینے والے نقطے تک پہنچ چکا ہے جہاں چند ہی لوگ "فلو آف انفارمیشن" کی ملکی سطح پر تقسیم و تفہیم کرتے ہیں۔ چند منتخب گروہ تمام میڈیا آؤٹ لیٹس کو یا تو کنٹرول کر رہے ہیں یا یہ ان کی ملکیت ہیں، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف معلومات کو کنٹرول کرتے ہیں بلکہ ایک قسم کی اجارہ داری قائم کر کے اپنے لیے بڑے منافع لیتے ہیں۔ چینلز، اخبارات، میگزینز اور ویب سائٹس کے ذریعے وہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو عوامی رائے کو ایک مخصوص رخ دے کر موڑ دے، ان کو صحافت کے اصولوں اور اقدار سے کوئی لینا دینا نہیں ہوتا۔ پاکستان میں تقریباً چار بڑے میڈیا گروپس ہیں جو "مین اسٹریم میڈیا" پر تسلط جمائے ہوئے ہیں، ان چار گروپوں نے باقاعدہ اجارہ داری قائم کر رکھی ہے اور اپنے مضبوط پھیلاؤ کے لیے کاروباری میکانزم کو ہر طرف بچھا دیا ہے جس سے نئے آنے والے اس راہ پر ٹھوکریں ہی کھاتے ہیں۔ پیمرا کی کراس میڈیا اونر شپ کے سامنے غیر افادیت واضح ہے کہ وہ بطور ریگولیٹری ان قوانین کا نفوذ نہیں کر پارہی ہے جو اس کے منشور میں شامل ہے۔

ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے میڈیا آؤٹ لیٹس کے میکانزم پر کنٹرول کیا جاسکے اور شفاف، غیر جانبدار اور آزاد میڈیا وجود پاسکے۔ اگر ہماری طرح قابل پرواز جمہوریت کو مزید پروان چڑھا کر لمبی اڑان بھرنی ہے تو عوام کو مکمل اور شفاف معلومات فراہم کرنا ہوگی جو کارپوریٹ اداروں اور میڈیا اتحاد کی دلچسپیوں سے مبرا ہو تا کہ ایک سوچتا ہوا دماغ اپنے اور ملک کے مفاد کے لیے بہترین فیصلہ کرسکے۔