بغداد و ریاض کا اتحاداور امریکی کردار - آصف خورشید رانا

امریکہ کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے ’’ہوئے تم دوست جس کے دشمن اس کا آسماں کیوں ہو‘‘۔ عراق کے ریگستانوں سے افغان کے سنگلاح پہاڑوں تک پھیلی جنگ، شمالی کوریا سے لے کرمشرق وسطیٰ تک پھیلے سیاسی بحران میں امریکی کردار نمایاں نظر آتا ہے۔ شام میں بشار الاسد کی فوجوں کے ظلم کے باعث جاری خانہ جنگی، عراق میں داعش کے ظالمانہ حملوں، فلسطین میں اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی اور سعودیہ عرب کے خلاف یمن میں حوثی باغیوں کے حملوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ کی ریاستیں تباہی کے دہانے پر کھڑی نظر آرہی ہیں۔ بالخصوص شام میں روس اور امریکہ کی مداخلت نے دنیا کو تیسری جنگ کے خطرے کی طرف دھکیل دیا ہے۔ ایسے بدترین سیاسی ماحول میں سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلیمان بن عبدالعزیزاور عراقی وزیر اعظم حید رالعبادی کی ملاقات خاصی اہمیت کی حامل ہے لیکن انہیں دنوں امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کی ملاقاتیں بھی کسی نئے طوفان کا پیش خیمہ بھی ہو سکتی ہے۔

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے عراق کے ساتھ نہ صرف جغرافیائی اور مشترکہ مفادات پر مبنی تعلقات استوار ہیں بلکہ یہ برادرانہ اور خونی رشتوں پر مبنی تعلقات ہیں۔ اس ملاقات کے دوران دونوں ممالک میں باہمی تعاون کے کئی معاہدوں پر اتفاق رائے کیا گیا۔ اس موقع پر شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور اور عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے سعودی، عراق رابطہ کونسل کے قیام کے لیے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کیے۔ سعودی کابینہ نے اگست میں اس کونسل کے قیام کی منظوری دی تھی۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان تزویراتی، سرمایہ کاری اور ثقافتی شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینا ہے۔ اس سے عراق کی معیشت کی بحالی کے لیے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان نے سعودی عراق رابطہ کونسل سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اس رابطہ کونسل کے اجلاسوں کا شدت سے منتظر ہوں، ان سے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے فروغ کی نئی راہیں کھلیں گی‘‘۔ عراق میں دہشت گردی کی جنگ کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’’ہم عراق میں اپنے بھائیوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں کامیابیوں پر مبارک باد دیتے ہیں۔ نیز ہم عراق کے اتحاد اور استحکام کی حمایت کا اعادہ کرتے ہیں‘‘۔ شاہ سلمان نے گذشتہ سال کے دوران میں متعدد مرتبہ عراق، اس کی سلامتی اور استحکام کے فروغ کی ضرورت پر زوردیا تھا۔ انھوں نے دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی گذرگاہ کو کھولنے کی ضرورت پر بھی زوردیا تھا۔ دونوں ملکوں میں گذشتہ ہفتے ستائیس سال کے بعد فضائی روابط بحال ہوگئے ہیں اور سعودی دارالحکومت الریاض سے فضائی کمپنی فلائی ناس کی پہلی تجارتی پرواز بغداد پہنچی تھی۔ شاہ سلیمان نے اپنے دورے کے دوران بغداد کو بھرپور تعاون کا یقین دلایا ہے جبکہ عراقی وزیر اعظم بھی مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں اس دورے کو بہت اہمیت دیتے نظر آئے اور انہوں نے واضح کیا کہا کہ یہ خطہ مزید کسی تقسیم کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ان کا غالباً اشارہ ان تقسیم کی جانب تھا جس کے مطابق عراق کو سنی، شیعہ اور کرد کے تین مختلف علاقوں میں تقسیم کیا جانا ہے۔

دونوں سربراہان مملکت کی ملاقات سے چندروز قبل عراق کے چیف آف آرمی اسٹاف لیفٹیننٹ جنرل عثمان الغنمی کی قیادت میں فوج کے اعلیٰ سطح کے ایک وفد نے سعود ی عرب کا دو روزہ دورہ کیا اور انھوں نے سعودی عرب کی مسلح افواج کے سر براہ جنرل عبدالرحمان البنیان سے ملاقات میں دوطرفہ تعاون پر تفصیلی بات چیت کی ہے۔ عراق کی وزارت دفاع کی جانب سے جمعرات کو جاری کردہ بیان کے مطابق دورے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھانے اور دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی گذرگاہوں کو کھولنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ عراق کے آرمی چیف کا دورہ دونوں ملکوں کے درمیان عسکری شعبے میں تعلقات کے فروغ کے ضمن میں اہم قدم ہے۔ انھوں نے سعودی عرب کے آرمی چیف کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور علاقائی امور پر بھی بات چیت کی ہے۔ واضح رہے کہ عراق کے کسی سینیئر فوجی عہدے دار کا عشروں کے بعد سعودی عرب کا یہ پہلا دورہ ہے۔

شاہ سلیمان کا دور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز ثابت ہو رہا ہے۔ شاہ سلیمان بن عبدالعزیز نے جب اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تو دہشت گردی کے علاوہ جس چیلنج کا انہیں سامنا تھا وہ دنیا کے ساتھ خوشگوار سفارتی تعلقات کی بحالی تھی جو عام طور پر نظر انداز کی جاتی رہی ہے۔ اپنے دور میں سعودی عرب نے روایتی سفارتکاری سے ہٹ کر چین اور روس کے ساتھ بھی اپنے تعلقات کو نئے سرے سے استوار کیا۔ یہ وہ مثبت تبدیلیاں ہیں جو خلیجی ممالک میں نظر آرہی ہیں تاہم اس موقع پر امریکی وزیر خارجہ ٹیلرسن کا دور ہ کئی شکوک و شبہات کو جنم دے رہا ہے۔ سعودی عرب کے مخالف طبقے کی جانب سے اس دورے کو مشرق وسطیٰ میں ایک نئی صف بندی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ بعض عناصر اس دورے کو ایران کے خلاف ایک نئے اتحاد کی شکل دے رہے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ عراق و سعودی عرب کے تعلقات کی بحالی کا امریکہ کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے اور اسے امریکی مفاد کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے تاہم اگر غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو یہ اتحاد خطے میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور اس کے خلاف جاری جنگ کے لیے نہایت ضروری تھا۔ سعودی عرب اور عراق کے لیے داعش کی شکل میں ایک مشترکہ خطرہ خطے میں موجود ہے جو صرف ان دونوں کے لیے ہی نہیں بلکہ ترکی، ایران اور دیگر ممالک کے لیے بھی اتنا ہی خطرناک ہے۔ اس لیے دہشت گردی کی اس جنگ میں کامیابی کے لیے ان دونوں ممالک کا اتحاد ناگزیر تھا دوسری طرف اس پراپیگنڈہ کو دور کرنا بھی ضروری تھا جس میں عراق میں داعش کی موجودگی کو سعودی عرب سے منسوب کیا جا تا رہا ہے۔

جہاں تک امریکی وزیر خارجہ کا دورہ تو یاد رکھنا چاہیے کہ امریکہ کے اپنے مفادات ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے یہ دورہ دراصل سعودی عرب کو قطر کے ساتھ تعلقات کی بحالی پر رضامند کرنا تھا جس میں وہ ناکام رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اس دورہ کے موقع پرسعودی عرب سے عالم اسلام کے تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کے لیے ان خبروں کو جان بوجھ کر پھیلایا گیا کہ سعودی عرب کے اعلیٰ عہدیدار نے اسرائیل کا دورہ کیا ہے۔ سعودی وزارت خارجہ کے ایک ذریعے نے کہا ہے کہ’’سعودی عرب سے ایک عہدہ دار کے اسرائیل کے دورے سے متعلق رپورٹس مکمل طور پر غلط اور بے بنیاد ہیں۔ ان میں کچھ بھی سچائی نہیں ہے‘‘۔ ایک بیان میں وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’مملکت سعودی عرب اپنی تحریک وحرکت اور ابلاغیات میں ہمیشہ شفاف رہی ہے اور اس ضمن میں اس نے کبھی کچھ نہیں چھپایا، میڈیا ذرائع کو مواد کی اشاعت سے قبل حقائق کی چھان پھٹک کر لینی چاہیے۔ کسی معلوم ایجنڈے کی بنیاد پر پھیلائی جانے والی اس طرح کی افواہوں اور رپورٹس پر کوئی توجہ نہیں دی جائے گی۔ مستقبل میں ایسے میڈیا کی کسی رپورٹ یا خبر پر کوئی تبصرہ نہیں کیا جائے گا جو جھوٹ کی تشہیر کا عاد ی ہے اور مملکت سعودی عرب کے بارے میں جارحانہ طرز عمل رکھتا ہے‘‘۔

اس سارے پراپیگنڈے کے باوجود یہ جان لینا چاہیے کہ بغداد اور ریاض کا اتحاد مشرق وسطیٰ میں ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ البتہ امریکی کردار کے حوالے سے دونوں ممالک کو احتیاط کا مظاہرہ کرنا ہو گا کہ امریکہ نے پر اس اتحاد کی راہ میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی ہے جو اس کے لیے استعمال نہ ہو۔ اس اتحاد سے کسی ملک بالخصوص ایران کو پریشان ہونے کی بجائے اس پر مثبت ردعمل دینا چاہیے کیونکہ عراق میں داعش کی موجودگی سعودی عرب عراق کے ساتھ ساتھ ایران کے لیے بھی اتنی ہی خطرناک ہے۔ البتہ شام میں جاری جنگ میں ایران کو اپنا رویہ تبدیل کرنا ہو گا۔ مذاکرات اور مل بیٹھ کر شام کی خانہ جنگی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے ایران اور سعودی عرب کو بھی ایک ساتھ بیٹھنا پڑے گا کیونکہ یہ خطہ مزید کسی بڑی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔