اردگان قتل ہونے والے ہیں - راغب سوئیلو

گزشتہ سال امریکی انٹرپرائزز انسٹیٹیوٹ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک مضمون میں امریکی محکمہ دفاع کے اہلکار مائیکل رابن نے ترکی میں متوقع فوجی بغاوت کا ذکر کیا تو مجھ سمیت ہر ایک کے لیے یہ ایک انتہائی مبالغہ آمیز لطیفہ تھا۔ بہت سے لوگوں نے اسے صدر ایردوان سے بغض رکھنے والے ایک ماہر امور مشرق وسطی کا ایک بے سروپا احتجاج سمجھا۔ لیکن ہمارے تمام اندازے غلط نکلے۔ صرف چار ماہ بعد رابن کے مضمون کا عنوان "کیا ترکی میں ایک فوجی بغاوت متوقع ہے؟" ہمارے سامنے ایک بھیانک حقیقت بن کر کھڑا تھا۔ اپنے آرٹیکل میں رابن نے لکھا تھا کہ اس نے ترکی میں متوقع بغاوت کا سوال اس کی حمایت میں نہیں بلکہ بطور تجزیہ اٹھایا ہے۔ تاہم بعدازاں اس نے یوٹرن لیا اور 15 جولائی کی شب جبکہ ترکی بغاوت سے نمٹنے کے لیے سڑکوں پر تھا، ایک اور مضمون شائع کروایا جس میں اس نے ترکی کے کارحکومت میں فوجی مداخلت کو امید کی کرن قرار دیا۔

فوجی بغاوت کے برپا ہونے کے بعد مائیکل رابن نے اپنا مؤقف ایک مرتبہ پھر تبدیل کر لیا۔ جیسے ہی اسے فوجی بغاوت کے ناکام ہوجانے کا علم ہوا، اس نے یکے بعد دیگرے کئی مضامین لکھ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ یہ ایردوان کا اپنا رچایا گیا ڈرامہ تھا جس کا پس پردہ مقصد مزید طاقت حاصل کرنا اور اپنے مخالفین کو دبانا تھا۔ ایردوان کے بارے میں یہ بیانیہ پھیلانے میں اہم کردار پینسلوینیا میں مقیم متنازعہ مذہبی رہنما فتح اللہ گولن کے پیروکاروں نے ادا کیا۔ یقینا یہ ذکر کرنے کی یہاں قطعا ضرورت نہیں ہے کہ ترک عدالتوں میں زیر سماعت سینکڑوں کیس یہ ثبوت فراہم کرنے کو کافی ہیں کہ گولن اور اس کے پیروکار ہی بغاوت کے اس منصوبے میں رنگ بھرنے میں نمایاں تھے۔

اب جب کہ ناکام بغاوت کو ایک سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مائیکل رابن اس ماہ کے آغاز میں ترکی کے حوالے سے اپنا نیا "تجزیہ" سامنے لائے ہیں۔ اس مرتبہ اپنے مضمون میں انھوں نے صدر ایردوان کی موت کے امکانات پر بات کی ہے۔ فوجی بغاوت کے وقوع پذیر ہونے کے بعد پہلی مرتبہ رابن نے اعتراف کیا ہے کہ بغاوت سے قبل اس کے امکانات کا ذکر انھوں نے صرف اپنی چھٹی حس کی بنیاد پر نہیں کیا تھا بلکہ دراصل ان کے کچھ ذرائع نے انھیں مطلع کیا تھا کہ "بغاوت برپا ہونے والی ہے۔"

یہ بھی پڑھیں:   ترکی مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مددگار ہوسکتا ہے - سفیر پاکستان

یہ سوال انتہائی برمحل ہے کہ آخر ایسے کون سے ذرائع تھے جن کے پاس نہ صرف ترک بلکہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں سے بھی زیادہ معلومات تھیں در آں حالیکہ یہ ایجنسیاں تو آخر تک ایسی کسی بھی بغاوت کا سراغ لگانے میں ناکام رہیں۔ میں نے دو ای میلز کے ذریعے مائیکل رابن سے یہ سوال پوچھا۔ جواب کا انتظار اب تک جاری ہے۔

منطقی طور پر اس کی ایک وجہ تو گولن موومنٹ کے ساتھ رابن کے مضبوط تعلقات ہو سکتے ہیں۔ ذاتی طور پر رابن ابتدا میں گولن اور ان کی تحریک کے شدید مخالف تھے۔ مئی 2015 میں کمنٹری میگزین میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں رابن نے گولن کے بارے میں اپنا موقف بدلنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے اس بات پر معافی مانگی کہ ماضی میں وہ گولن کی ترکی واپسی کو خمینی کی تہران واپسی کے مشابہ قرار دے چکے ہیں۔ اس مضمون میں انھوں نے لکھا کہ موقف کی اس تبدیلی کا یہ مطلب نہیں کہ وہ گولن تحریک کی حمایت کا اعلان کر رہے ہیں بلکہ وہ صرف اتنا چاہتے ہیں کہ گولن کا موقف سنا جائے۔

اور رابن نے پھر گولن کو سننے کا حق ادا کیا۔ گزشتہ جنوری میں گولن تحریک کے پروپیگنڈہ ٹول روزنامہ زمان کے سابق سینئر تجزیہ کار اور کالم نگار علی اولن نے بغاوت کے اسباب کی تحقیقات کرنے والے پارلیمانی کمیشن کے سامنے رضاکارانہ طور پر یہ اعتراف کیا کہ وہ مئی 2015 میں گولن سے معافی مانگنے کے رابن کے اعلان کے ٹھیک ایک ماہ بعد انھیں پینسلوینیا میں فتح اللہ گولن کی رہائش گاہ پر دیکھ چکے ہیں۔ اس کے جواب میں رابن نے ایک ٹویٹ کی جس میں انھوں نے یہ مضحکہ خیز موقف اختیار کیا کہ وہ ان دنوں اپنے نومولود بچے کے لیے گھر میں موجود تھے اور انھوں نے ان تاریخوں میں گولن کی رہائش گاہ کا دورہ نہیں کیا۔ میں نے ایک اور ای میل میں ان سے استفسار کیا کہ آیا وہ کبھی گولن کو مل چکے ہیں۔ اب تک اس ای میل کا جواب بھی نہیں آیا۔

یہ بھی پڑھیں:   کیا جموں و کشمیر کامسئلہ حل ہونے جارہا ہے؟ پروفیسر جمیل چودھری

تاہم رابن کے بارے میں ایک بات تو واضح ہے اور وہ یہ کہ گولن تحریک سے تعلق رکھنے والے ایک سابق پولیس افسر احمد سعید یائلہ کے ساتھ ان کے گہرے تعلقات ہیں۔ اپنے دو سے زائد تجزیوں میں وہ احمد سعید کو ترک انٹیلی جنس اور پولیس کے معاملات پر انتہائی قابل اعتماد ذریعہ قرار دے چکے ہیں۔ یائلہ گولن تحریک میں اہم مقام رکھتے ہیں۔ وہ امریکہ اور باہر کی دنیا میں گولن تحریک کی خفیہ سرگرمیوں میں پیش پیش ہونے کی وجہ سے ترکی کو مطلوب افراد کی فہرست میں شامل ہیں۔ وہ اج کل اپنے بارے میں یہ غلط فہمی پھیلاتے پھر رہے ہیں کہ وہ ترک پولیس کے ہیرو ہیں جنھیں داعش کے خلاف کریک ڈاون کرنے کی پاداش میں ملک چھوڑنا پڑا۔

مائیکل رابن اے ای آئی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک گول میز کانفرنس میں احمد سعید یائلہ کی میزبانی بھی کرچکے ہیں جس میں یائلہ نے ناکام بغاوت کی ذمہ داری ایردوان پر ڈالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے ترکی پر داعش کو ہتھیار فراہم کرنے اور ایران کے ساتھ بند دروازے کے پیچھے خفیہ سرگرمیوں کا الزام بھی لگایا۔

میں رابن کی طرح امریکی محکمہ دفاع کے اور کسی ایسے اہلکار کو نہیں جانتا جو نہ صرف اپنے نیٹو اتحادی ملک میں غیرقانونی بغاوت کو مثبت عمل قرار دیتا ہو بلکہ اس بغاوت سے جڑے بہت سے ایسے کرداروں سے ملتا جلتا بھی ہو جو بغاوت کے ماسٹرمائنڈ کے خاص لوگ ہیں۔

Comments

اسامہ عبدالحمید

اسامہ عبدالحمید

اسامہ عبدالحمید انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی کے طالب علم ہیں، انگریزی ادب میں بی ایس تکمیل کے مراحل میں ہے۔ فیچر رائٹر ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.