قائداعظم یونیورسٹی، لسانی تنظیمیں اور سیکولر طبقہ - محمد زاہد صدیق مغل

اٹھارہ روز مسلسل بند رہنے کے بعد قائداعظم یونیورسٹی میں پیر کے روز دوبارہ تدریسی عمل بحال ہوا۔ جامعہ ہٰذا کے حالیہ اصل مسئلے پر پہلے بھی لکھ چکا ہوں۔ یونیورسٹی نے اب تک معطل طلبہ کو بحال کرنے سے انکار کیا ہوا ہے۔ پیر کے روز لسانی طلبہ کونسلز نے ایک مرتبہ پھر پرزور مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تو پولیس کئی درجن طلبہ کو اٹھا کر لے گئی جس کے بعد حالات نارمل ہوگئے ہیں۔ دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے، فی الوقت یہاں مجھے اس سے بحث نہیں کرنی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان 18 دنوں کے دوران پرویز ہود بھائی کی طرف سے ان لسانی کونسلز کے خلاف ایک بھی لفظ منہ سے نہیں نکلا۔ میڈیا پر بھی صرف یہی خبر نشر کی گئی کہ "فیسوں کے مسئلے پر احتجاج ہورہا ہے" جبکہ اصل مسئلے کو بالکل دبا دیا گیا۔ ہمارے یہاں فیس بک کے سیکولر طبقات و افراد نے بھی اس ایشو پر یکسر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ ہود بھائی اینڈ کمپنی اس سب پر خاموش کیوں رہے؟

اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ لسانی تنظیمیں قائداعظم یونیورسٹی میں ایک طرف "سیکولر اقدار" کی پشتیبان سمجھی جاتی ہیں۔ وہ الگ بات ہے ان میں سے کسی کو بھی سیکولرازم کی الف ب کا علم نہیں، سیکولرازم سے ان کی مراد بس ناچ گانے اور شراب و شباب کی مجالسں کرانے کی آزادی ہے۔ خیر، تو دوسری طرف جامعہ میں "جمعیت" کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جونہی جامعہ میں "جمعیت" کے ارکان اپنی تنظیم سازی کے لیے کام کرنے لگتے ہیں، یہ کونسلز والے ان کی مار کٹائی کرکے انھیں کام کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جامعہ میں "جمعیت" کیوں نہیں آنی چاہیے؟ اس لیے کہ جمعیت "ان کے سیکولرازم" کے فروغ کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے۔ یہ لسانی طلبہ کونسلز طلبہ کو کسی قسم کا اکیڈمک فائدہ نہیں دیتیں اور نہ ہی ان کے اکیڈمک ایشوز میں بہتری کے لیے سوچتی ہیں۔ آئے دن مارکٹائی یہ ان کا معمول ہے، جس کی ایک "سب سے بڑی وجہ" دوسرے صوبے کی لڑکی کو چھیڑ دینا ہوتا ہے۔

ان کے ایشوز کیا ہیں؟ یہ کہ ہر صوبے کی کلچرل نائٹ جیسے پروگراموں میں ناچ گانا ہو؟ جامعہ میں ہماری بدمعاشی ہو اور بس؟ جو لوگ "جمعیت" کے سٹوڈنٹ ونگز میں رہے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ "جمعیت" کے پاس طلبہ کی تربیت اور مسائل کے حوالے سے باقاعدہ پروگرام اور پلیٹ فارم ہوتا تھا۔ تو اس تناظر میں ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ چلو ٹھیک ہے آپ "جمعیت" کا راستہ روک رہے ہیں، مگر اس سوال کا جواب تو دیجیے کہ "جمعیت" طلبہ کو جو مثبت سروسز فراہم کیا کرتی تھی، یہ لسانی جماعتیں اس کے متبادل کے طور پر کیا دے رہی ہیں؟

سچ یہ ہے کہ یہ طلبہ کونسلز ان سیکولر طبقات کے "ملیٹنٹ ونگز" ہیں جنہیں ان لوگوں نے "اپنے سیکولرازم" کی پشتیبانی کے لیے پال رکھا ہے اور اس کے لیے یہ ان کی تمام تر خامیوں و مسائل سے صرف نظر کرلیتے ہیں۔

Comments

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل

محمد زاہد صدیق مغل نسٹ یونیورسٹی کے شعبہ اکنامکس میں تدریس کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔ قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ ملکی و غیر ملکی جرائد و رسائل میں تسلسل کے ساتھ تحقیقی آراء پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان کی تحقیق کے خصوصی موضوعات میں معاشیات، اسلامی فنانس وبینکنگ اور جدیدیت سے برآمد ہونے والے فکری مباحث شامل ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.