اولو جامع، ترکی کی عظیم مسجد - سعود عثمانی

اولو داگ سے واپسی پر میں مسلسل سوچتا رہا کہ اولو داگ اور اولو جامع میں لفظ اولو (عظیم شاندار) کیا وہی عربی لفظ ہے جسے ہم علو (بلندی عظمت اور عروج) کے نام سے پہچانتے ہیں؟ خیر یہ تو زبان دانوں کا میدان ہے لیکن اتنی بات تو بہرحال ہے کہ عربی الفاظ جابجا بعینہ اور تبدیل شدہ صورتوں میں ترک زبان میں نظر آجاتے ہیں۔

برصہ ایک خوب صورت اور نسبتاً پرسکون شہر ہے۔ شہر کا مرکزی حصہ اور وہ بازار جہاں میرا ہوٹل تھا گہماگہمی والا علاقہ تھا لیکن ذرا سا دائیں بائیں نکل جائیں تو شور آپ کا تعاقب کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ ایک مسئلہ شامی مہاجرین کا ہے جو بڑی تعداد میں ترکی میں مقیم ہیں ۔ سچ یہ کہ بے گھری کا دکھ اور لٹے پٹے لوگوں کی اجنبی زمینوں میں تلاش ِ رزق ایسے عذاب ہیں کہ سوچ کر بھی خوف آتا ہے۔ اس کے ذیلی اثرات ترک شہروں پر اس طرح پڑ رہے ہیں کہ شہروں میں شامی عورتیں اور بچے خاص طور پر گداگروں کی صورت میں ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ یہ صورت حال اولو داگ نیشنل پارک میں بھی تھی اور برصہ کے بازاروں میں بھی۔ لیکن اس بات سے قطع نظر برصہ خوب صورت اور خوش اخلاق لوگوں کا شہر ہے اور اس کا ثقافتی رنگ بھی استنبول سے قدرے جدا ہے۔ میرا ہوٹل اولو جامع کے بالکل سامنے تھا۔ یہ سارا علاقہ قدیم و جدید کے سنگم کی صورت جنت نگاہ ہے جس کے ساتھ "اولو جامع" سے ترک لہجے میں عشاء کی اذان بھی فردوس گوش کا کام کرتی تھی۔

اولو جامع (Ulu Cami) یعنی عظیم مسجد، برصہ کی بڑی اور تاریخی مسجد ہے جو سلطان بایزید یلدرم نے 1396 اور 1399 عیسوی کے درمیان تعمیر کی تھی۔ اس مسجد کا طرزِ تعمیر سلجوقی انداز کا ہے۔ مسجد اپنے معمار علی نجار کے فن تعمیر کا نمونہ ہے۔ یہ ایک مستطیل عمارت ہے جو دو میناروں اور بیس چھوٹے چھوٹے گنبدوں کے ساتھ تعمیر کی گئی ہے، یہ بیس گنبد چار چار گنبدوں کی پانچ قطاروں میں ہیں اور ان گنبدوں کے کئی ایک مقاصد آج بھی مسجد کی رونق بڑھا رہے ہیں۔
جب میں مسجد پہنچا تو تاریکی گہری ہوچکی تھی اور عشا کی نماز ہوئے کافی وقت گزر چکا تھا۔ مسجد کے قریب پہنچتے ہی وہ تاریخی مضبوط آثار نمایاں ہونے شروع ہوئے جو صرف بادشاہوں کے زمانہ تعمیر سے مختص ہیں۔ لاہور کی بادشاہی مسجد ہو، دہلی کی جامع مسجد ہو یا ٹھٹھہ کی شاہ جہانی مسجد۔ ان کی مستحکم دیواریں، چوڑے آثار اور عمارت کا گھیر سب ان معماروں کے اندر کا حال بتاتے ہیں۔ مضبوط، پائیدار اورپر عظمت۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

مسجد کے مرکزی دروازے سے باہر ترکی انداز کی ایک سبیل ہے جو پانی پینے والوں کو سیراب کرتی ہوگی۔ مسجد اپنے کئی پہلوؤں پر بہت سے دروازے رکھتی ہے لیکن اتفاق سے صدر دروازہ کھلا تھا۔ میں اس میں کیا داخل ہوا،گویا چودھویں صدی عیسوی میں داخل ہوگیا۔ ایک وسیع ہال جس کی وسعت ایک عظمت کا احساس جنم دیتی تھی۔ ہال کے بارہ ستونوں نے بہت قرینے سے بیس گنبدوں کو سہارا دے رکھا تھا۔ اس طرح کہ داخلی دروازے سے ستون رکاوٹ نہیں بنتے تھے۔ دروازے سے کچھ فاصلے پر ایک فوارہ اور حوض تھا جسے ترکی میں ''سدروان (sadirvan)'' کہتے ہیں۔ یہ حوض وضو خانے کا کام آج بھی انجام دے رہا ہے۔ اس حوض کے چار اطراف سنگِ مرمر کی چوکیاں تھیں۔ حوض کے اوپر موجود گنبد سورج کی روشنی کو چھان کر نیچے بھیجتا ہے۔ حوض اور فوارہ مرکزی ہال کے فرش سے ایک دو قدم نیچے ہے۔ میں نے خنک پانی سے وضو کیا، ترکوں کے حسنِ انتظام کو داد دیتے ہوئے صاف ستھرے چھوٹے تولیے چوبی کٹہرے سے اٹھائے اور استعمال کے بعد دوسرے چوبی کٹہرے میں ڈال دیے جو اسی مقصد کے لیے تھا۔ ہال پر نظر ڈالی تو احساس ہوا کہ ایک پرسکون اور نیم روشن ماحول ذہن کو کتنی آسودگی بخشتا ہے۔ چو طرفہ دیواریں اور ستون خطاطی کے اعلٰی نمونوں سے سجے ہوئے تھے۔ خطاطی ہمیشہ سے میری دل چسپی کا فن رہی ہے، چنانچہ ثلث، کوفی، نسخ اور نستعلیق کے ان فن پاروں کوتا دیر دیکھتا رہا۔ اس زمانے کے اعلٰی ترک خطاطوں کے یہ 192 فن پارے اپنی مثال آپ ہیں اور ان کو دیکھنے سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ اس زمانے میں یہ مختلف خط اپنے ارتقا کے کس مرحلے سے گزر رہے تھے۔ ذرا سی کھٹک یہ ہوئی کہ بعض فن پاروں کا سائز ضرورت سے زیادہ بڑا نظر آیا لیکن شاید یہ بھی اسی ارتقائی مراحل کے زمرے میں آتا ہو۔ رات گئے بھی اس تاریخی مسجد کو دیکھنے والوں کے چہرے بتاتے تھے کہ وہ اس مسجد کی مسحور کن فضا میں سانس لینے کو اپنی زندگی کے خوب صورت لمحات جان رہے ہیں۔

میں مسجد میں ادھر سے ادھر پھرتا رہا۔ ترکوں اور غیر ملکیوں کی اچھی خاصی تعداد مسجد میں موجود تھی اور تبھی میری نظر ان بزرگ پر پڑی جو چودھویں صدی عیسوی میں بنی اس مسجدمیں موجود ہونے کے لیے موزوں ترین شخصیت تھی۔ سفید برّاق ترکی کپڑے،گول سفید اونچی ٹوپی۔ لانبا قد، سرخ و سفید چہرہ، چہرے پر نرمی اور شفقت، ترک چہروں کی روایتی خوب صورتی میں نوراینت کا اضافہ ہوجائے تو کشش کے ساتھ کیفیت بھی جڑ جاتی ہے۔ وہ ایک ستون کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے تھے اور ان کا عصا ان کے ساتھ پڑا تھا۔ مغربی لباس میں موجود لوگوں میں وہ ایک الگ باوقار روایت کی علامت تھے۔ میرا خیال تھا کہ وہ شاید کسی ورد میں مصروف ہیں لیکن غور سے دیکھا توایسا نہیں تھا۔ وہ ایک طرف ٹکٹکی لگائے بیٹھے تھے، میں انہیں مشغول نہ پاکر ان کے پاس گیا، اشارے سے ساتھ بیٹھنے کی اجازت طلب کی، انہوں نے سر کے اشارے اور مسکراہٹ سے بیٹھنے کو کہا اور نرم گرم ہاتھ میرے ہاتھوں میں دے دیے۔ السلام علیکم کے علاوہ ایک لفظ بھی نہ انہوں نے کہا نہ میں نے لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ میری باتیں سمجھ رہے ہیں اور میں برصہ کی روایتیں دیکھ ہی نہیں رہا، سن اور سمجھ بھی رہا ہوں۔ خاموشی کلام کرتی ہے تو اس کی ایک جہت نہیں ہوتی۔ کیسے ایک عظیم روایت کے ٹکڑے آپس میں خاموشی سے جڑ جاتے ہیں۔ خواہ اس کا ایک فرد لاہور سے غبار میں اٹا ہوا پہنچا ہو، چاہے برصہ کی خاموش اور خنک راتوں میں اینٹوں کے فرش پر ایک عصا بردار ٹک ٹک کرتی خاموشی میں مسجد سے اپنے گھر واپس جارہا ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   کورونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ترکی کا بڑا فیصلہ، ترک صدر رجب طیب اردگان نے اہم اقدامات اٹھانے کا اعلان کر دیا

اولو جامع سے نکل کر اسی عظیم روایت کے ایک اور جزو کی تلاش تھی۔ اسکندر کباب برصہ کی شناخت ہے اور یہیں سے اس بھنے ہوئے برّے کی خوشبوچار دانگ عالم میں پھیلی ہے۔ مجھے تلاش تھی کسی قدیم طعام گاہ کی، میں ابھی چودھویں صدی سے باہر قدم نہیں رکھنا چاہتا تھا۔ مسجد کے اطراف کی گلیوں میں ایک ایسی ہی جگہ مجھے مل گئی۔ گرما گرم اسکندر کباب اور آریان یعنی ترکی لسّی کا ذائقہ۔ بس نہ پوچھیے۔ تھکن، بھوک اور شکم سیری۔ بس اس کے بعد یہ رات انہیں تین چیزوں سے عبارت تھی۔ رات گئے جب میں ایک خاموش گلی سے نکل کردوسری گلی میں داخل ہو رہا تھا تو میرے اپنے قدموں کی آہٹ کے علاوہ کوئی میرے ساتھ نہیں تھا۔ اور سچ یہ ہے کہ اس کے علاوہ زندگی میں ساتھ رہتا بھی کون ہے۔ آخر خاموشی ہی کلام کرتی ہے اور اس کی کوئی ایک جہت اور کوئی ایک معنی بھی نہیں ہوتے۔

Comments

سعود عثمانی

سعود عثمانی

سعود عثمانی منفرد اسلوب اور جداگانہ لہجے کے حامل شاعر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ 10 متفرق تصانیف و تراجم اور تین شعری مجموعے قوس (وزیراعظم ادبی ایوارڈ)، بارش (احمد ندیم قاسمی ایوارڈ) اور جل پری، شائع ہر کر قبولیت عامہ حاصل کر چکے ہیں۔۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.