اداکارہ نور اور "ہم" - اسماعیل احمد

انٹرٹینمنٹ کی دنیا بھی عجب ہے۔ وہاں سے بیشتر اوقات ہمیں عجیب و غریب خبریں سننے کو ملتی رہتی ہیں۔ کبھی ماہرہ خان کی تصاویر اِس بازار کی رونق بنتی ہیں تو کبھی اداکارہ نور کاشوبز کی دنیا کو چھوڑ کر اسلام پر عمل کرنے والی ایک خاتون بن کر باقی زندگی بسر کرنے کا عزم ہمارے سامنے آتا ہے۔

پاکستان میں جتنے بھی شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ ہیں، یہ شوبز کےلوگ ان میں ایک لحاظ سے تو سبقت لے گئے ہیں کہ ہمیں کسی اور شعبۂ زندگی سے یہ خبر سننے کو نہیں ملتی کہ اس سے وابستہ کسی شخص نے اپنی سابقہ زندگی پر توبہ کر لی ہے اور اب ایک سچے مسلمان کے طور پر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔ میرا اشارہ عام لوگوں کی طرف نہیں۔ ان کے اندر بھی خیر و شر کی جنگ چھڑی رہتی ہے۔ مگر وہ لوگ جو کسی خاص وجہ سے شہرت رکھتے ہیں مثلاً سیاست، تجارت، صحافت،ادب وغیرہ ان کے ہاں سے ہمیں کسی اچھے کی خبر بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر ہی سننے کو ملتی ہے۔ایسا نہ ہونے کی ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ سارے کے سارے"دودھ کے دھلے"ہیں لہٰذا کسی مزید صفائی کی ضرورت نہیں پڑتی۔لیکن یہ وجہ ایسی ہے جس پر آسانی سے یقین نہیں کیا جاسکتا۔ پاکستان میں تو مذہب سے وابستہ قابلِ ذکر شخصیات بھی کئی دفعہ ایسے ایسے اسکینڈلز میں ملوث پائی گئیں کہ الامان الحفیظ! یہ جو فرقہ واریت کی آگ ہمارے معاشروں میں لگائی جاتی ہے ایسا مذہب سے وابستہ شخصیات کی طرف سے ہی ہوتا ہے۔ جب نفرت کے ایسے بیج بو دیے جاتے ہیں کہ معاشرہ ہر وقت کسی حادثے کے نشانے پر رہتا ہے۔

ہمیں آج تک یہ شرف حاصل نہیں ہوا کہ ہمیں یہ خبر پڑھنے کو ملے کہ کسی سیاست دان نے توبہ کر لی ہے اور آئندہ سیاست نہ کرنے اور ایک پکے سچے مسلمان کے طور پر زندگی گزارنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ کسی مذہبی شخصیت نے اپنی ماضی کی غلطیوں کا کفارہ ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے، کسی صحافی نے صحافت کی دنیا کی غلاظتوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنی سابقہ زندگی کے طرزِعمل کو تبدیل کرنے کا پختہ عزم کیا اور اپنے آپ کو اسلام کے لیے وقف کر دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسا صرف ایک شعبے کی جانب سے ہی سننے کو ملتا ہے اور دلچسپی کا پہلو یہ ہے کہ یہی شعبہ سب سے زیادہ طعن و تشنیع کے نشانے پر رہتا ہے۔ ہم سب اسی شعبے کو سب سے گندا شعبہ سمجھتے ہیں۔لیکن اللہ کی رحمت سب سے زیادہ انہی بندوں پر ہوتی ہے۔ انہی لوگوں کے حصہ میں اللہ کی سچی محبت بھی آتی ہے۔ کوئی گلوکاری چھوڑ کر "جنید جمشید" بن جاتا ہے توکوئی اداکاری چھوڑ کر " سارہ چوہدری"۔ اپنے اپنے راستے ہیں اور اپنی اپنی منزلیں۔

سچی بات تو یہ ہے کہ عریانی، فحاشی اور بے حیائی کے پیکر، ہمارے معاشرے کی روایات کو سبوتاژ کرنے والے یہ شوبز کے لوگ ہمارے اللہ کو ہم سے زیادہ پسند ہیں کہ اپنی منزلوں کا نشاں بتانے کے لیے بطور مبلغ وہ ان کا انتخاب کرتا ہے۔واقعی جس کا "بھانڈا" تیار ہو، خیرات سے بھی اسے نوازا جاتا ہے اور خیرات بھی ایسی ملتی ہے کہ ساری زندگی اور اِس زندگی کےبعد کی زندگی کا پالا بھی انسان مار لیتا ہے۔ ستے خیراں ہو جاتی ہیں۔

ہمارے اندر تو ابھی تک"طلب " ہی پیدا نہ ہوئی "، عطا طلب کے بعد ہوتی ہے۔ اداکارہ "نور" کو اسلام کی یہ روشنی مبارک ہو۔ خدا انہیں استقامت سے نوازے۔ انہوں نے اپنی زندگی کو"غلط" سمجھا تو اسے "ٹھیک" کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہم تو پہلے ہی اپنی زندگیوں کو "ٹھیک " سمجھےہوئے ہیں۔ سومزید بہتری کی گنجائش نہیں ہے۔

کاش ہم سارے کے سارے عوام و خواص ان "گندےشوبز" والوں کی طرح اپنے آپ کو تھوڑا تھوڑا غلط سمجھ لیا کریں۔ مشہور عالمِ دین مولانا طارق جمیل کے بیانا ت میں ایک تکیہ کلام ہے"اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ آج ہی توبہ کر لو۔پچھلے سب گناہ معاف آئندہ بس نماز پڑھو،روزے رکھو، زکوٰۃ دو،اپنے اخلاق اچھے کرو،سکون کی زندگی دنیا میں گزارو،مزے کی نیند قبر میں پوری کرو اور رب کی جنت میں چلے جاؤ۔ راستہ تو سیدھا ہے۔ چلنے والے ذرا کم ہیں۔

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */