بازار حسن کے اصل سہولت کار - ابوبکر قدوسی

جب آپ دربار سے آگے جرنیلی سڑک کی طرف بڑھتے ہیں تو یادگار پاکستان سے کچھ ہی پہلے ٹکسالی دروازے کا چوک آ جاتا ہے. یادگار پاکستان کو اب مینار پاکستان کہتے ہیں. جی تو جب پرانے لاہور کے اس ٹکسالی دروازے سے کچھ ہی اندر ہوتے ہیں تو ہیرا سنگھ کی حویلی کا علاقہ آ جاتا ہے. اب اسے ہیرا منڈی بولتے ہیں. شریف بندہ لفظ ہیرا منڈی بولتے ہوئے شرما جاتا ہے، لیکن اس کی شرافت اس معاشرے سے اس منڈی کا وجود ختم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے. چلیے چھوڑیے شریف بندے کا آج کی پوسٹ سے کوئی تعلق نہیں، اس لیے آگے چلتے ہیں.

برس گزرے میں ایک روز راوی روڈ کی طرف جا رہا تھا، وین پر سوار تھا، ٹکسالی دروازے کا سٹاپ آیا، کنڈکٹر نے احتیاط کی نظر اندر سواروں پر ڈالی، اطمینان کیا اور مسکراتے ہوے بولا کہ
"ہیرا منڈی والے آ جاؤ"
پہلے سب حیران ہوئے، پھر قہقہ بلند ہوا. اچھا جانتے ہیں کہ وین والے نے احتیاط کیوں کی تھی بولنے میں؟
جی ہاں! اس نے اطمینان کیا تھا کہ گاڑی میں کوئی خاتون تو سوار نہیں ہے. یہ خواتین کا اکرام تھا جو اس کی نظر میں باقی تھا، بلکہ بہت حد تک معاشرے میں بھی باقی تھا.
پھر ماحول بدل گیا، میڈیا کا دور آ گیا، سیکولر طبقہ ایسا طاقت ور ہوا کہ:
جو تھا ناخوب بتدریج خوب ہوا
اب یہ آرٹ تھا، کلچر تھا، ایک خاص طبقے کی ثقافت کی تھی، اور اس پر مزید ایک طبقہ "معرض وجود" میں آیا. ان کی یہ ثقافت بھی نہ تھی اور اس بازار سے ان کا کوئی تعلق بھی نہ تھا، لیکن یہ اس بازار کے "سہولت کار" بنے. لفظ سہولت کار آج کل ویسے بھی بہت "ان" ہے اور سچی بات ہے ان پر سجتا بھی بہت ہے.

اگر یہ کہوں تو شاید مبالغہ نہ ہو کہ اب تو اس منڈی کی رونقیں اس روشن خیال طبقے کے دم قدم سے بڑھتی جا رہی ہیں، اور اب محض سہولت کار ہی نہیں رہے، آبادکار بھی بنتے جا رہے ہیں بلکہ کچھ بڑھ کے. کیا کہتے ہیں یار سپلائر کو اردو میں ................. یا پنجابی میں.

ملتان کے مفتی کی حرکت پر ایک خاتون کا لکھا مضمون پڑھا تو اندازہ ہوا کہ اس طبقے میں کس درجہ منافقت پائی جاتی ہے. ایک مفتی عبد القوی کی آڑ لے کر تمام مذہبی طبقے کو وہ بےنقط سنائی گئیں کہ تہذیب بھی اس ناانصافی پر شرما جائے، لیکن "سہولت کاری" کے تقاضے نبھانے بھی تو ضروری ہوتے ہیں، سو بہت برسیں، بہت برسیں.

سوال مگر یہ ہے کہ خواتین کے حقوق کی کمائی کھانے والے ان سہولت کاروں کی سال بھر کی دانش وری کی چھان پھٹک کیجیے، کبھی آپ کو ان خواتین کے حقوق کی کوئی صدا نظر نہیں آئے گی. ان کو "جنت" سے "کھسروں" کے خط تو بہت آتے ہیں لیکن کبھی یہ تحقیق کرنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ یہ خواجہ سرا کس ظلم کے نتیجے میں معرض وجود میں آتے ہیں.

قندیل بلوچ کے لیے تڑپ تڑپ جانے والے یہ "دانش بھرے کریلے" کہ جن کی کڑواہٹ مولوی کے لیے ابل ابل جاتی ہے، اس کی زندگی میں کہاں تھے؟ جب وہ چار پیسوں کے لیے برہنہ ہوئی جاتی تھی، ان میں سے کون آگے بڑھا اور اس کے تن پر عزت کی چادر ڈالنے کی کوشش کی؟
تب یہ برہنگی ان کی نظر میں فنکاری تھی، آرٹ تھا، تہذیب تھی، آزادی تھی، بنیادی حق تھا.
بلی کیا بھاگوان ہوگی کہ چھینکا ٹوٹے ، بھاگ تو ان کے جاگے کہ بدقماش مولوی نے اہل مذہب کو بدنام کیا اور ان کے قلم اور دانش کو مہمیز لگی، اور مزید کچھ دن کی روٹی اور بوتل کا سامان ہو گیا، کچھ دن دانش بھی خوب چمکے گی.

ان کا یہ حال ہے کہ کوئی شریف عورت پردہ دار ان کے سامنے سے گذر جائے تو ان کے دماغ میں دو ہی خیال آتے ہیں. اول یہ کہ بےچاری نہ جانے کس ظلم کا شکار ہے یا یہ کہ انتہا پسند عورت، اور نفرت کی لہر ان کے چہروں پر نمایاں ہو جاتی ہے، لیکن یہی عورت جب برہنہ ہو کر ان کے سامنے آتی ہے تو ان کے چہرے روشن ہو جاتے ہیں. میں کبھی لکھ چکا کہ یہ اصل میں عورت کے بیوپاری ہیں بیوپاری. عورت کے حقوق ان کی نظر میں برہنگی کے ہیں، یہی ان کی روشن خیالی ہے، یہی ان کی ترقی اور یہی ان کا لبرل ازم.

انہوں نے اس بات پر کبھی آواز نہیں اٹھائی کہ کیوں عورت کو ہر رات نئے بستر کی زینت بننا پڑتا ہے؟ کیوں وہ روز دلہن بنتی ہے؟ کیوں بنا بارات کے وہ روز رخصت ہوتی ہے اور کیوں صبح دم واپس آ جاتی ہے؟ کیسی یہ رخصتی ہے کہ جیب بھری ہوتی ہے اور دامن خالی؟ کیسا یہ ملن ہے کہ ہوس ہی ہوس ہے عزت کہیں نہیں؟ کیا یہ عورت کی تذلیل نہیں کہ ہر شہر میں ایک عدد "ہیرا منڈی" موجود ہے اور اس کے سہولت کار اس کے پروموٹر دانشور بنے اسی کی کمائی کھا رہے ہیں.

آپ کسی طرف نکل جائیں آپ کو قندیل بلوچوں کی ڈاریں دکھائی دیں گی، لیکن ان روشن خیالوں کے پیج ان پر ظلم کے ذکر سے خالی ملیں گے. ان کو ان کے وجود کی، عزت کی تذلیل دکھائی ہی نہیں دے گی. سبب اس کا یہی ہے کہ ان کے نزدیک ان کا جسم ایک انڈسٹری ہے کہ جس کی کمائی سے ان کی راتوں کی بوتلیں چلتی ہیں، میں بہت تلخ ہو رہا ہوں؟
ہے نا بہت ہی تلخ؟
--- بھائی دلال ہیں یہ سب دلال، بروکر

کبھی ہال روڈ چلے جائیے. وہاں کا ایک بڑا کاروبار بن گیا ہے فحش مجروں کی "سی ڈی ". اس میں عورت کی کون سی آزادی ہے؟
کیا اس تذلیل پر ان میں سے کسی نے آواز اٹھائی؟
یہی عورت جب قندیل بلوچ ہو کے قتل ہو جاتی ہے، تب ان کو اس کے حقوق یاد آ جاتے ہیں. اس خاتون سے پوچھیے کہ جس نے تمام اہل مذہب کے لتے لیے کہ یہاں اس لاہور میں اس سے پہلے کئی ایسی قندیلیں بجھ چکیں، کسی پر بھی نہ لکھنے کی توفیق ہوئی. سبب کیا تھا؟
جی! اس میں کسی نام نہاد مولوی کا کوئی کردار جو نہ تھا. ایک تھرڈ کلاس مولوی کہ جو تھا بھی میڈیا کا تراشا جاہل محض. اس کے بہانے ان سگان بد زبانوں کو زبان درازی کا موقع ملا سو خوب برس رہے ہیں، لیکن یاد رکھیے حقائق بدلتے نہیں، پس پردہ ضرور چلے جاتے ہیں اور آخری اور سچی حقیقت یہی ہے کہ :
"آپ ہی اصل میں بازار حسن کے سہولت کار ہیں اور آباد کار بھی"

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com