آمریتوں نے پاکستان کو کیا دیا؟ - نعیم احمد

پاکستان گزشتہ 70 برس میں چار مارشل لاء اور 17 جمہوری حکومتیں بھگت چکا ہے۔ تاہم مقتدر طبقات، میڈیا اور عوام کی سطح پر یہ بحث آج بھی جاری ہے کہ اس مملکت خداداد کی بہتری کس نظام کو اختیار کرنے میں ہے؟

آمریت کے حمایتی طبقات کو بظاہر یہ لگتا ہے کہ جمہوریت کا بوریا بستر گول کرنے اور ڈنڈے کی حکمرانی سے ملکی کو اندرونی استحکام حاصل ہو سکتا ہے جو معاشی ترقی اور مبینہ کرپٹ سیاسی قیادت سے نجات کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ تاہم تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر سماجی اور معاشی خرابیوں کے بیج فوجی حکمرانوں کے دور میں ہی بوئے گئے تھے۔

7 اکتوبر 1958ء کو جب صدر اسکندر مرزا نے کمانڈر انچیف ایوب خان کو پہلا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بنایا تھا تو بظاہر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ ایسا اسکندر مرزا کی خواہش پر ہوا ہے۔تاہم برطانوی دفترِ خارجہ کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات کے مطابق کراچی میں متعین برطانوی فوجی اتاشی کی جانب سے اپنی حکومت کو بھیجے گئے مراسلے میں لکھا تھا کہ سات اکتوبر کے مارشل لا کی منصوبہ بندی دو ہفتے پہلے راولپنڈی میں سینیئر آرمی افسروں کا ایک گروپ کر چکا تھا۔ ایک اور سفارتی نوٹ کے مطابق ایوب خان نے کئی مہینے پہلے ہی کہنا شروع کر دیا تھا کہ صورت حال مزید بگڑی اور اگلے انتخابات میں تسلی بخش نتائج کے آثار نظر نہ آئے تو فوج کو بادل ناخواستہ کوئی قدم اٹھانا پڑے گا۔

اقتدار سنبھالتے ہی ایوب خان نے پہلے بیسک ڈیموکریسی ممبرز کے تحت جمہوریت کی نئی نرسری لگانے کا اہتمام کیا اور جب حسب منشا نتائج ملتے نظر نہ آئے تو صدارتی الیکشن میں مادر ملت محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی کے ذریعے ہرا کر برسر اقتدار طبقات کے لیے سرکاری وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی پہلی مثال قائم کر دی۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی بلکہ جب انہیں باامر مجبوری اقتدار سے الگ ہونا پڑا تو انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کے تحت قومی اسمبلی کے سپیکر کو قائم مقام صدر بنانے کی بجائے حکومت کی باگ ڈور اپنے 'پیٹی بھائی' جنرل یحییٰ خان کو سونپ دی۔

26 مارچ 1969 کو یحییٰ خان کے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر بننے کے پہلے روز امریکی محکمہ خارجہ کو ارسال کردہ انٹیلی جنس نوٹ میں بتایا گیا کہ وہ ناؤ نوش اور جنسی بے اعتدالیوں کی شہرت رکھتے ہیں۔ اس سے آگے کی کہانی سب کو معلوم ہے لیکن کوئی اس پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں کیونکہ ایسا کرنے سے حساس اداروں کی حساسیت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ موصوف پاکستان کی تاریخ کے سب سے غیر جانبدارانہ انتخابات کروانے کا اعزاز رکھتے ہیں تاہم انتقال اقتدار کے موقع پر وہ اپنی یہ غیر جانبداری برقرار نہ رکھ سکے۔

مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے بعد بھٹو حکومت نے انہیں راولپنڈی کی ہارلے سٹریٹ کے گھر میں علامتی طور پر نظربند کر دیا تھا۔ تاہم جنرل ضیا الحق نے اقتدار سنبھالتے ہی یہ نظربندی ختم کردی اور 10 اگست 1980 کو ان کے اس دار فانی سے کوچ کر جانے کے بعد انہیں حکومتی سرپرستی میں پورے فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا۔

جنرل ضیا لگ بھگ ساڑھے 11 سال چیف آف آرمی سٹاف کے عہدے پر برقرار رہے۔ آغاز میں انہیں سیاسی اور معاشی محاذ پر شدید مشکلات کا سامنا تھا لیکن پھر 'تائیدِ غیبی' سے افغانستان دو عالمی طاقتوں کا میدان جنگ بن گیا اور ڈالروں کی ریل پیل کے سبب وہ پوری دلجمعی کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا قبلہ درست کرنے میں مصروف ہو گئے۔ اس دوران انہوں نے غیر جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی اداروں، صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی کے انتخابات کا ڈول ڈال کر 'ٹیسٹ ٹیوب جمہوریت' کا تجربہ کیا۔ نظریات کی جگہ پیسے کی سیاست کو رائج کرنے، کراچی میں ایم کیو ایم کو پیپلز پارٹی کی متبادل سیاسی قوت بنانے، کلاشنکوف کلچر کو عام کرنے اور مدرسوں کے طلبہ کو 'ڈالر جہاد' کے ذریعے دین و دنیا میں کامیاب ہونے کی راہ دکھانے والے بھی ضیاء الحق ہی تھے۔ وہ پاکستان کی اسلامائزیشن کے لیے ابھی مزید بہت کچھ کرنے کے متمنی تھے لیکن فرشہ اجل نے انہیں اس کا موقع نہیں دیا لیکن خالق حقیقی کے پاس جانے سے پہلے وہ پاکستان کا سماجی اور سیاسی منظرنامہ تبدیل کر چکے تھے۔

جنرل پرویز مشرف کو چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا فیصلہ نواز شریف کے لیے ویسا ہی ثابت ہوا، جیسا ذوالفقار علی بھٹو کے لیے ضیا الحق کو منتخب کرنا۔ انہیں بھی اقتدار میں آتے ہی شدید معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ ایٹمی دھماکے کرنے کی پاداش میں پاکستان پابندیوں کی زد میں تھا اور نواز شریف کو ہٹائے جانے کی بنا پر تیل کی دولت سے مالا مال برادر اسلامی ملک نے بھی آنکھیں ماتھے پر رکھ چھوڑی تھیں۔ تاہم انہیں بھی اپنے پیشرو طالع آزما کی طرح افغانستان کی جنگ میں امریکی پیادہ بننے کا موقع مل گیا اور ہمارے بہادر کمانڈو نے لیٹنے میں ذرا بھی تاخیر سے کام نہیں لیا۔

پرویز مشرف کے زیر سایہ نومبر 2001ء میں گوادر اور جیوانی میں امریکی نیوی کے جہاز لنگر انداز ہوئے، بھاری ہتھیاروں کے گودام بنے اور ڈرون حملوں کا آغاز ہوا لیکن ہماری خودمختاری پر آنچ نہیں آئی۔ اس کے بعد امریکی فوج بلوچستان کے راستے افغانستان گئی جبکہ گوادر میں 2005ء میں بھی امریکی فوج کے مراکز موجود تھے۔

ضیا نے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے جو کام اسلام کی آڑ میں سیاسی مخالفین پر کوڑے برسا کر کیا مشرف نے وہی کام روشن خیالی کے سنگھاسن پر بیٹھ کر اچھے اور برے طالبان کی دلالی سے لیا۔

1999 کی فوجی بغاوت کے کلیدی کردار اور پرویز مشرف کے قریبی رشتے دار لیفٹنٹ جنرل شاہد عزیز اپنی کتاب 'یہ خاموشی کہاں تک' میں لکھتے ہیں کہ 'جنرل پرویز مشرف 12 اکتوبر 1999ء سے قبل میاں نواز شریف کی حکومت کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ جنرل مشرف نے سری لنکا جانے سے قبل 10 کور کمانڈر جنرل محمود، سی جی ایس جنرل عزیز خان اور ڈی جی ایم او کو (یعنی انہیں) یہ ذمہ داری سونپ دی تھی جبکہ ڈی جی ایم آئی میجر جنرل احسان الحق اور ڈی جی آئی ایس پی آر بریگیڈیئر راشد قریشی بھی اس آپریشن کا حصہ تھے۔‘

جنرل شاہد کے مطابق وہ اسے انقلاب سمجھتے تھے لیکن 31 جنوری 2002ء کو کور کمانڈرز کی میٹنگ میں مشرف نے اعلان کیا کہ 'ہم پاکستان مسلم لیگ ق کی مدد کریں گے، پیپلز پارٹی کو توڑیں گے اور ن لیگ کو کمزور کریں گے۔'

ان حقائق سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ فوجی آمریت کے زیر سایہ سیاستدانوں کی 'ٹنل فارمنگ' کبھی بھی کامیاب نہیں رہی بلکہ اس کی وجہ سے عوامی سطح پر بھی سیاسی شعور میں کمی آئی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ ایسے فارمی سیاستدانوں کے غیر جمہوری رویوں کا ملبہ بھی ہمیشہ جمہوریت پر ڈال کر مارشل لا کے جواز تراشے جاتے ہیں۔

یہ درست ہے کہ جمہوریت کو عوام کی نظر میں قابل بھروسہ بنانے کے لیے سیاستدانوں کو بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے لیکن اگر ریاست کے مقتدر ادارے سیاسی عمل کو قدرتی حالات میں آگے بڑھنے کا راستہ دینے کی بجائے اپنے مفادات کو ہی مقدم رکھیں گے تو پھر پاکستان میں جمہوریت سے آمریت اور آمریت سے جمہوریت کا چکر یونہی جاری رہے گا۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */