الیکشن کمیشن کا مایوس کن فیصلہ - محمد اشفاق

محترمہ عائشہ گلالئی خواتین کی مخصوص نشستوں پر پاکستان تحریک انصاف کے کوٹے سے منتخب ہوئی تھیں۔ چند ماہ قبل انہوں نے اپنے پارٹی سربراہ پر انہیں جنسی ہراساں کرنے کا الزام عائد کیا اور پارٹی چھوڑنے کا اعلان کر ڈالا۔ ایک اہم موقع پر وہ قومی اسمبلی کے سیشن سے بھی غائب ہو گئیں۔ اب بھی تقریباً روزانہ سوشل میڈیا پر یا پریس کانفرنسز کے ذریعے وہ پارٹی اور پارٹی سربراہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتی ہیں، جبکہ اپنے عائد کردہ الزامات کا وہ کسی پبلک فورم پر کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائیں۔

پی ٹی آئی کے سربراہ جناب عمران خان نے انہیں ڈی سیٹ کرنے کی درخواست قومی اسمبلی کے سپیکر کو پیش کی جس پر ضابطے کے تحت ریفرنس الیکشن کمیشن میں دائر کر دیا گیا، جس نے اپنا فیصلہ سنایا ہے جسے پچھلی سماعت پر محفوظ کر لیا گیا تھا۔ فیصلے کے مطابق محترمہ عائشہ گلالئی ممبر قومی اسمبلی رہیں گی، باوجود اس کے کہ انہوں نے پارٹی سے علی الاعلان بغاوت کر رکھی ہے۔

کم سے کم الفاظ میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا یہ فیصلہ مایوس کن ہی کہا جا سکتا ہے۔ بطور ایک آئینی ادارے کے الیکشن کمیشن کو تمام تعصبات سے پاک ہو کر خالصتاً آئین، قانون اور قومی اسمبلی کے قواعد و ضوابط کی روشنی میں فیصلہ سنانا چاہیے تھا، جبکہ یہاں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ یہ فیصلہ ایک جماعت یا اس کے سربراہ سے تعصب برتتے دیا گیا ہے۔ اگر کل کو مسلم لیگ نون کے چند ارکان باغی ہو جاتے ہیں اور نواز شریف بطور پارٹی سربراہ انہیں ڈی سیٹ کرنے کی درخواست دائر کرتے ہیں تو کیا تب بھی الیکشن کمیشن ایسا ہی فیصلہ سنائے گا؟

یہ درست ہے کہ جناب عمران خان اور ان کی جماعت نے فارن فنڈنگ کے کیس میں الیکشن کمیشن کے ساتھ ڈھائی سال سے جو رویّہ اپنایا ہے، وہ نہ صرف افسوسناک بلکہ سراسر قابل مذمت ہے۔ انصاف اور قانون کی بالادستی کی دعویدار جماعت کا اپنے فنڈز کی جانچ پڑتال سے بھاگنا ان کے اپنے بلندوبانگ دعووں پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ اپنے ایک متنازع بیان کے سبب عمران خان اسی الیکشن کمیشن میں توہین عدالت کا سامنا بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ جواباً الیکشن کمیشن بھی ان کے خلاف ایک فریق بن جائے یا یوں جماعت کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جائے؟ عمران خان کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنا بھی ایک ایسا ہی متنازع فیصلہ تھا، مگر آج عائشہ گلالئی کے معاملے میں تو یہ امتیازی سلوک واضح دکھائی دے رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فارن فنڈنگ کیس، کیا عمران خان نا اہل ہو سکتے ہیں؟ آصف محمود

آئینی اداروں کو آئین کی حرمت اور تقدس کا محافظ بن کر کھڑا ہونا چاہیے، جب وہ متنازع فیصلے دیتے ہیں تو اپنی ساکھ اور وقار کو ناقابل تلافی نقصان پہنچاتے ہیں۔ سپریم کورٹ انتہائی کمزور قانونی وجوہات پر ملک کے وزیراعظم کو نااہل قرار دے کر پہلے ہی خود کو مشکل میں پھنسا چکی ہے اور اب عمران خان اور جہانگیر ترین کے مقدمے میں اچھی خاصی آزمائش سے دوچار دکھائی دیتی ہے۔ الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ اسے بھی مستقبل میں ایسی ہی آزمائش اور خفت میں مبتلا کر سکتا ہے۔

آخر میں اپنے آئینی اداروں کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے کہ اللہ پاک انہیں اور ان کے سربراہوں کو سیاست زدہ ہونے سے محفوظ رکھے، اور خالصتاً آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اپنے فرائض انجام دینے کی توفیق دے، آمین!