قومی سیاست۔ فیصلہ کن موڑ پر- ڈاکٹر صفدر محمود

ہماری ستر سالہ تاریخ کے بعض بنیادی ’’سبق‘‘ نہایت فکر انگیز ہیں اور مستقبل کی رہنمائی کے حوالے سے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ ملکی سیاست اور قیادت نے جب بھی ان اصولوں سے انحراف کیا اس کی بے پایاں قیمت ملک و قوم کو ادا کرنا پڑی۔ ’’حسن تدبر‘‘ جسے آپ تحمل اور غور و خوض کا نام بھی دے سکتے ہیں نہ صرف انفرادی زندگی میں کامیابی کی ضمانت دیتا ہے بلکہ قومی زندگی میں کامیابی کے لئے بھی سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ حسن تدبر کیا ہے؟ برے حالات میں بھی صبر کا دامن تھامے رکھنا، قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینا اور قلب کو ہوس سے پاک رکھنا۔ہوس اقتدار کی ہو، دولت کی ہو یا کسی اور شے کی ہو ہمیشہ خوار کرتی ہے اور اکثر ذلت کا سبب بنتی ہے۔ قومی مفادات کی خاطر ذاتی مفادات، ذاتی رنج، غصے اور انتقام سے باطن کو صاف رکھنا ایثار کے زمرے میں آتا ہے اور مجاہدہ کہلاتا ہے لیکن یہی قائد کی پہچان اور شان ہوتی ہے۔ ایک فرد کے غصے، انتقام اور ہوس سے صرف اسے فرق پڑتا ہے لیکن اگر قائد ان روحانی بیماریوں کا مریض ہو اور ان سفلی جذبات کے تحت اقدام کرے تو تاریخ میں عبرت ناک مقام پاتا ہے۔

میں بہ حیثیت طالب علم جب اپنی ستر سالہ ملکی تاریخ کا تجزیہ کرتا ہوں تو مجھے بہت سے مقامات عبرت سے گزرتے ہوئے دو نہایت واضح سبق ملتے ہیں جن سے دامن بچا کر ہی ہم آگےبڑھ سکتے ہیں، ترقی کرسکتے ہیں، مضبوط قوم بن سکتے ہیں اور عالمی سطح پر کچھ عزت کما سکتے ہیں۔ اول تو ہماری سات دہائیوں کی تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ جب بھی ملک کی عنان اقتدار بیورو کریسی، سول یا ملٹری کے ہاتھوں میں آئی ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ دوسرا اہم سبق یہ ہے کہ جب بھی ملکی حکمرانوں نے ایثار کے جذبے کوپس پشت ڈال کر انتقامی جذبے، ذاتی مفادات اور ہوس اقتدار کے تحت فیصلے کئے انہوں نے ملکی ڈھانچے کی بنیادیں تک ہلا دیں۔ وہ خود بھی ذلیل و خوار ہوئے اور ملک و قوم کوبھی اندھی وادیوں میں دھکیل گئے۔ ایک بات اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ سول و ملٹری بیورو کریسی سیاستدانوں پر خال خال ہی اعتماد کرتی ہے۔ دل سے وہ ہمیشہ سیاستدانوں کو کم تر، مطلب پرست اور کرپٹ سمجھتی ہے۔

چنانچہ جب بھی بیورو کریسی پاکستان کی حکمران بنی، اس نے انہی جذبوں کے تحت فیصلے کئے اور سیاستدانوں کے خلاف اقدامات کئے۔ اکثر و بیشتر ہماری قوم سیاست پر انتقام حاوی رہاجس سے ملکی و قومی مفادات کا خون ہوتا رہا۔ اگر آپ ان کی بظاہر نیک نیتی کے پس پردہ جھانکیں تو آ پکو انتقام، گھٹیا انتقام، کا جذبہ کارفرما نظر آئے گا۔ پاکستان میں سول بیورو کریسی کی حکمرانی کا دور آغاز کے پانچ چھ برسوں پر محیط ہے لیکن یہ ہمیشہ کے لئے فوجی مداخلت کا دروازہ کھول گیا۔لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم بنے تو بیورو کریٹ غلام محمد گورنر جنرل بن گئے۔ عبوری آئین میں گورنر جنرل کو تقریباً آمرانہ اختیارات حاصل تھے لیکن قائد اعظم اور پھر خواجہ ناظم الدین نے جمہوری گورنر جنرل کی مانند روایات قائم کیں۔ بیورو کریٹ کے مزاج میں عوامی جواب دہی یا انتخابات کا خوف ہرگز نہیں ہوتا چنانچہ وہ من مانی کرتا اور جمہوری اقدار کو پامال کرتا ہے۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر وائن ولکاکس کی تحقیق کے مطابق خواجہ ناظم الدین کی جگہ امریکہ میںسفیر محمد علی بوگرہ کو وزیر اعظم بنانے کا فیصلہ واشنگٹن میں ہوا جب گورنر جنرل غلام محمد اور کمانڈر انچیف ایوب خان سرکاری دوروں پر وہاں پہنچے۔

24اکتوبر 1954 کو گورنر جنرل غلام محمد کے ہاتھوں دستور ساز اسمبلی کی منسوخی ایک انتقامی کارروائی تھی کیونکہ اسمبلی نے عبوری آئین میں ترمیمات کرکے گورنر جنرل کو کابینہ توڑنے اور وزیر اعظم کو ڈسمس (DISMISS) کرنےکے اختیارات سے محروم کردیا تھا۔ اس سے قبل گورنر جنرل نے 1953 میں وزیر اعظم کو ڈسمس کردیا تھا چنانچہ اسمبلی نے انتقام لینے یا حفظ ماتقدم کے طور پر گورنر جنرل کے اختیارات ختم کردیئے۔ یوں انتقامی سیاست نے اس مسودہ آئین کا گلا بھی گھونٹ دیا جو 25دسمبر 1954 کو ملک میں نافذ ہونا تھا اور اسمبلی اسے منظور کر چکی تھی۔ جب انتقام کی نیت سے کارروائی کی جائے تو نتائج تباہ کن نکلتے ہیں۔ غلام محمد نے یہ انتہائی قدم اٹھانے سے قبل آرمی چیف اور چیف جسٹس کو اعتماد میں لیا تھا اور رکن اسمبلی واجد علی کے ذریعے امریکی سفیر کوبھی یقین دہانیاں کروائی تھیں۔ محلاتی سازشوں کے ذریعے غلام محمد کو نکال کر اسکندر مرزا کا گورنر جنرل بننا ہوس اقتدار کا کارنامہ تھا اور سول و ملٹری بیوروکریسی کی طاقت و سازش کا شاخسانہ تھا۔ اس سے کمانڈر انچیف کی حوصلہ افزائی ہوئی اور اس کے دل میں حصول اقتدار کی خواہش تڑپنے لگی۔سردار عبدالرب نشتر کی سوانح عمری پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ جنرل ایوب خان 1954 سے ہی حکمرانی کی خواہش دل میں پال رہے تھے۔ مارشل لا لگا تو اسکندر مرزا بدستور صدر مملکت رہا لیکن اس نے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لئے ایوب خان کو نکالنے کی سازش کی۔ ایوب خان نے انتقامی کارروائی کرکے اسکندر مرزا کو جلا وطن کردیا۔ یہ محض ہوس اقتدار کی جنگ تھی۔ ایوب خان کے طویل اقتدار نے ان کے جانشین یحییٰ خان کے دل میں اقتدار کی ہوس بھڑکائی۔

اس نے سازشوں کا جال بچھا کر ایوب خان کو بمعہ آئین گھر بھجوا دیا اور مستقبل میں اپنا اقتدار پکا کرنے کے لئے سیاستدانوں سے ساز باز کرنے لگا۔ انتخابات کے بعد شیخ مجیب الرحمٰن سے صدارت کی گارنٹی نہ ملنے پر قومی اسمبلی کا اجلاس مغربی پاکستان کے اکثریتی لیڈر جناب بھٹو شہید کی ملی بھگت سے ملتوی کردیاگیا۔ بیوروکریسی کا سیاسی ویژن کمزور ہو تا ہے اور اپنی ذات ہی ان کی سیاست کا محور ہوتی ہے۔ سیاسی بحران کا حل فوجی حکمرانوں کے بس کا روگ نہیں ہوتا چنانچہ مشرقی پاکستان میںفوجی آپریشن کی نوبت آئی اور پھر پاکستان ٹوٹ گیا۔ یہ ہماری تاریخ کا ایک فیصلہ کن موڑ ہونا چاہئے تھا جس کے بعد کبھی ملٹری بیوروکریسی حکمرانی کے خواب نہ دیکھتی،لیکن بدقسمتی سے سیاستدانوں کے باہمی نفاق اور نالائقی کے سبب یہ خواب باربار شرمندہ تعبیر ہوتا رہا۔ بھٹو صاحب نے انتقامی کارروائیاں کرکے حزب مخالف کا گلا گھونٹنے کی کوشش کی اور حزب مخالف نے متحد ہو کر حساب برابر کرتے ہوئے فوجی مداخلت کا جواز پیدا کردیا۔ بقول جنرل چشتی ضیاء الحق بھٹو کو پھانسی نہ دیتا اگر بھٹو صاحب اقتدار میںآکر جرنیلوں کو لٹکانے کی بات نہ کرتے۔ گویا یہ سب انتقام کی سیاست تھی جو تدبر، تحمل اور سیاسی ادراک سے تہی دامن تھی۔

غلام محمد کی مانند غلام اسحاق خان بھی نیک نیت اور مالی طور پر ایماندار شخص تھے لیکن وہ سیاستدانوں کو کٹھ پتلیوں کی مانند نچانے اور ہمیشہ اقتدار میں رہنے کا خواب دیکھتے تھے۔ بیورو کریسی کی ذہنیت کے مطابق وہ سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرتے تھے۔ ان کے نزدیک بےنظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو ڈسمس کرنا قومی خدمت تھی جو پاکستان میں نوزائیدہ جمہوریت کی بنیادیں کھوکھلی کرگئی۔ پرویز مشرف نے انتقام کے طور پر تخت الٹا اور اسی انتقام کے جذبے کے تحت اقتدار سے نکالے گئے۔ عدلیہ ہزار بار کہے کہ ہم آئین و قانون کے مطابق فیصلے کر رہے ہیں اور فوج ہزار وضاحتیں دےکہ ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں مسلم لیگ (ن) یہ ماننے کے لئے تیار نہیں اور ان کی سیاست میں اوپر سے لے کر نیچے تک انتقام کی آگ بھڑک رہی ہے بڑھتے ہوئے تصادم کے ماحول میں تدبر،تحمل اور حکمت کے چراغ جھلملا رہے ہیں اور ’’ذات‘‘ قومی مفادات پر حاوی ہوچکی ہے۔

ہمارے موجودہ بحران کا سب سے بڑا سبب یہی ہے جبکہ ستر سالہ تاریخ کا نچوڑ یہ ہے کہ فوجی مداخلت اور آئین شکنی ملک وقوم کے لئے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اور جب سیاستدان تدبر، تحمل اور حکمت کے اوصاف کو ترک کرکے انتقام کے جذبے کے تحت تصادم کی سیاست کرتے ہیں تو نہ صرف اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ ملک و قوم کا بھی ستیاناس کر جاتے ہیں۔ ظاہری صورت حال کے برعکس اس وقت ملک وقوم بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں اور دوراہے پہ کھڑے ہیں۔ اس حوالے سے یہ ہماری سیاسی قیادت کی دانش، سیاسی بلوغت اور ویژن کا امتحان ہے۔ وہ سرخرو بھی ہوسکتے ہیں اور بحران کوبگاڑ کر اپنے پائوں پر کلہاڑی بھی مار سکتے ہیں۔