بھائی! مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں! سید معظم معین

ہمیں اپنی یہاں کے سیکولر طبقے کی ذہنی و فکری سطح کے متعلق پہلے بھی کوئی خوش فہمی نہیں تھی، مگر رہی سہی کسر موجودہ جنازے والے ایشو نے پوری کر دی۔

سیکولر طبقات کو پاکستانی عوام سے سب سے بڑا شکوہ یہ ہے کہ یہ علمی طور پر پست ہیں اور سیکولرازم کا مفہوم درست طور پر سمجھنے سے مکمل طور پر قاصر ہیں۔ اس شکوے پر بجا طور پر جواب شکوہ پیش کیا جا سکتا ہے کہ جناب آپ نے اپنے طور طریقوں اور وضاحت سے جو قوم کو سمجھایا، قوم وہ سمجھ رہی ہے بلکہ خوب سمجھ رہی ہے۔ شاید آپ کو سیکولرازم کا اس قدر ادراک نہ ہو جتنا قوم کو ہے۔ قوم طرز عمل سے مفہوم اخذ کرتی ہے۔ آپ نے کتابوں میں پڑھا ہے۔ آپ کا عملی نمونہ قوم کو آپ کی فکر کے منطقی نتائج دکھا دیتا ہے۔

سیکولر حضرات کی عوامی ناکامی اور غیر مقبولیت میں مذہبی قوتوں سے زیادہ خود سیکولر حضرات کے اپنے طرزعمل اور طور طریقوں کا عمل دخل ہے۔ پرویز ہود بھائی ٹی وی پر آ کر قوم کو عقیدہ آخرت سے متعلق اپنی ذہنی پیچیدگیوں سے روشناس کرواتے ہیں، کبھی سائنسدان بن کر مسلمانوں کو کوسنے دیتے ہیں کہ کچھ ایجاد ویجاد نہیں کرتے۔ اب ایک عام آدمی تو پوچھنے کا حق رکھتا ہے کہ جناب آپ کا میدان سائنس تھا، آپ نے کیا ایجاد کیا، یہ بھی تو بتائیں۔ دوسروں کو کچھ نہ کرنے کا طعنہ دینے سے بہتر ہوتا ہے کہ خود کچھ کر کے دکھا دیا جائے۔ انگریزی کہاوت ہے کہ "عمل الفاظ سے اونچا بولتا ہے۔" اس کا انگریزی ترجمہ خود کر لیجیے کہ آپ کو انگریزی زیادہ جاننے کا زعم بھی ہے۔

تازہ ترین معاملہ سیکولرز المعروف "لادین" طبقے کے ایک سرخیل سے منسوب گردش میں ہے جس میں وہ یہ فرماتے ہیں کہ اپنی والدی مرحومہ کے جنازے کے دوران باہر بیٹھے رہے اور جنازہ نہ پڑھا۔

یہ بھی پڑھیں:   ماں جی کے لیے دعا کی اپیل - حسنین قاسمی

سیکولر طبقات کی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے کہ انھوں نے اپنے معاشرے کو جاننے کے دعوے تو کیے، اندر اتر کر جانا نہیں۔ ایک عام پاکستانی فرد اپنی ماں کا جنازہ جان بوجھ کر نہ پڑھنے والے فرد کو کس نگاہ سے دیکھے گا، اسے سمجھنے کے لیے کوئی ارسطو کا دماغ درکار نہیں ہے۔ ہاں! اگر آپ اپنے معاشرے سے کٹ کر چغتائی و منٹو کے افسانوں میں جی رہے ہیں تو آپ جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ مگو پھر عوام سے گلہ نہ کیا کریں کہ یہ سیکولرازم کو نہیں سمجھتی۔

مشعال خان کے معاملے پر سیکولرز طعنہ زن تھے کہ مولویوں نے اس کا جنازہ پڑھانے سے انکار کیوں کیا؟ اللہ بڑا بے نیاز ہے؟ اب الٹی یہی بات ان پر پڑ گئی کہ خود آپ نے اپنی والدہ کا جنازہ پڑھنے سے بھی انکار کر دیا۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟ اب جس منہ سے مولویوں پر تنقید کرتے تھے اس منہ سے اپنے سرخیل کے عمل پر کیوں نہیں کرتے۔

جنازہ کچھ نہیں ہے، بس فوت ہو جانے والے کے لیے ایک دعا ہے، دعائے مغفرت ہے جسے ہمارے رب نے فرض کفایہ کیا ہے، یہ مرحوم کا حق ہے، یہ تو ایک عطا ہے، ایک سعادت ہے، جس کے نصیب میں آئے اسے خوش ہونا چاہیے۔

اور مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں، اگر ایک صاحب اپنی والدہ کے حق میں دعائے مغفرت نہیں کرنا چاہتے تو نہ کریں، ہم کر دیتے ہیں۔ اللہ ان کی والدہ کو جنت نصیب فرمائے اور سب کی ماؤں کو جنت میں اونچے مقامات عطا کرے۔ اور جن کی مائیں حیات ہیں، ان کو صحت و عافیت والی زندگی عطا کرے اور ہم سب کو اپنی ماؤں کی خدمت کرنے کی توفیق عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین!

Comments

سید معظم معین

سید معظم معین

معظم معین پیشے کے اعتبار سے مہندس کیمیائی ہیں۔ سعودی عرب میں مقیم ہیں۔ مشینوں سے باتیں کرتے کرتے انسانوں سے باتیں کرنے کی طرف آئے مگر انسانوں کو بھی مشینوں کی طرح ہی پایا، وفا مگر مشینوں میں کچھ زیادہ ہی نکلی۔ دلیل کے مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.