مجیب السائلین - عالیہ حسین

سب تعریفیں اس ذات کے لیے جو یکتا ہے، جس کا کوئی ثانی نہیں۔ وہی بے کسوں کا سہارا ہے، وہی بے یارومدگار کا والی، جس کی محبت نور ہے۔ جو کمزور دلوں کو اپنے ذکر سے مضبوط کیے ہوئے ہے، جس نے اپنے بندے کی خطاؤں کو اپنی عطا کی چادر میں چھپا رکھا ہے۔ ایک پکار پر سننے کے لیے تیار، زندگی کو اپنے نفع و نقصان کے حساب سے لے کر چلنے والے انسان کو سب سے زیادہ چاہنے والا، اس کا بہترین دوست، بہترین غمخوار۔ مگر اس محبت کا فیض ہر ایک نہیں پاتا۔ اس کے لیے اپنی روح کی پاکیزگی ضروری ہے۔ فانی دنیا کے اصل راز کو جاننے کے لیے تگ و دو کرنی پڑتی ہے۔ زند گی کی basic theory ہی فنا سے بقا کے سفر کی ہے۔ انسان آزمائشوں کے ساتھ اتارا گیا ہے۔ اس کی نشانیوں میں سمٹی یہ زندگی راہ عمل ہے۔ انسان خود سے لا علم ہو گیا ہے لیکن چیزوں کے حاصل کی طرف بھا گتا ہے۔ ہر چیز، ہر مخلوق کی existenceمعنی رکھتی ہے۔ عقل ہر چیز کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ ایک مقام، ایک حد ہے اس سے زیادہ عقل جتنا بھی زور لگا لے وہ کسی اور کے ہی تابع ہے جو کل عالم کا بادشاہ ہے۔

بندے کے لیے ہر دفعہ خواہشوں کو ضد بنا لینا درست نہیں ہوتا۔ سب سے زیادہ اذیت انہی خواہشوں پر کیا گیا اعتبار دیتا ہے۔ ایک دن اچھا گزر گیا اس کا یہ مطلب نہیں اگلا دن ویسا ہی ہو گا۔ یا پھر ایک دن برا گزرا تو اگلا بھی ویسا ہی ہو گا۔ نہیں، زندگی سرکل میں گھومتی ہے۔ اچھے کے ساتھ برا، اور برے کے ساتھ اچھا، مشکل کے ساتھ آسانی اور آسانی کے ساتھ آزمائش، زندگی unexpected ہے۔ وہ ذات آپ کو کہاں سے کیا عطا کرتی ہے یہ انسان کے گماں میں بھی نہیں اور وہ کیسی کیسی آزمائش میں ڈالتا ہے یہ بھی انسان کے سوچ سے پرے کی بات۔ ساری بات ہی عطا، خطا، دعا اور پھر عطا میں چھپی ہے۔ اس کا در بند نہیں کسی کے لیے بھی نہ گنہگاروں کے لیے نہ ہی نیکوکاروں کے لیے۔ یہ تعین تو بس پوری زندگی انسان خود کرتا رہتا ہے اپنے لیے بھی اور دوسروں کے لیے بھی۔ خدا نے توبہ اور رجوع کا راستہ پوری زندگی میں بندے کے لیے کھول رکھا ہوتا ہے۔ توبہ کا راستہ آسانی پیدا کرتا ہے، اس کے بعد رجوع کرنا پڑتا ہے اور یہیں پر آزمائشیں سر اٹھائے کھڑے رہتی ہیں۔ آسانی کے ساتھ مشکل۔ رجوع کرنے کے لیے آپ کو اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے، اپنے اعمال کو سیدھا کرنا پڑتا ہے۔ خدا کی محبت کے کیف کو پانے کے لیے اپنی "میں " کو اپنے " نفس " کو مارنا پڑتا ہے۔ زمانے کی گرد آپ کے اردگرد رقص کرتی ہے، آپ کی آنکھوں میں دھول جھونکتی ہے مگر اس سے بچ وہی سکتا ہے جس کو صرف اس کے نور کی چاہ ہوتی، جو ہدایت لے کے ہی مرنا چاہتا ہے۔ اس کی نشانیوں پر غور کرتے ہوئے معرفت کے راستے کا مسافر بن کر اس کی رحمت کا طلب گار بن کر۔

اس کی عطا پر صبر اور شکر لازم ہے۔ خدا سے آپ ضد کر سکتے ہیں، وہ آپ سے محبت کرتا ہے مگر آپ اس سے اپنی ہر ضد منوا نہیں سکتے۔ یہاں بھی اس پاک ذات کی محبت چھپی ہےوہ آپ کے اندر کو اپ سے زیادہ جانتا ہے۔۔ وہ اندھے دلوں کا بھی جاننے والا، اور ان کا بھی جن کے دلوں میں روشنی کی ذرا سی رمق باقی ہو۔ وہ آپ کو وہی عطا کرتا ہے جس میں آپ کے لیے بہتری ہو۔ چاہے آپ لاکھ سر پٹخیں اپنی خواہشوں کے لیے، اگر آزمائش ہے تو صبر مانگیں اس سے۔ اگر یہ آپ کا بچاؤ ہے تو شکر ادا کریں اس کا۔ توفیق مانگیں آپ کو اس کی رضا میں راضی ہونا آجائے۔ اس طلب کو مانگنے کی توفیق ہی خدا نہ دے جس میں اس کی رضا نہ شامل ہو۔ صبر کرنے کے لیے توکل کا ہونا ضروری ہے۔ صبر جمیل جو ہمارے انبیا کا وصف رہا۔ وہ صبر جس پر سر جھکا دیا گیا۔اگر وہ سہارا دے تو کون ہے جو انسان پر غالب آ سکے اور وہ بے سہارا چھوڑ دے تو پھر کون ہے جو مدد کو آسکے؟ یہ سب زندگی کا دائرہ ہے، جس میں سے ہمیں اپنے حصے کا ہی ملنا ہے۔

"میرے ساتھ ہی یہ کیوں ہوا؟" یا " میری ہی دعائیں کیوں نہ سنی گئیں؟"، یہ وہ سوالات ہیں جو مصیبت اور دکھ میں سب سے پہلے انسان اپنی زبان پر لاتا ہے۔جیسے سب ایک جیسے نہیں ہوتے ہر ایک کے اپنے الگ مقاصد، اپنے خواب، اپنا طرز زندگی ہوتا، ویسے ہی ہر ایک کی آزمائش الگ ہے۔ آپ جیسا کوئی اور نہیں ہو سکتا، آپ سے آگے بھی لوگوں کی زندگی چل رہی ہے اور پیچھے والوں کی بھی۔ کسی کی زندگی میں کون سا دکھ کتنا بھاری ہے یہ آپ کو نہیں معلوم۔ سوتا وہ بھی ہے جو جھونپڑی میں رہتا ہوں، اور کبھی خوراک کا ایک دانہ وہ امیر بھی نہیں چکھ سکتا جو ہسپتال کے بستر پر پڑا ہو اور دنیا جہاں کی نعمتیں اس کے پاس ہوں۔ یہ سارا کھیل ہی اس " کنجی " کا ہے جو رحمٰن نے اپنے خزانوں کی اپنے پاس رکھی ہے۔

"ھو" کا اسم خاص ہے اور جو اس پر کامل یقین رکھے وہ خاص الخاص بن جاتا ہے۔ کسی چیز کے نہ ملنے کی کسک زندگی میں ہم ساتھ لیے پھرتے ہیں مگر جو اس کے ساتھ ہمیں نعمتیں مل رہی ہوتیں اس چیز سے بڑ کر وہ ہمارا دل محسوس نہیں کر سکتا۔محبت میں محبوب کو تکلیف نہیں دی جاتی، کیا کوئی جان بوجھ کر اپنے پیارے کو دکھوں میں دھکیل سکتا ہے؟ اگر نہیں ، تو پھر وہ رحیم وہ کریم وہ خالق کیوں اپنے بندے نہیں بچائے گا؟ محبت کی انتہا دوسرے کے لیے خوشی اور آسانی پیدا کرنا ہے۔

اس " میں " کا " ھو" کے ساتھ مقابلہ نہ کریں، محبت کی انتہا پر آؤ اور محبوب کے لیے اس 'میں " کی محبت قربان کر دو۔ جس طرح لوگوں کی محبت کے پیچھے بھاگتے ہیں اپنے اس بنانے والے کی محبت پر بھی پورا بھروسہ رکھیں وہ آپ کی زندگی کی آنے والی چیزوں سے واقف ہے، وہ آپ کو بہترین سے نوازنا چاہتا ہو گا۔ سمجھیں اس راز کو۔۔۔ اس کی محبت سب سے خوبصورت ہے اس کی عطا بہترین تحفہ ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */