شکوہ کریں تو کیوں؟ - مصباح الامین

شاید ہی کوئی انسان ایسا ہو جس کے دل میں خواہشات و مقاصد کا ایک سمندر نہ موجزن ہو۔ وہ ان کے حصول کے لیے شب و روز جستجو کرتا ہے لیکن اس دور میں پرآسائش زندگی گزارنے کے تو سب خواہاں ہیں، لیکن اس کے لیے درکار محنت سے کنّی کتراتے ہیں۔ نتیجہ، سوائے کفِ افسوس مَلنے کے کچھ نہیں نکلتا۔ہر شخص کامیابی تو چاہتا ہے لیکن کام کو پرائی نظر سے دیکھتا ہے اور حقیر سمجھ کر چھوڑ دیتا ہے۔ یوں معاشرے کے بوجھ میں اور اضافہ ہو جاتا ہے۔

درحقیقت، جو قومیں محنت و مشقت سے جی چراتی ہیں اور سہل پسندی و آسائش کی دلدادہ ہو جاتی ہیں، تو وقت کی تلوار انہیں نیست و نابود کر دیتی ہیں کیونکہ یہی قانون فطرت ہے۔انسانی تاریخ بھی ہمیں یہی درس دیتی چلی آئی ہے۔لگن اور محنت سے کام نہ کر کے وقت ضائع کرنا، نہ صرف فرد کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ اس قوم و وطن کو بھی نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔مختلف اداروں میں یہ بات آئے روز دیکھنے میں آتی ہے کہ ملازمین کام کے اوقات میں اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی کے ساتھ پوری نہیں کرتے مختلف طرح کے غیر ضروری کاموں میں لگے رہتے ہیں جبکہ اصل کام جو کرنے کا ہے، جس کا معاوضہ لیا جاتا ہے وہ یوں ہی پڑا رہتا ہے۔اس سے جہاں خود ان کی اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو زنگ لگ جاتا ہے وہا ں ملکی و ملّی مفادات سستی کی نظر ہوجاتے ہیں۔

اسلامی معاشرتی نظام بھی اس کی قطعاَ اجازت نہیں دیتا۔جب ایک شخص جو اپنے وقت کا پورا معاوضہ لیتا ہے جو سات، آٹھ گھنٹے ہیں، اور کام صرف ایک دو گھنٹے کرتا ہے اور بعض اوقات تو کچھ بھی نہیں کرتا، ایسا شخص کیوں کر کسی معاوضے کا مستحق ہو سکتا ہے؟ معاشرے کی اصلاح تب ہی ممکن ہو سکتی ہے جب ہر شخص چاہے وہ مزدور ہو یا صنعت کار، افسر ہو یا ماتحت ملازم، اپنے فرائض دیانت داری سے انجام دیتے جائیں اور اس میں کسی قسم کی سستی کا مظاہرہ نہ کریں۔

ہم اپنے اپنے حقوق کے لیے تو ہر وقت متفکر رہتے ہیں اور ہماری زبانوں پر اکثر یہ شکوہ رہتا ہے کہ ہمارے حقوق غصب کیے جارہے ہیں۔ ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہےجبکہ اپنے فرائض سے ہر شخص غفلت برتتا اور کوتاہی کرتا ہی نظر آتا ہے حالانکہ حقوق و فرائض کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔فرائض ادا کیے بغیر حقوق نہیں مل سکتے اور حقوق دیے بغیر فرائض کی صحیح انجام دہی ناممکن ہو جاتی ہے۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہر وقت اس کلیے کو مد نظر رکھیں اور فرائض احسن طریقے سے انجام دیں تا کہ حقوق کا حصول آسان ہو جائے۔ایک خوشحال اور فلاحی معاشرہ تب ہی تشکیل پا سکتا ہے جب ہر شخص محنت کو اپنا لے۔

جو لوگ محنت سے نہیں گھبراتے، کسی کام کو چھوٹا نہیں سمجھتے، کچھوے کی چال سے ہی سہی منزل کی طرف بڑھتے رہتے ہیں کامیابیاں ان کے قدم چومتی ہیں۔ ان کی زندگیوں سے "کاش اور افسوس" کا لفظ نکل جاتا ہے۔یہی محنت ان لوگوں کو عزت کی لازوال بلندیوں پر پہنچاتی ہے۔ہر کام کے ابتدا میں مشکلات ضرور آتی ہیں بلکہ مشکلات تو آتی ہی کامیابی کی راہ ہموار کرنے کے لیے ہیں۔جو شخص مشکلات سے کھیلنا سیکھ گیا وہ کامیابی کا راز سیکھ جاتا ہے۔بس پر خلوص لگن کے ساتھ مقصد کے حصول کے لیے اپنی تمام کوششیں بروئے کار لانے میں ہی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */