مہاتماگاندھی کا خیالی انٹرویو

ان دنوں فیک نیوز کا بازار گرم ہے۔ تاریخ کو نئے سرے سے رقم کرنے کی مہم زوروں پر ہے۔ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے بارے میں طرح طرح کی جھوٹی باتیں منظم طریقے سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ ان کوششوں کے پیچھے کا مقصد صاف ہے۔ دراصل یہ ایک آئیڈیالوجی کی دوسری آئیڈیالوجی پر سبقت حاصل کرنے کی جنگ ہے۔ اس مہم میں آج کے ٹی وی اینکرز نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ ہریش کھرے نے اسی سیاق میں ایک خیالی انٹرویو تحریر کیا ہے، جس میں مہاتما گاندھی خود موجود ہیں اورآج کے ’خاص‘ ٹی وی اینکرکے سوالوں کا بےباکی سے جواب دے رہے ہیں۔ گاندھی جی کے جواب بے حددلچسپ ہیں۔ یہ خیالی انٹرویو ’دی ٹریبیون‘ میں شائع ہوا تھا۔ (مترجم، سید کاشف)

چرب زبان ٹی وی اینکر اور اسٹوڈیو کی آنکھوں کو چندھیا دینے والی روشنی فادر آف نیشن کو چت کرنے کی کوشش میں اوندھے منہ گر گئے۔ اس گاندھی جینتی پر، خود مہاتماگاندھی کو ایک خصوصی انٹرویو کے لیے ٹی وی اسٹوڈیو میں آنے کے لیے راضی کیا گیا۔ ان سے کی گئی اس خاص بات چیت کے چند اقتباسات ملاحظہ کریں:

اینکر:گاندھی جی بےحد شکریہ، آپ نے ہم سے بات چیت کے لیے وقت نکالا۔ ہمارے پاس صرف دس منٹ ہیں، لہذا ہم بلاتاخیر انٹرویو شروع کرتے ہیں۔ کیا میں آپ کو ’باپو‘ کہہ کر مخاطب کروں؟ آپ برا تو نہیں مانیں گے؟ ویسے فلم ’گاندھی‘ میں آپ کو ’باپو‘ ہی تو کہا گیا ہے، حالانکہ آپ کی شکل Ben Kingsley سے بالکل بھی نہیں ملتی۔
گاندھی: شکریہ۔ آپ باپو کہیں، مجھے کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

اینکر: اگر آپ کو برا نہ لگے تو یہ بتائیں کہ ہم ہر سال آپ کا یوم پیدائش کیوں منائیں؟ سال در سال؟
گاندھی: ایماندرای کی بات یہ ہے کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ میرا یوم پیدائش کیوں منایا جاتا ہے۔ میرا خیال ہے، سیاستدانوں کو شاید اس کی ضرورت ہے، تاکہ سال میں کم از کم ایک بار وہ اس بات کا ڈھونگ رچا سکیں کہ وہ میرے اور میرے نظریات کے پیروکار ہیں۔ راج گھاٹ پر نیتاؤں کی رسمی حاضری دراصل ان کی ضرورت بن گئی ہے، تاکہ وہ اپنے سیاسی گناہوں کو دھل سکیں۔ اگر آپ مجھ سے پوچھیں تو یہ سراسر منافقت ہے۔

اینکر: بہت اچھا باپو، بہت اچھا۔ کیا میں اصل مدعے کی طرف آؤں اور آپ سے پوچھوں کہ آپ نے سردار پٹیل کے ساتھ دھوکا کیوں کیا؟ آپ نے انہیں آزاد بھارت کا پہلا وزیراعظم کیوں نہیں بنایا؟ اگر ایسا ہوا ہوتا تو آج ہندوستان کی شکل بہت مختلف ہوتی۔
گاندھی: آہ ۔۔ میں سمجھ سکتا ہوں ۔۔۔ میرے عزیز! یہ ایک جھوٹ ہے۔ یہ فرضی تاریخ ہے۔ جہاں تک مجھےیاد پڑتا ہے، جب تک جواہر زندہ تھے، یہ الزام کبھی کسی نے نہیں لگائے۔ اس مفروضےکی ایجاد بہت بعد میں چند لوگوں نے کی۔۔۔۔

اینکر: (دخل اندازی کرتے ہوئے) ۔۔۔۔ لیکن کئی دستاویز موجود ہیں۔
گاندھی: کوئی دستاویز نہیں ہے۔ کوئی ایسا دستاویز ہو بھی نہیں سکتا، کیوں کہ اس بات کا حقیقت سے کوئی لینا دینا ہے ہی نہیں۔ آپ کے پاس جو بھی کچھ ہے، وہ فرضی تاریخ ہے۔ کانگریس کے ہر فرد کی طرح سردار بھی یہ بات بہت اچھی طرح جانتے تھے کہ اس وقت جواہر کے علاوہ کوئی دوسرا لیڈر عوام میں مقبول نہیں تھا۔ عوام میں جواہر کے علاوہ کسی اور لیڈر کی رسائی نہیں تھی۔ سردار اور نہرو کے بیچ کے اس گہری رقابت کا انوکھا خیال کسی اور نے نہیں ہمارے extreme rightist دوستوں نے ایجا دکیا ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے برلا ہاؤس میں مجھے مروانے کے لیے سازشیں رچی تھیں۔

اینکر: باپو، دیکھیں آپ ذرا احتیاط برتیں۔ آپ دیش کے عظیم محب وطن اور قوم پرستوں کو ایسی بات کے لیے مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں، جس کا کوئی ثبوت نہیں۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی ایسا کہنے کی۔۔۔۔!
گاندھی: برائے مہربانی اس ضعیف العمر پر مت برسو۔ مجھے اس بات کا اندہ نہیں آپ کا مطالعہ کتنا ہے، یا کچھ ہے بھی کہ نہیں۔ معاف کریں کیا میں آپ کو ایک چھوٹی سی کتاب پڑھنے کا مشورہ دے سکتا ہوں ۔۔۔ کتاب کا نام ہے: Gandhi is Gone: Who will Guide Us Now

اس کتاب میں ایک میٹنگ کی ٹرانسکرپٹ موجود ہے۔ اس میٹنگ میں قومی لیڈران؛ نہرو، پرساد، آزاد، ونوبا، کرپلانی، جے پرکاش، کالیلکر وغیرہ وغیرہ موجود تھے۔ یہ میٹنگ میرے قتل کے بعد سیواگرام میں منعقد کی گئی تھی۔ سردار اس میٹنگ میں شامل نہیں ہو سکے تھے۔ وہ بہت علیل تھے۔ یہ واقعہ March 1948 کا ہے۔ یہ تمام لیڈران اس بات پر صلاح و مشورہ کرر ہے تھے کہ اب آگے کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے۔

اگر آپ مجھے اجازت دیں تو ونوبا نے اس میٹنگ میں جو باتیں کہی تھیں، وہ آپ کو پڑھ کر سناؤں :
” میں کچھ باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں۔ میرا تعلق اس ریاست سے ہے جہاں آر ایس ایس کا قیام عمل میں آیا۔گرچہ میں ذات پات سے اوپر اٹھ چکا ہوں، لیکن میں ابھی تک اس بات کو اپنے ذہن سے نہیں جھٹک پا رہا ہوں کہ میرا تعلق بھی اسی ذات سے ہے جس ذات کے آدمی نے اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے (گاندھی کا قتل)۔ میں پونر میں بہت سالوں سے رہ رہا ہوں۔ وہاں بھی چار پانچ لوگوں کوشک کی بنیاد پر حراست میں لیا گیا ہے، شک ہے کہ وہ لوگ بھی کسی طور باپو کے قتل میں ملوث ہیں۔ واردھا اور ناگپور میں بھی کچھ لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ دوسرے شہروں میں بھی مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جا رہی ہیں۔ اس تنظیم کا دائرہ عمل بہت وسیع ہے۔ اس کی جڑیں بہت گہری ہو چکی ہیں۔ یہ تنظیم فاشزم میں یقین رکھتی ہے۔گاندھی جی کا اصول”سچائی“ پر مبنی تھا۔ مجھے ایسا لگتا ہے ان لوگوں کا اصول مبنی بر ”جھوٹ“ ہے۔ یہی ”جھوٹ“ ان کی تکنیک اور فلسفہ کا بنیادی اور لازمی حصہ ہے۔

”آر ایس ایس کا طریق کار ہمیشہ سے ہمارے اصولوں سے بالکل مختلف رہا ہے۔ جب ہم جیل جا رہے تھے، تب ان کی پالیسی آرمی اور پولیس جوائن کرنا ہوا کرتی تھی۔ جب کبھی یا جہاں کہیں ہندو مسلم فسادات ہونے کا خدشہ آن پڑتا تھا، یہ لوگ ضرور آ دھمکتے تھے۔ حکومت وقت ہمیشہ اس بات کا فائدہ اٹھاتی تھی، اور اسی لیے ہمیشہ انہیں شہ ملتا رہا۔ اور اب ہمیں اس کے نتائج کا سامنا ہے۔ “

اینکر: یہ محض کسی ایک فرد کی رائے ہے۔ آر ایس ایس کے خلاف کبھی کچھ ثابت نہیں ہو پایا ہے۔۔ اور بوس کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ نہرو، بوس سے اتنی نفرت کیوں کرتے تھے؟
گاندھی: میرے عزیز! اجازت دیں تو میں آپ کو ایک راز کی بات بتاؤں؟ آپ یہ جان لیں کہ جواہر اور بوس کے درمیان بہت معمولی اختلاف تھے۔ زیادہ اختلاف میرے اور سبھاش کے درمیان تھے؛ نظریاتی بھی اور تکنیکی بھی۔ آپ Nirad C. Chaudhari کی کتاب ‘Thy Hand Great Anarch ضرور پڑھیں۔ نیراد بابو کی کتاب میں ہمارے قصیدے نہیں لکھے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ واضح کیا ہے کہ نہرو کا بوس سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔ بلکہ ایک دفعہ سبھاش تب سخت ناراض ہوگئے جب جواہر (اور سردار بھی) نے کانگریس کے تریپوری سیشن (1939ء) میں میری حمایت کی۔

کیا میں اپنی بات جاری رکھوں؟ ہر کوئی بوس کے 28 مارچ 1939ء کے اس خط کا حوالہ دیتا پھرتا ہے جس میں انہوں نے نہرو پر یہ الزام لگایا ہے کہ وہ مجھ سے ”بے پناہ نفرت“ کرتے ہیں۔ نیراد بابو کی کتاب میں پورا سیاق موجود ہے، آپ اسے پڑھیے، شاید آپ کو اس رشتہ کی نزاکت کا اندازہ لگ پائے۔ جواہر ایک پروقار شخصیت کے مالک تھے۔ معمولی اختلافات کو عظیم رقابت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔

اینکر: آپ نہرو کا اتنا بچاؤ کیوں کر رہے ہیں؟
گاندھی: یا تو آپ بہرے ہیں یا پھر احمق۔ موجودہ ہندوستان میں جو ہو رہا ہے، وہ سامراجیت کی پرانی حکمت عملی یعنیdivide and rule کی ہی نقل ہے۔ ہم لوگ برطانوی جال سے آزاد اس لیے ہو سکے کیونکہ ہمارے سینئر رہنماؤں کے درمیان کو ئی لڑائی نہیں تھی۔ اختلافات بلاشبہ تھے۔ ممکن ہے رقابت بھی رہی ہو، مگر دشمنی ہرگز نہیں تھی۔ بالکل بھی نہیں۔ مجھے پورا اندازہ ہے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ تاریخ کیوں دوبارہ لکھی یا مسخ کی جار ہی ہے۔

جواہر اور سردار، جواہر اور سبھاش، جواہر اور بھیم راؤ کے بیچ دشمنی کا مفروضہ تیار کرنے کا اصل مقصد جواہر کی شخصیت اور معتبریت کو مسمار کرنا ہے۔ صرف دس سال قبل یہی لوگ بھیم راؤ کو کیا کیا برا بھلا نہیں کہا کرتے تھے۔ آج وہی لوگ خود کو ان کے پرستار میں شمار کرنے کا ڈھونگ کر رہے ہیں۔

میری (چتر بنیا کی) ایک بات نوٹ کر لیجیے۔ جب جواہر سے ان کا من بھر جائے گا، پھر یہ لوگ مجھے اپنا شکار بنائیں گے۔

(ہریش کھرے دی ٹریبیون کے ایڈیٹر ان چیف ہیں. سید کاشف پنجاب اینڈ ہریانہ ہائی کورٹ میں مترجم ہیں۔)