مائنڈ سیٹ - محمد عامر خاکوانی

مسلم لیگ ن کے حوالے سے ہم لکھتے رہتے ہیں، تنقید کا عنصر جس میں زیادہ ہوتا ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو حکمران جماعت ہونا ہے۔ دنیا بھر میں حکومتیں ایسی غلطیاں کرتی رہتی ہیں، جن پر تنقید کئے بغیر منصفانہ تجزیہ نہیں ہوسکتا۔ مسلم لیگ ن کی پنجاب میں دوسری مدت ہے، میاں شہباز شریف پچھلے نو برسوں سے مسلسل وزیراعلیٰ چلے آ رہے ہیں، اس منصب کو آئندہ کے لئے بھی وہ اپنے ساتھ یا کم از کم اپنے گھر میں ضرور رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ان کی غلطیوں کو کم وقت ملنے کے عذر کی بنا پر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا، ان کے مائنڈ سیٹ پر تنقید اس لئے بھی ضروری ہوجاتی ہے کہ اسے بدلے بغیر آنے والے برسوں میں یہ غلطیاں بار بار ہوتی رہیں گی۔

مسلم لیگ ن کے حکمت عملی کا ایک بنیادی جز مختلف بڑے شہروں میں میٹرو بسیں چلانا ہے۔ صوبائی حکومت نے پچھلے دور حکومت کے دوران ہی لاہور میں میٹرو بس چلا دی تھی،حالیہ مدت کے دوران پنڈی اور ملتان میں میٹرو بس چلائی گئی ہے۔ لاہور میں اورنج ٹرین پراجیکٹ بھی چل رہا ہے۔

میٹرو بس پراجیکٹس شروع کرتے وقت ہی تین چار بنیادی اعتراضات کیے گئے۔ ماہرین نے مشورہ دیا کہ یہ بس پراجیکٹ شہر کے صرف ایک روٹ کے لیے ہے، باقی شہر لاتعلق رہے گا، دوسرا اس پر خرچ بہت زیادہ آئے گا، پچاس ساٹھ ارب روپے سے میٹرو بنانے کے بجائے اس سے کئی گنا کم خرچ پر اچھی بس سروس شروع ہوسکتی ہے۔ تیسرا یہ کہ فی مسافر جتنا خرچہ آئے گا، ٹکٹ اتنی نہیں، یعنی حکومت کو کروڑوں، اربوں روپے سب سڈی کے طور پر ہر سال دینا ہوں گے۔ ایک مسلسل بوجھ ہے جو حکومت کو اٹھانا پڑے گا، وہی پیسے تعلیم، صحت، صاف پانی پر لگا دیں تو ان شہروں میں انقلاب آ جائے گا۔ چوتھا اعتراض یہ تھا کہ دنیاکے اکثر ممالک میں میٹرو انڈرگراؤنڈ بنائی جاتی ہے تاکہ سڑکیں پر دباؤ نہ بڑھے اور ایک متبادل سفری روٹ کا انتظام ہوسکے۔ مسلم لیگ ن کی قیادت نے ماہرین کے ان تمام اعتراضات کو الا ماشااللہ بیک جنبش انگشت شہادت رد کر دیا اور اپنی من مانی کی۔ نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔

ن لیگ نے کیوں ایسا کیا؟ اس کی وجوہات بھی واضح ہیں۔ میاں نواز شریف ہوں یا ان کے چھوٹے بھائی، انہیں بڑے بڑے جگمگاتے پراجیکٹس پسند ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ عوام کو ان کے ذریعے مسخر کیا جا سکتا ہے۔ تعلیم، صحت، صاف پانی اور پولیس نظام کی اصلاح بہت اہم اور عام آدمی سے جڑے ہوئے شعبے ہیں، مگر دور سے یہ کسی کو نظر نہیں آتے ۔بڑے بلند وبالاپراجیکٹس دوسرے صوبوں سے آنے والوں کی آنکھیں بھی چندھیا دیتے ہیں اور وہ ”حکومتی کارکردگی“ سے متاثر ہونے بنا نہیں رہ پاتے۔ ایک فیکٹر شاید یہ بھی ہے کہ بڑے پراجیکٹس میں کک بیکس، کمیشن وغیرہ لینا آسان ہیں۔ آخر کچھ وجہ تو ہے کہ جہاں کہیں میٹرو بس، ٹرین یا اس طرح کے منصوبوں کادفتری ریکارڈ رکھا جائے، جلد ہی وہاں سے شعلے اٹھنے لگتے ہیں، کچھ نہیں بچ پاتا۔

اب تین شہروں لاہور، پنڈی اسلام آباد، ملتان میں میٹرو بس چل رہی ہے۔ پنڈی اسلام آباد میں میٹرو کو ان لوگوں کو یقینا فائدہ ہوا جو روزانہ پنڈی سے اسلام آباد جاتے تھے۔ اگرچہ اچھی ائیر کنڈیشنڈ بسیں اور ان کے لیے کمپیوٹرائزڈ چیکنگ سسٹم لگانے سے دونوں شہروں کو بہت اچھی پبلک ٹرانسپورٹ مل جاتی اور حکومت کو سب سڈی پر اربوں روپے بھی خرچ نہ کرنے پڑتے۔ لاہور میں ایک درجن سے زائد روٹس ہیں، ان میں سے ایک نسبتاً طویل روٹ پر میٹرو بس چلا دی گئی۔ کہتے ہیں کہ ایک لاکھ لوگ اس پر روزانہ سفر کرتے ہیں۔ کرتے ہوں گے، مگر صرف وہی ایک لاکھ سوا لاکھ ہی ہیں جو اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ روزانہ ایک ہی راستے پر سفر کرنے والے، جن کے روٹ پر یہ بس چل رہی ہے۔لاہور کی آبادی سوا کروڑ ہوچکی ہے، شہر بےپناہ پھیل چکا ہے، لاکھوں کی آبادیاں ایسی ہیں، جن کے راستے میں میٹرو بس آتی ہی نہیں، شاید زندگی بھر وہ اس پر سفر نہ کر پائیں۔

لاہور اورنج ٹرین پراجیکٹ کے حوالے سے پہلے بھی لکھ چکا ہوں، ایک اقتباس برادرم خالد مسعود کے حالیہ کالم سے دینا چاہوں گا، جسے پڑھنے سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ پنجاب اور لاہور کے عوام نے اس پراجیکٹ کی کیا قیمت ادا کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں”ایک سو ساٹھ ارب روپے سے بننے والے اس منصوبے کے سامنے پورے پنجاب کا تعلیمی بجٹ انسٹھ ارب روپے اور صحت کا بجٹ چون (54)ارب روپے ہے۔ ستائیس کلومیٹر کی اس میٹرو پر فی کلومیٹر چھ ارب روپے کا خرچہ آیا ہے جو روئے زمین پر اس قسم کے ٹریک پر سب سے زیادہ ہے، لیکن حکومت کا فرمانا ہے کہ یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا سب سے کم خرچ منصوبہ ہے۔ بندہ کہاں جائے؟ اتنے پیسوں میں پنجاب میں دس ہزار سکول بن سکتے تھے اور پنجاب میں آﺅٹ آف سکول تیس لاکھ بچے پنتالیس ارب میں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوسکتے تھے۔ اتنی رقم میں شوکت خانم جیسے تیس پینتیس ہسپتال بن سکتے ہیں، نشتر ہسپتال (ملتان) جیسے چالیس ہسپتال بن سکتے ہیں، یعنی پنجاب کے ہر ضلع میں شاندار اور جدید سہولتوں سے آراستہ پندرہ سو بیڈ کا ہسپتال بن سکتا تھا۔ اورنج لائن ٹرین کے لیے ایگزم بینک آف چائنا نے کس شرح سود سے قرضہ دیا ہے؟ یہ ایک راز ہے۔ بس اتنا کہا جاتا ہے کہ ارزاں نرخوں پر۔ یہ ارزاں نرخ کیا ہیں؟ کسی کو پتہ نہیں۔ اورنج لائن ٹرین کی ٹکٹ بیس روپے ہوگی جبکہ حقیقی خرچ ڈیڑھ سو روپے فی مسافر ہوگا۔ اس حساب سے روزانہ اڑھائی لاکھ مسافروں پر سوا تین کروڑ کی سبسڈی دی جائے گی، جو سالانہ بارہ ارب روپے بنیں گے۔ جس دن حکومت کے پاس (اس حکومت نہ سہی، کسی اگلی حکومت کے پاس) پیسے ختم ہوگئے، اس دن پراجیکٹ ٹھپ ہو جائے گا۔“

ملتان میٹرو پراجیکٹ سب سے نکما، بیکار اور غیر ضروری منصوبہ تھا۔ ملتان کا ہر شہری اس پر متفق ہے کہ ملتان کو میٹرو بس کی قطعاً ضرورت نہیں تھی، وہاں صرف اچھی ائیر کنڈیشنز بسیں چلوا دیتے جو شہر کے مختلف روٹس پر چلتی رہتیں، ملتانیوں کی زندگی اسی سے آسان ہوجاتی اور جو باقی ماندہ اسی نوے فیصد رقم تھی، وہ ملتان کے تعلیم، صحت، سیوریج وغیرہ پر خرچ کر دیتے۔ وزیراعلیٰ نے میٹرو بس کے حوالے سے پہلا اجلاس ملتان میں بلایا تو بتایا جاتا ہے کہ مقامی ارکان اسمبلی نے اس کی مخالفت کی۔ خادم اعلیٰ کی آگ برساتی آنکھوں اور ہوا میں لہراتی انگلی دیکھ کر وہ غریب چپ سادھ کر بیٹھ گئے۔ یوں ملتانیوں نے بھی میٹرو اپنی آنکھوں سے دیکھ لی۔ ہم نئے لاہوریے اس پر خوش کہ جو ملتانی دوست تخت لاہور میں چلنے والی میٹرو بس کا طعنہ دیتے تھے، اب خو دبھی اس کا مزہ چکھ لیں۔ ایسا ہی ہوا۔ اب حال یہ ہے کہ میٹرو چل تو رہی ہے، مگر سواریاں بیٹھنے کی زحمت نہیں کرتیں۔ میرے رشتے کا بھتیجا منیب خان ملیزئی ملتانی ہے، مگر آج کل لاہور میں صحافت کی تعلیم حاصل کر رہا ہے، اس نوجوان سے پوچھا تو جواباً مخصوص ملتانی لہجے میں تبصرہ کیا کہ یہ بسیں” لوسیوں“ کی طرح منہ اٹھائے پھرتی ہیں، کوئی بیٹھنے کو تیار نہیں۔ ”لوسی“ سرائیکی کا مخصوص لفظ ہے، عام طور پر یہ کسی خارش زدہ، سست الوجود کتے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

چند دن پہلے وزیراعلیٰ ملتان فیڈر بسوں کے منصوبے کا افتتاح کرنے گئے، یہ بسیں مختلف علاقے کے لوگوں کو میٹرو بس تک پہنچانے کے لیے چلائی گئی ہیں۔ خیر اس تقریب کے حوالے سے ایک معاصر اخبار کے سیاسی ایڈیشن میں رپورٹ شائع ہوئی۔ یہ قومی اخبار آج کل عملی طور پر مسلم لیگ ن کے ترجمان کے طور پر کام کر رہا ہے، اس لیے یہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ رپورٹ تعصب یا سیاسی مخالفت کی وجہ سے دی گئی۔ رپورٹر نے دو باتیں لکھیں۔ ایک تو یہ بتایا کہ ان بسوں کا چلنا اچھا ہوا کہ لوگ ان کے ذریعے میٹرو بس میں بیٹھنے تو نہیں جائیں گے، مگر مختلف علاقوں کی طرف جانے کا مسئلہ ان سے حل ہوجائے گا۔ دوسرا دلچسپ انکشاف یہ کیا کہ وزیراعلیٰ نے بس پراجیکٹ کا افتتاح ایک دن پہلے کرنا تھا، مگر جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ گورنر پنجاب ملتان میں موجود ہیں تو افتتاح ایک دن آگے کر دیا گیا۔ یہ خبر جناب گورنر رفیق رجوانہ کو بھی مل گئی تھی، وہ اگلے روز صبح صبح ملتان سے لاہور چلے گئے تاکہ خادم پنجاب ملتان آ کر سکون سے منصوبے کا افتتاح کر سکیں۔ ممکن ہے کسی قاری کے ذہن میں یہ سوال آیا ہو کہ گورنر پنجاب کا تعلق تو ہے ہی ملتان سے، ان کے شہر سے جانے کا انتظار کیوں کیا گیا؟ اس کا جواب مسلم لیگ ن کے مائنڈ سیٹ میں پوشیدہ ہے ، یعنی ون مین شو۔ نواز شریف صاحب ہوں یا خادم پنجاب شہباز شریف، اپنے ہر منصوبے کا کریڈٹ یہ خود لینا چاہتے ہیں۔ یہ گوارا نہیں کہ معمولی سا کریڈٹ بھی کسی اور کو دے دیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو درجن کے قریب وزراء میں سے صرف ایک دو ہی کو میڈیا پر آنے کی اجازت ہے۔ ن لیگ کی سیاست پر اعتراض ان کے اسی طرح کے مائنڈ سیٹ کی وجہ سے کیے جاتے ہیں۔ جب تک یہ نہیں بدلے گا، تنقید بھی جاری رہے گی۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • پچھلے پورے ھفتے سے فیڈریشن بسیں بھی لونڈیوں کی طرح ملتان میں لور لور کرتی پھر رہی ہیں خدا گواہ ہے کہ صبح سے شام تک بالکل خالی ہوتی ہیں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */