اقامتِ دین کے لیے احتجاجی مطالباتی تحریک کا راستہ - وقاص احمد

قارئین کو یاد ہوگا کہ 2016میں PEW کے ایک بڑے سروے میں، جو کہ ایک انتہائی بااثر اور بااعتماد امریکی تھنک ٹینک سمجھا جاتا ہے، یہ نتائج سامنے آئے تھے کہ دنیا میں سب سے زیادہ پاکستانی عوام اس بات کی خواہشمند ہیں کہ پاکستان کے تمام قوانین شریعت ِ اسلامی کے پابند ہوں۔ جی ہاں! 78 فیصد تو سختی سے اور اگلے 16 فیصد لوگوں نے معاشرے اور ماحول کے حوالے سے اور ایک حد قانونی طور پربھی اس تمنّا کا اظہار کیا کہ ملک کا نظام اور اس کے قوا نین کا استنباط قرآن و سنت سے ہو۔ سروے کے مطابق یہ کل 94 فیصد بنتے ہیں۔ اس سروے نے کم از کم اس بات پر ایک اور مہرتصدیق ثبت کردی کہ پاکستان کا وجود اسلام کے نام پر ہے اور یہ کہ اس کی عوام کی امنگوں کا مرکز اسلام اور قرآ ن و سنت ہے۔

یہ بات اکثر مذہبی، دینی حلقوں، فورمز اور اجلاسوں میں زیرِ بحث رہتی ہے کہ اگرچہ پاکستان میں عوام کی غالب اکثریت اپنے معاملات اور مسائل کا حل اسلامی فقہ اور شریعت کے مطابق چاہتی ہے لیکن دوسری طرف مذہبی سیاسی جماعتیں الیکشن اور حلقہ کی سیاست میں بری طرح ناکام کیوں رہتی ہیں؟ اس کی سادہ سی وجہ تو یہ ہے کہ عوام میں یہ تاثر عام ہے کہ مذہبی جماعتیں اسلام کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتی ہیں اور بنیادی طور پر یہ کسی بھی عام سیاسی پارٹی کی طرح کرسی، ممبری، طاقت، فنڈز اور خزانے کے کھیل کا حصہ ہیں اور اس تاثر کے پیچھے وزنی حقائق بھی ہیں۔ پھر ہر دو سرے انتخابی حلقے میں اسلام بمقابلہ اسلام نظر آتا ہے گویا یہ مسلک کی جنگ بن جاتی ہے جس سے اسلام سے محبت کرنے والا عام پاکستانی خاص طور پر پھیلتی ہوئی مڈل کلاس شدید خار کھاتی ہے۔ ستم بالائے ستم کامیابی کے حصول، حکومت میں وزارتوں کے لیے دینی جماعتیں سیکولر جماعتوں سے تعاون اور مفاہمت سے دریغ نہیں کرتیں جس کا لا محالہ ایک عام پاکستانی پر منفی اثر پڑتا ہے۔ 70 سال کے تجربات ہمارے سامنےہیں۔ خاص طور پر متحدہ مجلس عمل کا تجربہ بھی نفاذِ شریعت کے حوالے سے قطعی ناکام رہا اور اسی تمام عرصے میں جب عام پاکستانی کو کسی عصبیت یا کسی حسین خواب پر مبنی کوئی نعرہ سنائی دیتا ہے تو وہ انتخابات میں اس کے نام کا ٹھپہ لگا آتا ہے۔

نتیجتاً پاکستان کے اجتماعی نظام میں پائے جانے والے غیر شرعی عناصر کی مقداراور تعداد میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ ریاستی نظام اور عدالتی نظام تو پہلے ہی انگریز کا ترتیب دیا ہوا ہے۔ 96 فیصد مسلمانوں کے ملک کی معیشت سود پر استوار ہے۔ بے لگام ایلکٹرانک میڈیا کے ذریعے پورے ملک میں عریانی اور فحاشی یعنی ابلیسی تہذیب کا سیلاب نظر آتا ہے۔ حکومتی سطح پر اس کی سر پر ستی کی جارہی ہے اور اسلامی معاشرتی تعلیمات اور دینی اقدار کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ ملک کے ابتر معاشی حالات ہمارے سامنے ہیں۔ قرض اور سود کے انبار لگے ہیں۔ اسلامی طرزِ حکمرانی کے بالکل برخلاف ہماری سیاسی اشرافیہ سادگی تو دور کی بات اپنی عیاشی میں بھی کچھ کمی کرنے کو تیار نہیں ہے۔ آج بحیثیت ِ قوم ہمارا پورا اجتماعی نظام اللہ اور اس کی رسول ﷺ سے کھلی بغاوت کی غمازی کر رہا ہے۔ چنانچہ ازروئے آیت ِ قرآنی ہم ذلت اور مسکنت کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔

ان سب چیزوں کی ذمہ داری حکمرانوں پر تو آتی ہے لیکن جب حکمران اپنی ذمہ داری پوری نہ کر رہے ہوں تو اس کی براہ راست ذمہ داری رجالِ دین پر عائد ہوتی ہے۔ دینی جماعتوں نے اپنی اہم ترین دینی ذمہ داریوں یعنی منکرات کے خلاف بھرپور جہاد باللسان کے تقاضے پورے کرنے اور عوام الناّس کی اسلامی اور ایمانی حوالوں سے مثبت ذہن سازی کرنے اور اسی طرح ملک میں نظامِ مصطفیٰ ﷺ کے نفاذ کے لیے انہیں آمادہ ِعمل کرنے کی طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ حالانکہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی تحریک چلانے کا ماحول بہت سے حوالوں سے سازگار ہے۔ دستور میں موجود اسلامی دفعات اور شقیں ہماری پشت پر ہیں۔ مسالک کے اختلافات کے با وجود ان کے چوٹی کے علماء 1949ء میں اسلام کے نفاذ سے متعلق 31بنیادی نکات پر متفق ہو چکے ہیں۔ اور الحمدللہ ’’ملی یکجہتی کونسل ‘‘ نے بھی ماضی قریب میں اپنے پلیٹ فارم سے 1949ء کے متفقہ اعلامیہ کا اعادہ کیا۔ اسلامی نظریاتی کونسل 1962 ء سے سرگرمِ عمل ہے اور اسلامی قوا نین بنانے میں بہت سا گرانقدر کام مکمل کر چکی ہے۔ چونکہ یہ ایک آئینی ادار ہ ہے جس میں تمام مسلکوں کی نمائندگی ہے اسلیے اسے ملک کے تمام دینی مکاتب اور مذہبی مسالک کے اہل علم کا اتفاق حاصل ہوتا ہے۔ آئین کے مطابق اس کی سفارشات کو قومی اسمبلی میں پیش کرنا اور اس کو منظور کرکے نافذ کرنا حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے جس میں مجرمانہ غفلت برتی جارہی ہے۔ وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ طویل بحث و جرح کے بعد بینک کے سود کو حرام کہہ چکی ہے۔ (بعد میں فوجی حکومت نے نظر ثانی کی پٹیشن ڈال کر ایپلٹ کورٹ کے ججز تبدیل کر دیے اور قوم کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے حا لت جنگ میں برقرار رکھا )۔ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی سفارشات پر اسلامی قانون سازی کرکے نظامِ مصطفی ﷺ ٰ کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔

جہاں تک تمام مذہبی جماعتوں کا متحد ہوکر پرامن مطالباتی احتجاجی تحریک چلانے کا تعلق ہے اس میں جب بھی دینی جماعتوں نے کسی دینی مسئلے پر متحد ہو کر عوامی تحریک کا راستہ اختیار کیا، اللہ رب العزت نے ہمیشہ کامیابی عطا کی۔ 1974 ء میں اینٹی قادیانی موومنٹ، اور ابھی صرف پانچ سال قبل ’’ تحفظ ناموسِ رسالت کی تحریک‘‘ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ عدلیہ بحالی تحریک بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اقامت دین تو خیر بہت ہی بڑا مقصد اور مشن ہے اگر صرف چند لاکھ لو گ بھی اس سے کہیں ہلکے درجے کی تعدّی، ظلم و زیادتی، حق تلفی کے خلاف ڈٹ جائیں، قربانیاں دیں تو کامیابی اللہ کے فضل سے ملتی ہے۔ لیکن افسوس اور رنج کا مقام ہے کہ نظام مصطفیٰﷺ کے حوالے سے، جسکی دنیاوی اور سب سے بڑھ کر اخروی برکات کا ملنا ایک مسلمان کا سب سے بڑا حق ہے اور حکمرانوں کا استطاعت کے باوجود عوام کو اس سے محرو م رکھنا بہت بڑا ظلم ہے، آج تک کو ئی حقیقی تحریک علماء اور دینی جماعتوں کی جانب سے برپا نہیں ہوئی۔

ملّی یکجہتی کونسل کی ایک رکن جماعت ’’تنظیمِ اسلامی‘‘ برسوں سے نفاذِ نظامِ مصطفیٰ ﷺکے لیے، اِس خاص لائحہ عمل کی طرف، پاکستان کی تمام دینی جماعتوں اور علماء کی توجہ مرکوز کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔ تنظیمِ اسلامی شاید ہم میں سے کچھ لوگوں کو علم نہ ہو، نہایت قابلِ احترام اور دنیائے اسلام و پاکستان کے مایۂ ناز خادم ِ قرآن اور دینی اسکالر جناب ڈاکٹر اسرار احمد رحمۃ اللہ علیہ کی بنائی ہوئی تنظیم ہے جو 1975 ء سے پاکستان میں انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر حقیقی انقلابی تبدیلیاں لانے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔ نظام میں وہ بڑی تبدیلیاں جن کی بنیاد قرآن حکیم اور سنت ِ رسول ﷺ ہے۔ تنظیم میں شمولیت کے قدرے کڑے نظام، اپنے دقیق اور پر مغز تربیتی پروگرام، انتخابی سیاست سے پرہیز کے باوجود گہری سیاسی فکرو نظر، او ر پاکستان میں دینی مطالبات منوانے کے لیے پرامن احتجاجی تحاریک کو وقتی اور جذباتی حربے کے بجائے مکمل شعور اور بصیرت کے ساتھ بروئے کار لانے کے نظریات کی وجہ سے تنظیم ِ اسلامی کو پاکستان میں متحرک تمام دینی، اصلاحی، تبلیغی تحریکوں اور جماعتوں میں ایک منفرد مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ تنظیمِ اسلامی کے اس مؤقف کی تائید اپریل 2010ء میں جامعہ اشرفیہ لا ہور میں منعقدہ اکابر ِ دیوبند کے ایک اہم سہ روزہ اجلاس میں بھی ہوئی۔ اجلاس کے آخر میں غور و خوص کے بعد متفقہ اعلامیہ ’’ متفقہ تشخیص‘‘ کے عنوان سے ایک کتابچہ کی صورت میں شائع کیا گیا۔ جسمیں کہا گیا کہ’’ ملک میں انتہا پسندی کی تحریکیں اس لیے اٹھ رہی ہیں کیونکہ یہاں حکمرانوں نے اسلام کے نفاذ کے لیے کوئی حقیقی کوششیں نہیں کیں۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے مقاصد پر نفاذِ شریعت کے مطالبے کو اولیت دیکر حکومت پر دباؤ ڈالیں، اور اس غرض کے لیے مؤثر مگر پر امن جدو جہد کا اہتمام کریں۔ اور عوام کا فرض ہے کہ وہ اس جدو جہد میں بھرپور رتعاون کریں۔ ‘‘

اگر ملّی یکجہتی کونسل تمام دینی جماعتوں کو تحریک کے لیے یک جہت اور متحد کرنے کا عزم کرلے تو ان شاء اللہ اصل مقصود یعنی غلبہ و اقامتِ دین یعنی نظام مصطفیٰﷺ کا نفاذ یقینی بنایا جاسکتا ہے۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.