دیکھنا ہی نہیں… ہم کو سوچنا بھی ہے! - افشاں نوید

کل میڈیکل یونیورسٹی میں ’’متاثرینِ صدمہ کی نفسیاتی بحالی‘‘ کے عنوان پر معروف ماہرِ نفسیات لیکچر دے رہے تھے۔ بعد ازاں سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ طالبات اُن سے سوال پوچھ رہی تھیں کہ وہ خوف سے اس حد تک متاثر ہیں کہ رات کو سوتے سوتے گھبرا کر اٹھ بیٹھتی ہیں۔ ایک طالبہ نے جس کا تعلق گلستانِ جوہر سے تھا، کہا کہ ’’میں اطراف سے گزرتے ہر فرد کو اس خوف سے دیکھتی ہے کہ اُس کے پاس چھرا چھپا ہوا ہے۔ سب لوگوں پر سے اعتماد اٹھ گیا، کوئی موٹر سائیکل سوار نزدیک سے گزرے تو دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے کہ بس اب چھرا نکالا‘‘۔

ماہر نفسیات نے جواباً کہا کہ ’’پسماندہ ممالک ہی نہیں، ترقی یافتہ ممالک میں بھی اس طرح کے غیر معمولی واقعات وقوع پذیر ہوجاتے ہیں۔ مثلاً ایک ذہنی مریض نے اسکول کے بچوں پر فائر کھول دیا، یا کسی میوزیکل کنسرٹ میں اندھا دھند فائرنگ شروع کردی، ایسے واقعات ہر سماج کا حصہ ہیں۔ ظاہر ہے کہ کوئی عام آدمی راہ چلتے کسی فرد کو بلاوجہ چھرا مارنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ مگر موجودہ واقعے میں شاید وہ فرد اتنا قصوروار نہیں ہے، کیوں کہ وہ لازماً ہوش و خرد سے بے گانہ ہے، یا انتقام کی آگ میں اندھا ہے۔ اصل بات کیا ہے؟ یہ تو اُس کے پکڑے جانے پر تفتیش سے ہی معلوم ہوسکے گا، مگر اس واقعے کا اصل ذمے دار اور مجرم ہمارا میڈیا ہے۔ اس واقعے کو اتنی کوریج دینا، مسلسل اس کو بریکنگ نیوز بناکر پیش کرنا، بار بار متاثرین کے انٹرویو نشر کرنا… وہ درجن بھر خواتین جو جسمانی اذیت کا شکار ہوئیں، علاج ہونے پر جلد صحت یاب ہوجائیں گی لیکن علاقے میں موجود ہزاروں خواتین جس نفسیاتی صدمے سے دوچار ہوئی ہیں، جو سماجی نقصان ہوا ہے وہ میڈیا کی غیر ذمہ دارانہ روش کی بنیاد پر ہے، اس لیے اصل مجرم میڈیا ہے۔

میری بیٹی نے جو میڈیکل یونیورسٹی کی طالبہ ہے، جب گھر واپس آکر آج یونیورسٹی میں ہونے والے اس سیشن کی روداد سنائی تو مجھے صبح اپنی کام والی کی گفتگو یاد آگئی جو میری ہی بچی کی ہم عمر ہے۔ یہیں گلستانِ جوہر کی کچی آبادی سے آتی ہے۔ آج دو دن بعد آئی۔ میں نے وجہ پوچھی تو بولی ’’باجی مجھے چھرے والے سے بہت ڈر لگتا ہے۔ ہمارے محلے کی کوئی بھی عورت کام پر نہیں گئی۔ اب تو سبزی لینے کے لیے بھی عورتیں گھروں سے نہیں نکل رہی ہیں، بچے بھی گھروں میں دبکے رہتے ہیں کہ کہیں چھرے والا گھر کے باہر ہی نہ کھڑا ہو، میں آج بھائی سے ضد کرکے آتو گئی مگر بس میں سوار ہوتے ہوئے ڈر رہی تھی کہ بس میں چھرے والا گھس آیا تو کیا ہوگا؟ میں بس سے اتر کر سارا راستہ ڈر ڈر کر پیچھے دیکھتی رہی کہ کہیں وہ میرے ہی پیچھے نہ آرہا ہو۔ میں کلمہ پڑھتی ہوئی آپ کے گھر آگئی، اگر آج خیریت سے گھر واپس چلی گئی تو کل آجاؤں گی۔ اگر کل نہ آؤں تو سمجھ لیجیے گا کہ مجھے چھرے والے نے مار دیا ہے‘‘۔ اس دن اُس نے کچھ کھانے پینے سے انکار کردیا۔ اس کا سہما ہوا وجود اور پھیکا پڑا چہرے کا رنگ غمازی کررہا تھا کہ وہ اپنے گھر میں بھی کس قدر حالت ِ خوف کا شکار رہی ہے۔

وہ تو ایک ناخواندہ لڑکی ہے اس طرح ہی سوچ پائی، اُس کے الفاظ اُس کی سوچوں کے عکاس بن گئے۔ لیکن میری بیٹی نے بتایا کہ یونیورسٹی میں بھی لڑکیاں چھرے والے ہی کی گفتگو کرتی رہتی ہیں۔ علاقے کی کچھ بچیاں یونیورسٹی کی بس کے بجائے اپنے والد یا بھائی کے ساتھ گاڑی میں آنے کو ترجیح دے رہی ہیں، لیکن پوری یونیورسٹی میں یہ فوبیا پایا جاتا ہے کہ چھرے والا اب ہمارے علاقے میں نہ آجائے۔

کل ایک پروگرام میں محلے کی دو درجن کے قریب خواتین سے ملاقات کا موقع ملا، پتا چلا کہ نہ صرف بازاروں بلکہ تقریبات تک میں جانا انہوں نے چھوڑ دیا ہے، نہ شہر کے دوسرے علاقوں سے لوگ اُن کے یہاں آنے پر آمادہ ہیں کہ تم لوگ تو بہت خوف ناک علاقے میں رہتے ہو۔ بات اتنی نہیں کہ خواتین ڈرپوک ہوتی ہیں، جلد سہم جاتی ہیں، اس سے زیادہ خوف میں مبتلا گھروں کے مرد ہیں جو صبح ملازمتوں پر جاکر شام کو پلٹتے ہیں اور گھر سے دور یہی ہدایات دیتے رہتے ہیں کہ انتہائی ضرورت میں بھی گھر سے باہر جانے سے گریز کیا جائے۔

یہ بحث بے کار ہے کہ چھرے والا اب کس علاقے میں ہے؟ نہ یہ سوچے جانے کی بات ہے کہ کتنی خواتین زخمی ہوئیں؟ لوگ جس ذہنی صدمے سے دوچار ہوئے، معاشرے نے ان کو عدم تحفظ کا جو احساس دیا اس کا تدارک کیسے ہوگا؟ اس موضوع کو بھی جانے دیں۔ جو نقصان ہوچکا اس کا ازالہ کیسے ہو؟ آئندہ اس طرح کے اقدامات کی روک تھام کے لیے ریاستی اداروں میں سے کس کی کیا ذمہ داری ہے، اس پر بحث بے کار ہے۔ لکھنے والے لکھ چکے اور کہنے والے کہہ چکے۔ ہم اپنے ریاستی اداروں کی کارکردگی سے خوب واقف ہیں۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ جو اصل مجرم ہے یعنی ’’میڈیا‘‘ اُس سے بازپرس کون کرے گا؟ اس کے خلاف ’’سوموٹوایکشن‘‘ کون لے گا؟ اس کو عدالت کے کٹہرے میں کون گھسیٹے گا؟ یہ ریٹنگ کی دوڑ، سرمائے کی اندھی دوڑ، جس نے نام نہاد دانش وروں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں کو ڈس لیا ہے۔ بریکنگ نیوز کی تلاش میں اور اس تاج کو سر پر سجانے کی خواہش میں کہ ’’اس خبر کو سب سے پہلے آپ تک پہنچانے میں ہمارا چینل سرفہرست رہا‘‘ ہر ایک، دوسرے کو کچل رہا ہے۔ سماج کچلا جارہا ہے، لوگ حالت ِ خوف میں دھکیلے جارہے ہیں اور میڈیا پیسہ کمانے میں مصروف ہے۔ علاقے میں موجود جس اسپتال میں ان واقعات سے متاثرہ خواتین موجود تھیں وہ اسپتال اور باہر چاروں طرف کی گلیاں میڈیا کی گاڑیوں سے بھری رہتی تھیں۔ ہماری دوست کی بیٹی نے جو اس اسپتال سے ملحق میڈیکل کالج میں پڑھتی ہے، کہا کہ کالج میں میڈیا سے وابستہ لوگوں کی اتنی بڑی تعداد موجود رہتی ہے کہ معمول کی چلت پھرت اور جملہ امور کی انجام دہی بری طرح متاثر ہے۔ اگر میڈیا سے وابستہ یہ سیکڑوں لوگ (ظاہر ہے کہ ان میں زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی ہے) بجائے کیمروں کی آنکھ سے ان چند خواتین کو بار بار فلمانے کے، چھرے والے کا محاصرہ کرنے میں کوئی کردار ادا کرتے تو یہ قومی فریضہ ہوتا۔ ریاستی ادارے تو مجرمانہ حد تک غافل ہیں اپنے کردار سے۔ کسی چینل کے رپورٹر یا کیمروں کے ذریعے ہی مجرم تک رسائی ہوجاتی تو لوگ میڈیا کے مثبت کردار کو تسلیم کرلیتے۔

شہر کے ایک علاقے کا مسئلہ تھا۔ کیا اس کا محاصرہ اتنا مشکل تھا، جبکہ ہفتہ بھر میں درجن بھر سے زائد وارداتیں ہوئیں! حد تو یہ ہے کہ ایک ٹی وی چینل کے نمائندے نے مصنوعی طور پر چھرا باز بن کر سب چوک چوراہوں کا چکر لگایا اور خواتین کا پیچھا کیا اور ان کو ہراساں کیا (ساتھ ہی جس کی معذرت بھی کرلی) اور ثابت کیا کہ پورے علاقے میں مجھے کہیں کوئی پولیس، رینجرز، کسی ایجنسی کے سادہ لباس میں اہلکار نظر نہیں آئے جو مجھے مشکوک سمجھتے یا روکتے۔

اس وقت دنیا گلوبل ولیج میں تبدیل ہورہی ہے مگر ہم اس سمٹتی ہوئی دنیا میں اپنے اطراف سے کچھ سیکھنے، کوئی سبق لینے پر آمادہ نہیں۔ پچھلے برس مَیں عجمان سے شارجہ کے سفر میں تھی۔ ساتھ بیٹھی خاتون نے ایک کئی منزلہ عمارت کی طرف اشارہ کیا کہ یہ وہ بلڈنگ ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے آگ بھڑک اٹھی تھی اور پوری عمارت کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ بہت بڑا حصہ آگ سے متاثر ہوا مگر جانی نقصان کوئی نہ ہوا۔ عمارت پر اس وقت بھی سیاہ دھویں کے گہرے اثرات تھے۔ میں نے پوچھا کہ حادثے کی وجہ کیا تھی؟ بولیں ’’یہاں اس طرح کی خبروں پر پابندیاں ہیں۔ ہمیں پتا نہیں چل پاتا کہ کسی حادثے کی وجہ کیا تھی‘‘۔ اسی طرح آپ نے پچھلے دنوں دیکھا ہوگا کہ سعودی عرب میں حرم کے اطراف میں کچھ مجرمانہ کارروائیاں ہوئیں لیکن میڈیا کو ان کی اشاعت سے روک دیا گیا۔ دنیا کے مہذب معاشروں کے یہی اطوار ہیں۔ وہ علاقے سیل کردیے جاتے ہیں، میڈیا پر پابندی ہوتی ہے کہ سنسنی خیز خبروں اور معاشرے کی منفی تشہیر سے گریز کیا جائے۔

یہ ہمارا مادر پدر آزاد میڈیا ہے کہ بم دھماکے کی خبریں جب سب چینلوں پر چل جاتی ہیں تب تردید آجاتی ہے کہ دھماکا کریکر پھٹنے سے ہوا تھا۔ نہ وزارتِ اطلاعات و نشریات کو فراغت ہے، نہ پیمرا کو غرض ہے کہ اس کے اصول و ضوابط پر کتنا عملدرآمد ہورہا ہے، چاہے رمضان جیسے مقدس مہینے کو ہوسِ زر رکھنے والے نیلام کردیں یا مختلف ٹی وی چینل سیاسی جماعتوں کے نمائندے بن کر سیاست دانوں کو لڑاتے رہیں۔ لفافہ کلچر ہر قیمت پر جھوٹ کو سچ ثابت کرنے پر تلا ہے۔ کوئی نہیں کہ تجزیہ کرے کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا قوم کا کتنا نقصان کررہا ہے۔

سورۂ قریش میں بھوک اور خوف کا آزمائشوں کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔ بھوک پیٹ بھرنے سے مٹ جاتی ہے لیکن جن اذہان کو بار بار خوف تحفے میں دیا جاتا ہے اُن کو حالتِ خوف سے نکالنا حالتِ بھوک سے نکالنے سے سیکڑوں گنا زیادہ کٹھن کام ہے۔ ڈپریشن کے مریض چاہے جتنے بھی خوش حال ہوں اُن کی خوش حالی اُن کے لیے کوئی معنی نہیں رکھتی۔ پھر ایسے وقت میں جب ہمیں سرحدوں کے پار اپنے دشمن کے ارادوں اور سازشوں کا بھی علم ہو ہمارا داخلی استحکام کس قدر ضروری ہے۔ خوف زدہ اذہان کو فتح کرنا کون سا مشکل کام ہے! حالتِ خوف کسی قوم کو اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے قابل بھی نہیں چھوڑتا۔

آج ایک محدود علاقے کا مسئلہ تھا، کل کو یہی صورتِ حال پورے شہر کی ہوسکتی ہے خدانخواستہ۔ جب میڈیکل یونیورسٹی کی لڑکیاں اپنے استاد سے پوچھ رہی ہیں کہ حالتِ خوف سے کیسے چھٹکارا پائیں تو بات تشویش ناک ہوجاتی ہے۔ جن کو ماں باپ اور اساتذہ نے سالہا سال کی محنت کے بعد اس قابل بنایا تھا کہ وہ مسیحائی کا فریضہ انجام دیں جب اُن کو حالتِ خوف میں دھکیل دیا گیا، ایک فرد اپنی بقا کے لیے پریشان ہے، معاشرے نے اسے عدم تحفظ کا احساس دیا ہے، سماج پر سے اس کا اعتماد متزلزل ہوگیا۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں کہ تین گھنٹے کی فلم ختم ہوگی تو سب سینما گھر سے باہر نکل آئیں گے۔ ماہرینِ نفسیات ہی بتا سکتے ہیں کہ اس خوف سے نکلنے میں کتنا وقت درکار ہوتا ہے۔ خوف کی حالت انسان کی ساری صلاحیتوں کو کمزور کردیتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات و سماجیات جو بھی تدابیر بتائیں لیکن الیکٹرانک میڈیا کی جب تک حدود طے نہیں ہوں گی، سب لاحاصل ہے۔ میڈیا چاہے اقدار و روایات کی دھجیاں بکھیرے یا لوگوں کو نفسیاتی مریض بنائے۔ میڈیا سرمایہ کا غلام ہے۔ جہاں حکمران لوٹ کھسوٹ سے فرصت نہ پائیں وہاں میڈیا کی گرفت کون کرے گا؟ اس نظام کوبدلنے کی کوشش ہی اس وقت جہادِ اکبر ہے۔

Comments

افشاں نوید

افشاں نوید

روزنامہ جسارت میں کالم لکھتی ہیں۔ نوید فکر کے نام سے کالموں کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے، اسی عنوان سے 5 ماہناموں میں تحاریر شائع ہوتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */