مکران کا سیاسی منظرنامہ - ظریف بلوچ

مکران ڈویژن تین اضلاع گوادر، تربت اور پنجگور پر مشتمل ہے اور مکران کے سیاسی پس منظر اس لیے بلوچستان کے دیگر علاقوں سے اہم ہے کیونکہ یہ علاقہ قبائلی اور سرداری نظام کی بجائے مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سیاسی کارکنوں کا گڑھ ہے، جہاں نظریاتی سیاست ماضی میں کافی عروج پر رہی ہے۔ مکران 'سی-پیک' کا مرکز ہے، بلوچ قوم پرست سیاسی پارٹیوں کا گڑھ رہا ہے اور بلوچستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ مکران سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر عبدالمالک وزیر اعلیٰ بلوچستان کے منصب پر فائز رہے اور یہ صوبے کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی نواب یا سردار کی بجائے ایک مڈل کلاس فیملی سے کوئی وزارت اعلیٰ کے منصب تک پہنچا۔

2018ء کے انتخابات کے لیے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح مکران میں بھی سیاسی قائدین نئی صف بندیوں میں مصروف ہیں۔ کیونکہ مکران میں قبائلی اور سرداری نظام نہیں ہے، لیکن مضبوط شخصیات اور میر و معتبر موجود ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ مکران میں چند اہم سیاسی شخصیت کا ووٹ بیلنس کسی بھی امیدوار کے حق میں جاکر اس کی جیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مکران کا سیاسی ماحول شروع سے بلوچ قوم پرست پارٹیوں کے گرد گھومتا رہا ہے۔ جہاں کافی عرصہ گزرنے کے بعد قومی سطح کی سیاسی پارٹیوں کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی، جو ان کو ملنی چاہیے تھے۔

پرانی حلقہ بندیوں کے تحت مکران میں صوبائی اسمبلی کی چھ نشستیں ہیں، جبکہ دو قومی اسمبلی کی نشستوں میں ایک نشست گوادر و کیچ اور دوسری پنجگور و خاران کی ہے۔ جہاں اس وقت گوادر کیچ کی نشست پر بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سید عیسیٰ نوری جبکہ پنجگور و خاران کی نشست وفاقی وزیر جنرل (ر) عبدالقادر کے پاس ہے۔ مکران کی موجودہ چھ میں چار نشستوں پر مخلوط صوبائی حکومت میں شامل نیشنل پارٹی ہے جبکہ بی این پی اور مسلم لیگ نواز کے پاس بھی ایک، ایک نشست موجود ہے۔

بعض مقامی سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ آنے والے انتخابات میں بی این پی (مینگل) اور بی این پی (عوامی) سیاسی اتحاد کرکے سیٹ ٹو سیٹ ایڈجسمنٹ کرسکتی ہیں اور قومی سطح پر پیپلز پارٹی کے بھی ان جماعتوں سے اتحاد کے حوالے سے گفت و شنید ہوئی ہے۔ اگر حالیہ مردم شماری کے مطابق نئی حلقہ بندی کے تحت انتخابات ہوگئے تو مکران کی صوبائی اور قومی نشستوں میں اضافہ ہوگا جو کہ سیاسی پارٹیوں کے لیے نیک شگون ہوگی۔ مجوزہ الیکشن کے حوالے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ مکران میں نیشنل پارٹی مکران کے سیاسی میدان میں مخالفین کو ٹف ٹائم دے گی۔ مکران میں دونوں بی این پیز کی پوزیشن اتنی مضبوط نہیں اس لیے ہو سکتا ہے کہ گوادر کی نشست پر میر حمل کلمتی سخت مقابلہ کریں۔

دوسری جانب بی این پی عوامی بھی اس وقت مکران کے سیاسی ماحول میں کافی سرگرم عمل ہے کیونکہ ماضی قریب میں مکران کی چار نشستیں بی این پی عوامی کے پاس رہی ہیں۔ بی این پی عوامی کیچ اور پنجگور اضلاع میں کافی مضبوط رہی ہے جبکہ مکران کی سیاست میں بی این پی مینگل کی انتخابی کارکردگی خاطر خواہ نہیں حالانکہ اس وقت گوادر کی رکن صوبائی اسمبلی اور گوادر و کیچ کی قومی اسمبلی کی نشست بی این پی مینگل کے پاس ہی ہے۔ البتہ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ بی این پی کو یہ نشست دو سیاسی خاندانوں کے سیاسی حلیف بننے کے بعد ملی ہے اور پارٹی ووٹوں سے زیادہ ان دو شخصیات کے اپنے ووٹوں نے اہم کردار ادا کیا۔ دوسری جانب نیشنل پارٹی کے لیڈر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ اس مرتبہ مکران میں ان کی پارٹی کلین سوئیپ کرے گی۔ وہ اپنی حالیہ کارکردگی کو بہترین قرار دے کر اپنی کامیابی کے دعوے کر رہے ہیں۔

قومی سطح کی پارٹیاں اور مذہبی جماعتیں بھی اگلے انتخابات کے حوالے سے پرامید نظر آتی ہیں لیکن مکران کی انتخابی تاریخ دیکھیں تو ان جماعتوں کو ماضی میں کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی جس کی بناء پر یہ کہا جائے کہ اس مرتبہ وہ عوامی پذیرائی حاصل کریں گی۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ اگر مکران کی کوئی اہم سیاسی شخصیت ان کی حمایت کرے تو پھر مقابلہ سخت ہو سکتا ہے البتہ اس کی امید بہت کم ہے۔

22 اکتوبر کو بی این پی عوامی کی مرکزی کونسل کا اجلاس پنجگور میں ہو رہا ہے جو پارٹی ذرائع کے مطابق مکران کی سیاست میں اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اور وفاقی وزیر میر حاصل بزنجو اور سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان ڈاکٹر عبدالمالک اہم سیاسی شخصیات کو منانے میں مصروف ہیں تاکہ گوادر کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر ان کے امیدوار کو کامیابی ملے۔

سی پیک کے منصوبے میں مرکزی حیثیت کی وجہ سے مکران کو اس وقت ملکی سطح پر بہت اہمیت حاصل ہے۔ آنے والے دور میں کئی میگا پروجیکٹس شروع ہونے والے ہیں اور یہ علاقہ وسط ایشیا کا گیٹ وے بنے گا۔ لیکن اس سے پہلے 2018ء کے انتخابات کے لیے سیاسی ماحول میں گرما گرمی شروع ہو چکی ہے۔ ماضی کے سیاسی حلیف ایک دوسرے کے حریف بھی بن سکتے ہیں جبکہ سیاسی حریف حلیف کا کردار بھی نبھا سکتے ہیں۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com