نظریے کی کلینیکل موت - ثمینہ رشید

بات نکلی ہارون الرشید صاحب کے کالم سے جو شاید نظرانداز ہو جاتی کہ کسی کا نام لیے بغیر مبہم سا ایک جملہ تھا، چند ایک کے علاوہ کسی کو معلوم ہی نہ ہوتا کہ کس کے بارے میں ہے، لیکن پھر وضاحت نے جن بوتل سے باہر نکال دیا۔ بات منہ سے نکلی اور کوٹھوں چڑھی کے مصداق ہر خاص و عام کا موضوع بن گئی۔

ایک عام انسان کو کسی دوسرے کے آزادی اظہار کے حق، مذہب و مسلک، نظریات اور زندگی گزارنے کے طریقے پر تنقید کا حق حاصل نہیں، جب تک کہ یہ صرف اس کی "ذاتی حدود" میں رہے، یا جب تک کہ ان کا اثر کسی مخالف نظریات رکھنے والے انسان یا انسانوں کے گروپ پر نہ پڑتا ہو۔ بات جب بھی ذاتی حدود سے نکلتی ہے اور سامنے والے کو نشانہ بناتی ہے، اس پر بات کرنے کا حق اس مخالف فریق کو خود بخود حاصل ہوجاتا ہے۔ اب مخالف گروہ کا ہر ممبر نہ تو پروفیسر ہوتا ہے نہ دانشور کہ جس کی زبان و بیان کی شائستگی کو ایک خاص معیار کے مطابق پرکھا جاسکے۔

یہی معاملہ اس پورے قصے میں پیش آیا، اس وضاحت کو اگر پڑھا جائے تو بظاہر بےضرر لگنے والا ایک جملہ، در حقیقت ایک پورے گروہ یا طبقۂ فکر سے نفرت اور تضحیک کا اظہار تھا۔ جملہ تھا۔
"میں منافق نہیں کہ ماں کے جنازے پر مولوی کی اقتدا قبول کر لیتا"
یہ مولوی پر تو براہ راست لفظی حملہ ہے ہی، مگر اس سے مولوی کی اقتدا اور دل میں عزت رکھنے والوں کے خلاف تعصب بھی واضح۔ اس لیے اگر اس پر کوئی پر ردعمل آتا ہے تو اسے اس جملے کے "ری ایکشن" کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ ایک تو اس میں پہل کسی مولوی نے نہیں کی، دوسرے جب جن قابو سے باہر ہوگا تو طعن و تشنیع، فتوے، دشنام طرازی سمیت کچھ بھی سامنے آئے گا۔

گو ذاتی طور پر میں کسی منفی قول و فعل کی حمایت نہیں کرتی، لیکن جہاں اس روش پر تنقیدی عمل اب تک جاری ہے، وہیں موافقت میں بھی کچھ احباب سامنے آئے ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ بجائے آگ بجھانے اور کچھ بہتر منطقی دلائل کے، موافقین نے بھی "مولوی" پر روایتی زہر میں بجھے تیر چلانے اور تضحیک کا نشانہ بنانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔

یہ تو ہوگیا دونوں اطراف کے مورچوں پر جاری گولہ باری کی "وجہ" اور اس کا "پس منظر"۔

اب کیونکہ بحث نے عوامی اور عمومی رخ اختیار کر لیا تو اس کے پسِ پردہ "نظریاتی" ہونے نہ ہونے اور اس کا تعلق براہ راست کسی دوسرے گروہ پر پڑنے اور اس کے منطقیت پر بھی کئی سوال اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ خصوصا جب ماں کے ساتھ روا رکھے جانے والے اس سلوک کے باوجود مصاحبین اس کردار کو اس صدی کا سب سے بڑا نظریاتی اور رول ماڈل ثابت کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔

سب سے پہلے تو ہم اس کا تعین کرلیں کہ نظریاتی ہوتا کون ہے؟
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ہر وہ شخص نظریاتی ہونے کا تاج پہننا چاہتا ہے
(1) جو مذہبی طبقے کے خلاف جذبات رکھتا ہو۔
(2) جو فوج کے خلاف ہو۔
مگر دنیا میں جتنے نظریات سامنے آئے، بنیادی طور پر ان کی دو وجوہ سامنے آتی ہیں، معاشی ناہمواری اور ظلم و نا انصافی۔ دولت کی غلط تقسیمِ کار کے نتیجے میں ایک طبقے کو حاکم اور دوسرے کو محکوم کا درجہ ملتا ہے۔ اگر کچھ کے پیچھے پوپ اور کلیسا کی طاقت کا ہاتھ تھا تو کہیں پر سرمایہ دار خاندان ملک کے معاشی وسائل پر قابض تھا۔ اس پس منظر میں جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف نظریات سامنے آئے، وہیں مذہبی اجارہ داری کے خلاف بھی آواز اٹھی، جس کا اختتام مذہب بیزاری پر منتج ہوا۔

یہ بھی پڑھیں:   عورت کا تشخص مرد کےلیے مسئلہ کیوں؟ شہلا اسلام

بدقسمتی سے معاشی نظام سے منسلک نظریات، جیسے کمیونزم کو راتوں رات شہرت اور مضبوطی ضرور ملی لیکن اس کے راستے میں حائل رکاوٹیں اتنی زیادہ تھیں کہ دنیا میں چند ہی ممالک اس کو اپنا سکے اور سوویت یونین کے انہدام نے اس نظریے کو بری طرح نقصان پہنچایا۔

مذہبی اجارہ داری کے رَد میں جو نظریات سامنے آئے، ان میں سیکولرازم سے لے کر الحاد تک کئی طرح کے نظریات شامل ہیں۔

سیکولرازم کی پچھلے دنوں کئی تعریفیں سامنے آئیں جس میں سب نے اپنی اپنی متعین کردہ تعریف کے دائرے میں اور ذہنی تعصب کے زیرِاثر صحیح ثابت کرنے کی کوشش کی۔ آکسفورڈ ڈکشنری کے مطابق سیکولرازم کی مختصر تعریف کچھ یوں ہے:
ریاست کا مذہبی اداروں سے علیحدگی کا اصول۔ یعنی یہ ماننا کہ سیکولرازم کے معنی مذہب کی نام پر کسی بھی فرد سے امتیازی سلوک نہ کرنا ہے۔

اب اگر کوئی فرد سیکولر نظریات کا حامی ہے تو اس کا مطلب قطعی یہ نہیں کہ وہ ملحد بھی ہے۔ کئی ممالک جو بظاہر سیکولر نظریات کا پرچار کرتے ہیں، مگر ان ممالک میں سیکولر نظریات بس کتابوں کی حد تک ہیں، جیسا کہ انڈیا میں بظاہر سیکولر نظام کا دعوی کیا جاتا ہے مگر ریاست براہ راست لوگوں کے مذہبی نظریات پر پابندیاں عائد کرتی ہے، اس کےلیے قانون سازی کرتی ہے، ملک کا پورا نظام انتہاپسند ہندوؤں کے زیراثر نظر آتا ہے، یہاں تک کہ گائے کا گوشت کھانے کے شبہ میں ہی مسلم خاندان زندہ جلا دیے جاتے ہیں، اور کہیں ان کی دادرسی نہیں ہوتی۔
اس کے برخلاف کچھ ممالک سیکولر نہیں جیسا کہ برطانیہ، مگر وہاں مذہبی آزادی اور ریاست کی مذہبی معاملات میں مداخلت نہ کرنے کے اصول نے مذہبی رواداری اور برداشت کو فروغ اور معاشرے کو مضبوطی عطا کی ہے۔
تو اصل مسئلہ سیکولرازم کا نہیں، حکومت کی معتدل پالیسیوں اور ان کے نفاذ کا ہے جس سے مذہبی رواداری کا فروغ ممکن ہوتا ہے۔

اس تناظر میں اگر نظریاتی ہونے کے دعوے کی حقیقت جانچی جائے تو اس عمارت کی بنیادوں کا کھوکھلا پن صاف نظر آتا ہے۔ یعنی ایک طرف تو ایسی سوسائٹی کے قیام کا دعوی ہے جہاں ریاستی معاملات میں مذہب کا عمل دخل نہ ہو، فرد کوئی بھی نظریہ رکھے، کسی بھی مذہب کا ماننے والا ہو، مگر اس بنیاد پر ریاست اس سے امتیاز نہ برتے، اس سے نفرت نہ کی جائے۔ دوسری جانب صرف ایک جملے سے ایک بہت بڑے طبقہ فکر بلکہ ملک کی غالب اکثریت کے نظریات سے نفرت، تعصب اور ان کا رَد صاف نظر آتا ہے۔ چنانچہ ایک مذہبی معاشرے اور اسلام کے نام پر بننے والی ریاست میں بجا طور پر یہ سوال سامنے آ کھڑا ہوتا ہے کہ کیا سیکولرازم مذہب سے انکار اور الحاد کا نام ہے۔

نفرت اور بیزاری کی بنیاد پر بنائے گئے ان نظریات کا نام کچھ بھی ہوسکتا ہے، سیکولر یا لبرل ازم نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جملے کے دفاع میں سامنے آنے والے پیروکار بھی "مؤمنین و صالحین" پر زہر میں بجھے تیر چلاتے نہیں تھک رہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا کرۂ ارض کرسچین بن چکا ہے- پروفیسر جمیل چودھری

دی گئی وضاحت کے مطابق منافق نہ کہلانے کی خواہش نے مولوی کی اقتدا سے باز رکھا۔ مولوی سے اس درجے نفرت و بیزاری کا بھی کوئی جواز یقینا رہا ہوگا۔ کوئی مولوی کی اقتدا نہیں کرنا چاہتا تو یہ سراسر اس کا ذاتی مسئلہ ہی رہتا، اگر "نفرت و بیزاری" کا تڑکا لگا کر اسے پبلک نہ کیا جاتا۔ چنانچہ لوگوں نے بجا سوال کیا کہ منافق نہ کہلانے کا خیال صرف والدہ کے جنازے پر آیا، یا اپنے نکاح کے وقت بھی یہ منافقت سرزد نہ ہوئی تھی، ہوئی یا نہیں، دونوں صورتوں میں ایک بڑا سوالیہ نشان معاشرے کے سامنے کھڑا ہے، چنانچہ رول ماڈل ہونے کا دعوی بھی دھڑام سے زمیں بوس ہو جاتا ہے.

اسی تناظر میں ایک سوال یہ ہے کہ اس نفرت اور رَد نے خود کو اس علم کے حصول اور اس کی پیروی کرنے پر راغب کیوں نہ کیا۔ کام خود سیکھا اور کیا جاتا تو مولوی کی اقتدا کی ضرورت ہی نہ پڑتی۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ نکلتا ہے کہ نظریات نے رَد کرنا تو سکھایا لیکن مسئلے کے منطقی حل کی طرف رہنمائی نہ کی۔ نظریات کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ ایک نظریے یا رویے کے خلاف ہیں اور اس کو کسی دوسرے نظریے سے ری پلیس کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ذاتی کمزوری اور ذہنی تعصب کاملیت کے اس درجے تک آنے نہیں دیتا۔ مولوی کا رَد تو کیا جاتا ہے، لیکن اپنی اس کمزوری کی وجہ سے اس کو اپنی زندگی سے ریپلیس کرنے سے قطعی قاصر ہیں۔ ہر وہ کام جس کے لیے مولوی کا ہونا قطعی ضروری نہیں، اس کی اقتدا بھی مجبوری نہیں، وہ خود کیوں نہیں کیا جاتا؟ کہا جاتا ہے کہ مذہب پر مولوی کی اجارہ داری قبول نہیں، بجا ارشاد، اس کے بعد مذہب نہ سہی، معاشرت کے طور پر ہی سہی، ان رسوم و رواج کی ادائیگی کےلیے کیا سیکھا گیا؟ اس کا جواب سیکولر فکر کے حاملین میں سے کسی کے پاس نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ نظریات اگر خالی جگہ کو پر نہ کرسکیں تو یہ کھوکھلا پن ہے، اور یہی وجہ ہے کہ معاشرے میں پنپنے نہیں ہیں۔ اگر مذہب اور مولوی سے نفرت سیکولرزم اور لبرل ازم ہے، اس کے داعی کہلانے اور اس نظام کے لیے زندگی بھر جدوجہد کرتے رہے ہیں اور اس کے غلبے کےخواہشمند ہیں تو اس طرزعمل کے بعد لوگوں کے لیے اس میں سوائے دھوکے اور فریب کے کچھ نہیں۔ سیکولرازم نفرت کی تعلیم نہیں دیتا، مذہب سے نہ مسلک سے۔ یہ امتیازی رویے کا بھی سبق نہیں سکھاتا، نہ ریاست کا کسی خاص مذہبی فرقے کے لیے، نہ کسی ایک مذہب و فرقے کا دوسرے مذہب و فرقے کے لیے۔

معاشرے میں محبت، امن، رواداری اور برداشت کے فروغ اور غیر امتیازی سلوک کا داعی کسی ایک طبقۂ فکر کے لیے اس قدر نفرت انگیز سوچ رکھے تو اس کے نظریات کی گھٹڑی اور افعال کی منافقت سے کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے نہ کسی قسم کی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔

ہمیشہ یہی پڑھا کہ گھٹن زدہ اور ظلم پر مبنی نظام کے خلاف نظریاتی لوگ ایک روزن کی طرح ہوا کرتے تھے۔ لیکن جب نظریاتی رول ماڈلز کے خیالات سن کر معاشرے کی گھٹن میں اضافہ ہونے کا احساس ہو تو سمجھ لینا چاہیے کہ نظریات کی کلینکل ڈیتھ واقع ہوچکی ہے، بس دفن کرنا باقی ہے۔

Comments

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید

ثمینہ رشید برطانیہ میں مقیم ہیں، قانون اور بزنس مینجمنٹ کی تعلیم و تجربے اور دیار غیر کے تجربات کو نظم و نثر میں ایک سے کمال کے ساتھ منتقل کرتی ہیں۔ ویب سائٹ شاہکار کی چیف ایڈیٹر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.