اطمینان و اضطراب - مفتی منیب الرحمٰن

الحمد للہ علیٰ احسانہٖ! پوری قوم اور ریاستی اداروں نے اطمینان کا سانس لیا کہ نہ صرف یومِ عاشوراور عشرۂ محرم الحرام بلکہ پورا محرم الحرام خیریت سے گزر گیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔فکرمندی کا عالَم یہ تھا کہ جیسے سب کی سانسیں رکی ہوئی ہوں۔ وفاقی وزیر داخلہ جناب احسن اقبال کوعاشورہ کے دن ٹیلی وژن چینل پر یہ کہتے ہوئے سنا: ’’دعا کریں آج کا دن خیریت سے گزر جائے‘‘،یہی الفاظ وزیر اعلیٰ سندھ جناب سید مراد علی شاہ کی زبان سے بھی سنے۔ الغرض سب اضطراب اور بے چینی کے عالم میں تھے۔ امن وامان کے حصول کی یہ معراج آسانی سے نصیب نہیں ہوئی، اس کے لیے ملک وقوم نے بھاری قیمت ادا کی اور پورے وسائل صَرف کیے۔ محرم الحرام کے آغاز سے پہلے ہی پاکستان بھر میں مختلف سطحوں پر اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ رینجرز، پولیس، سوِ ل انتظامیہ اور حکمرانوں نے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے ساتھ اجلاس منعقد کیے۔یقینا قومی سلامتی اور امن وامان قائم کرنے والے اداروں نے بھی اپنے اجلاس ہر سطح پر منعقد کیے، مشترکہ حکمت عملی مرتب کی گئی، کنٹرول روم قائم کیے گئے، ملک بھر میں پولیس کے علاوہ رینجرز اور فرنٹیئرکانسٹیبلری کی تعیناتی(Deployment)ہوئی اورفوج بھی ہائی الرٹ پوزیشن میں رہی۔

ظاہر ہے جب معمول کے انتظامات سے ہٹ کر خصوصی انتظامات کرنے پڑتے ہیں تو غیر معمولی اضافی اخراجات بھی آتے ہیں،تاہم انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں لگائی جاسکتی، اس کے تحفظ کے لیے جو کچھ بھی کیا جاسکے کم ہے، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:’’اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کردیا کہ جس شخص نے جان کے بدلے جان یا زمین پر فساد پھیلانے کے ( جرم کے) بغیر کسی ایک (بے قصور)شخص کو قتل کیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کیا اور جس نے کسی ایک (بے قصور)شخص کی جان کو بچالیا تو گویا اس نے تمام انسانوں کی جان کو بچالیا، (المائدہ:32)‘‘۔اس آیت ِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ایک بے قصورانسان کی جان بچانے کوتمام بے قصورانسانوں کی جانوں کو بچانے کی مثل قرار دیااور ایک بے قصور انسان کے قتل کو تمام انسانوں کے قتل سے تعبیر فرمایا ہے،حدیث پاک میں ہے: ’’عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی ﷺ نے فرمایا: ایک (بے قصور)مسلمان کے قتلِ(ناحق) کے مقابلے پورے نظام کائنات کی بساط کو لپیٹ دینا اللہ تعالیٰ کے نزدیک معمولی بات ہے،(جامع ترمذی:1395،سنن نسائی:3986)‘‘، یعنی جان کے خالق کے نزدیک ایک مسلمان کی نعمتِ جان کی قدر وقیمت پوری کائنات سے بڑھ کر ہے، حالانکہ یہ سارا کارخانۂ قدرت بھی اسی قادرِ مطلق کی تخلیق ہے۔لیکن ہم سب کے لیے خجالت اور شرمندگی کی بات یہ ہے کہ ملک کے اندر فساد اور خوں ریزی کی جولہر جاری ہے، اس میں سے ایک بظاہرمذہب کے عنوان سے بھی ہے، کیونکہ مذہبی تعبیرات کی ہر ایک کو کھلی آزادی ہے، اس کے لیے کسی معیارِ علم کی ضرورت نہیں ہے۔ کہاجاتا ہے کہ اس فساد کے پیچھے عالمی ایجنسیوں کی کارفرمائی ہے، الغرض را،سی آئی اے، ایم ون سکس، موساد،این ڈی ایس اور نہ جانے کون کون سی ایجنسیاں پاکستان کے اندر اپنی جاسوسی کا ابلیسی جال پھیلائے ہوئی ہیں۔طفل تسلی کے طورپر ہم اِس جواز کا سہارابھی لے سکتے ہیں، لیکن برسرِ زمین ان کے آلۂ کار اور کارندے اکثر صورتوں میں مقامی لوگ ہی ہوتے ہیں۔ غیر ملکی افراد کے طور پرماضی قریب میں صرف ریمنڈ ڈیوس اور کلبھوشن سدھیر یادو کے نام ریکارڈ پر آئے۔

علاوہ ازیں پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جلوس کی مرکزی گزرگاہ محمد علی جناح روڈ کو 7محرم الحرام کی شب سے ہی سیل کرنا شروع کردیاجاتاہے، چند گزرگاہوں کو چھوڑ کرایم اے جناح روڈ کی دونوں اطراف کی لنک روڈز کو کنٹینرز کے ذریعے ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کردیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بڑی مارکیٹوں میں 8محرم الحرام سے ہی کاروبار بند ہوجاتاہے۔ یقینا دوسرے بڑے شہروں میں بھی اسی طرح کے یا اس سے ملتے جلتے انتظامی اوراحتیاطی اقدامات کیے جاتے ہوں گے۔ مزید براں تین دن تک موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بند ہونے سے عام شہریوں کی مشکلات کے علاوہ حکومت بھی محصولات کی ایک معتد بہ رقم سے محروم ہوجاتی ہے۔ شوقیہ استعمال کے علاوہ آج کل موبائل فون اور انٹرنیٹ ملک کے اندر اور بیرونِ ملک انسانی روابط کے ساتھ ساتھ کاروباری معاملات میں بھی استعمال ہوتے ہیں۔ پس بحیثیت مجموعی یہ بھاری قیمت ہے جو قوم وملک کو ادا کرنی پڑتی ہے۔ اس لیے میں نے ’’اطمینان واضطراب ‘‘ کا عنوان قائم کیا ہے کہ اتنے انسانی اور مالی وسائل صَرف ہونے کے باوجود اضطراب اور بے یقینی کی کیفیت جاری رہتی ہے تاوقتیکہ پورا محرم الحرام خیریت سے گزر جائے، اس کے بعد بھی چہلم کے جلوس کا مرحلہ صفر المظفرکے تیسرے ہفتے تک باقی رہتا ہے اوراہلِ تشیُّع کے علماء حضرات گورنرہاؤس میں منعقدہ اجلاسوں میں بتاتے ہیں کہ بحیثیت مجموعی ان کی مذہبی تقریبات نو ربیع الاول تک جاری وساری رہتی ہیں۔

اضطراب کا لفظ تو میں نے احتیاط کے طور پراستعمال کیا ہے،ورنہ درحقیقت یہ صورتِ حال ہمارے مذہبی طبقات سمیت پوری قوم کے لیے ندامت کا باعث ہے کہ پاکستان میں مسلمانوں کی جانوں کو مسلمانوں سے خطرہ ہے۔ ہمارے ہاں مذہبی تقریبات، مساجد، مزارات اور امام بارگاہیں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ جب بھی درست یا غلط کسی وقوعے کے شواہد یا مجرم یا مشتبہ افراد منظر عام پر لائے جاتے ہیں، چند مستثنیات کے سواان میں سے اکثر کا تعلق وطنِ عزیز سے ہی ہوتا ہے۔ ایک اور المیہ یہ ہے کہ کوئی بھی مذہبی جماعت اپنے انتہاپسندوں کو ناراض کرنے کا خطرہ مَول نہیں لے سکتی اور نہ ہی ان پر کوئی روک ٹوک عائد کرسکتی ہے۔

انقلابِ ایران کے بعد ایران عراق جنگ کے نتیجے میں ہمارا وطن عزیزمذہبی طبقات کی پراکسی وارکے لیے تختۂ مشق بنا اور یہ سلسلہ کسی نہ کسی انداز سے آج بھی جاری ہے۔ ایک وقت تھا کہ امریکہ، یورپ، مشرقِ وُسطیٰ بالخصوص سعودی عرب سمیت تمام ممالک افغان جہاد کے پشتیبان تھے اور اس کا کریڈٹ لیتے ہوئے ان کا سر فخر سے بلند ہوجاتا تھا۔ نائن الیون کے بعد حالات تبدیل ہوئے، معیارات بدل گئے، کل کے دوست آج کے دشمن گردانے گئے۔ اب ماضی کی جہاد کی پشتیبان عالمی قوتوں کے نزدیک جہاد کا تصور ناقابلِ قبول ہے، سوویت یونین کے خلاف جہاد کا دوراب قصۂ ماضی ہے۔ اب ائمۂ حرمینِ طیبین، امام الحج اور سعودی عرب میں دیگر سرکاری مذہبی مناصب پر فائز مذہبی شخصیات نام نہاد جہادی عناصر کو خارجی، تکفیری اور دشمنِ اسلام قرار دے رہی ہیں، جہاداب فساد کے ہم معنی ہوگیا ہے۔ القاعدہ اورداعش کے نزدیک جمہوریت کفر ہے۔ مسلم ریاستوں کے حکمران اور حکومتی نظم میں اُن کے معاون تمام طبقات پر یہی حکم لگاکر واجب القتل قرار دیاجاتا ہے۔ مشرقِ وُسطیٰ میں پہلی باراس طبقے نے برسرِ زمین بعض علاقوں پر تسلّط جماکر اپنا حکومتی نظم بھی قائم کردیا۔ جب تک اس آگ میں ہم جل رہے تھے، سعودی عرب میں راوی چین لکھتا تھا، مگر جب یہ تپش ان تک پہنچی تو انہوں نے فتوے جاری کرنا شروع کیے۔جس جہادی کلچر کا بیج بویا جاچکا تھا، اب وہ ہر سو برگ وبار لارہا ہے، اس کی پنیری کی نمو کی رفتار بہت تیز ہے اور ’’یہ وہ نشہ نہیں، جسے ترشی اتار دے‘‘کے مصداق اب یہ لا علاج متعدی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اب یہ:’’اِدھر ڈوبے،اُدھر نکلے، اُدھر ڈوبے،اِدھر نکلے‘‘کامظہر ہیں۔

ہمارے ہاں ایک اور المیہ یہ ہے کہ سارے کام ایڈہاک ازم کی بنیاد پر کیے جاتے ہیں، حکمت ودانش اور تدبرپر مبنی دیرپا منصوبہ بندی کے مظاہر ہمارے ہاں کم ہی نظر آتے ہیں۔ خاص مواقع پر علماء کو بلانے میں ایک مستور پیغام یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی درجے میں علماء پر بھی اس کی ذمے داری عائد ہوتی ہے۔ کیا ریاست کی یہ ذمے داری نہیں ہے کہ وہ مسلح پرائیویٹ گارڈز کے ہمراہ لینڈ کروزر اور پراڈوپر گھومنے والوں کے بارے میں تحقیق کریں کہ ان کے مالی وسائل کیا ہیں۔ پس جن طبقات کے آگے ریاست یا حکومت بچھ جائے، ان کے بارے میں علماء سے یہ توقع کرنا کہ وہ اس بے مہار گھوڑے کو نکیل ڈالیں گے، عبث ہے۔یہ بھی سننے میں آتا ہے کہ بعض گروہوں کے اداروں سے روابط ہوتے ہیں اور وہ ان کے لیے ’’داشتہ آید بکار‘‘ کے مصداق استعمال ہونے کے لیے دستیاب ہوتے ہیں۔سو اس کے لیے ایک دیرپا قابل عمل حکمت عملی درکار ہے اور یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ ان کا کنٹرول کس کے پاس ہوگا،کیونکہ ہمارے ہاں طاقت کے متوازی مراکز ہیں۔ مختلف مسالک کی پیشہ ورانہ مسلکی تنظیمیں ہیں،جو مجالس اور جلوسوں کا انعقاد کرتی ہیں، یہ ان کا ذریعہ معاش بھی ہے، پس جب دین مشن کی بجائے معاش بن جائے توآپ مفاسد کے امکان کو ختم نہیں کرسکتے۔

آج کل بھی اپنے اپنے حلقۂ اثر میں توسیع کے لیے مشرق وسطیٰ میں ایران اور سعودی عرب میں کشمکش بپا ہے اور یہ کئی ملکوں پر محیط ہے۔اس کی شدت کا عالم یہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران پر تازہ پابندیاں عائد کرنے کے حوالے سے تاحال یورپین یونین اور انٹرنیشنل اٹامک انرجی کمیشن ایران کی حمایت کر رہے ہیں کہ وہ ایٹمی معاہدے کی پاسداری کر رہا ہے، جبکہ سعودی عرب امریکہ کی حمایت کر رہا ہے اور وہ ایران کو اسرائیل سے بڑھ کر عالم عرب کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے۔ جب تک سعودی عرب اور ایران کے درمیان یہ مسائل حل نہیں ہوں گے، پاکستان مشکل میں رہے گا،اسے سعودی عرب کو اپنی بے لوث وفا اور ایران کو اپنی غیر جانبداری کا یقین دلاتے رہنا ہوگا اور اس کے باوجود دونوں کے نزدیک مشتبہ قرار پائے گا۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایران اپنی جنگ خود لڑتا ہے اور سعودی عرب کو جنگ کے لیے افرادی قوت بھی درکار رہتی ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */