شریعت اور طریقت کا تلازم - محمد ریاض علیمی

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں سب سے افضل درجہ دیا۔ انسان کی پیدائش کا مقصد اللہ رب العزت کی عبادت کرنا اور اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے انسان کوہر لمحہ اور ہر قدم پر شریعت کی حاجت ہوتی ہے۔ پیدائش سے لے کر آخری سانس تک انسان شریعت کا محتاج ہے۔

علامہ ابن منظور لسان العرب میں شریعت کے معنی بیان کرتے ہیں کہ ’’ شریعت سے مراد بندوں کے لیے زندگی گزارنے کا وہ طریقہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تجویز کیا اور بندوں کو اس پر چلنے کا حکم دیا‘‘۔ انسان چاہے جتنا بھی متقی اور پرہیز گار ہو لیکن زندگی کے کسی بھی موڑ پر شریعت کے احکامات سے مستغنی نہیں ہوسکتا۔ اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شرعی احکامات پر عمل کیے بغیر کوئی بھی درجہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی بندہ اپنے آپ کو اللہ کی رضا کے لیے وقف کردے اور فنا فی اللہ کا مقام حاصل کرلے تو پھر بھی شرعی احکام سے علیٰحدہ نہیں ہوسکتا۔ چاہے طریقت ہو یا تصوف ، ہر میدان میں قدم رکھنے کے لیے شریعت کے میدان سے گزرنا ہوگا۔

حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک جو بھی اللہ کے محبوب بندے دنیا میں تشریف لائے اور بلند مقام و مرتبہ پر فائز ہوئے، وہ سب بھی شرعی احکامات کی پابندی کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ سمجھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری حیات کے بعد بھی بڑے بڑے صوفیائے کرام اور اولیائے کرام کی آمد کا سلسلہ جاری رہا لیکن تمام علمائے حق اور صوفیائے عظام نے ہمیشہ طریقت یا تصوف کو شریعت کے تابع سمجھا۔ ان کے اعمال کاصدور عین شریعت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ کے مطابق ہوتا تھا۔ یہی اللہ رب العزت سے محبت کی خاص علامت ہے۔ حضرت ذو النون مصری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ سے محبت کی خاص علامت یہ ہے کہ انسان ظاہر و باطن میں اس کے محبوب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق، افعال، احکام اور سنتوں کی اتباع کرے۔ (رسالہ قشیریہ)حضرت جنید بغداری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تک پہنچنے والے سارے راستے ہر شخص پر بند ہیں سوائے اس شخص کے جو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ کی اتباع و پیروی کرے۔ اس کے بعد مزید فرمایا: جس نے قرآن یاد نہ کیا اور حدیث نبوی کو جمع نہ کیا تو اس کی اقتداء و پیروی نہ کی جائے کیونکہ ہمارا یہ علم اور راستہ قرآن و سنت کا پابند ہے۔ (الرسالۃ القشیریہ) اسی طرح حضرت جنید بغدادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ میرے مرشد محترم حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ نے مجھے دعادی کہ اللہ تمہیں حدیث دان کرکے صوفی بنائے اور حدیث دان ہونے سے پہلے تمہیں صوفی نہ کرے۔ حضرت سری سقطی علیہ الرحمہ اس دعا کی شرح میں فرماتے ہیں کہ جس نے حدیث اور علم حاصل کرکے تصوف میں قدم رکھا وہ فلاح کو پہنچا اور جس نے علم حاصل کرنے سے پہلے صوفی بننا چاہا اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالا۔ (احیاء العلوم) حضرت ابوالقاسم نصر آبادی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: تصوف کی جڑ یہ ہے کہ کتاب و سنت کو لازم پکڑے رہے۔ (الطبقات الکبریٰ)

بزرگوں کا عالَم یہ تھا کہ طریقت کے میدان میں قدم رکھنے سے پہلے شریعت کو اچھی طرح سمجھا کرتے تھے تاکہ کوئی کام خلافِ شرع صادر نہ ہوجائے۔ ان کا طریقہ تھا کہ وہ اپنے مقام و مرتبہ میں جس حد تک بلندی حاصل کرلیں لیکن حدود اللہ کو کبھی پار نہیں کرتے تھے۔ یہی تعلیمات حضرت سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ دیا کرتے تھے۔ آپ نے فرمایا:حدود اللہ سے کبھی جدا نہ ہونا، اگر حدودِ شریعت میں خلل آیا تو جان لو کہ تم فتنہ میں پڑے ہوئے ہو، بے شک شیطان تمہارے ساتھ کھیل رہا ہے۔ لہٰذا فوراً شریعت کے حکم کی طرف لوٹ آؤ اور اپنی نفسانی خواہشات کو چھوڑدو کیونکہ جس حقیقت کی تصدیق شریعت نہ کرے تو وہ حقیقت باطل ہے۔ (طبقات الاولیاء) یعنی اگر طریقت کا راستہ شریعت سے جدا ہوگا تو وہ راستہ حق تک پہنچانے کے بجائے گمراہی کے راستے پر لے جائے گا۔ امام عبد الوہاب شعرانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: اولیاء کرام نے صاحبِ کشف پر واجب کیا ہے کہ جو علم بذریعہ کشف حاصل ہو اس پر عمل کرنے سے پہلے اسے کتاب و سنت پر پیش کرے، اگر وہ شریعت کے موافق ہو تواس پرعمل کرنا بہتر ہے ورنہ اس پر عمل کرنا حرام ہے۔ (فاضل بریلوی او رامورِ بدعت)

حضرت سیدنا عبد الغنی نابلسی علیہ الرحمہ چند صوفیائے کرام کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ سب کے سب شریعتِ محمدیہ اور طریقۂ مصطفویہ کی ظاہر و باطن سے تعظیم کررہے ہیں اور کیوں نہ کریں کہ یہ حضرات ان بلند و بالا مقامات اور درجات تک اسی تعظیم اور سیدھی راہِ شریعت پر چلنے کے سبب پہنچے ہیں۔ ان بزرگانِ دین میں سے کسی ایک سے بھی یہ منقول نہیں ہے کہ اس نے شریعتِ مطہرہ کے کسی حکم کی تحقیر کی ہو یا اس کو قبول کرنے سے باز رہاہو بلکہ یہ سارے بزرگ ہر حکم شریعت کو تسلیم کرنے، اس پر ایمان لانے، اس کا علم رکھنے اور اس پر عمل کرنے والے ہیں۔ یہ ہر گز نہیں ہوسکتا کہ کسی عارف اور سالک کے نزدیک ان نفوسِ قدسیہ کے باطنی علوم، شریعت مطہرہ کے خلاف ہوں۔ البتہ جاہل اور دھوکے میں پڑا ہوا شخص اس کے خلافِ شرع ہونے کا دعویٰ کرتاہے اور وہ جاہل و فریب خوردہ، علم اور ذوقِ سلیم سے عاری ہونے کی وجہ سے زبردستی اس معاملہ میں دخل اندازی کرتا ہے حالانکہ وہ ان راہوں سے بالکل نا واقف ہے۔ جب تم نے یہ جان لیا کہ بابرکت ہستیاں یعنی حضرات صوفیائے کرام، شریعت کے احکام کو مضبوطی سے تھامنے والے اور قریب ترین ذریعے سے قرب الٰہی حاصل کرنے والے ہیں تو خیال کرنا کہ کہیں ان جاہلوں کی حد سے گزری ہوئی باتیں اور دین کو نقصان پہنچانے والے کام تمہیں دھوکے میں نہ ڈالیں کہ بغیر علم و معرفت کے سالک و عابد بن بیٹھے ہیں۔ یہ لوگ عقائد اہلسنت سے ناواقفیت، خلافِ شرع اقوال، جہل مرکب کے سبب باطنی اعمال اور خود کو ہدایت پر سمجھنے کے اعتبار سے خود بگڑے اور دوسروں کو بھی بگاڑتے ہیں۔ وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں، سیدھی شریعت سے ہٹ کر بد مذہبی اور بے دینی کی طرف مائل ہیں، صراط مستقیم کو چھوڑ کر جہنم کی راہ چلتے ہیں۔ علمائے شریعت کی راہ سے الگ ہیں اور اپنی کمزور عقلوں اور بیہودہ رائے پر عمل کرتے ہیں۔ شیطان جو وسوسے ان کے خیالات و افکار میں ڈالتا ہے انہیں پر فریفتہ ہیں۔ پس ان کے لیے پوری خرابی ہے اس لحاظ سے کہ یہ اس مقام پراپنی حالت پر ڈٹے ہوئے ہیں، اس کو برا نہیں سمجھتے کہ اس سے رجوع کرلیں اور نہ ہی انہیں اپنے جاہل ہونے کا خیال آتا ہے کہ دوسروں سے ایسا علم حاصل کریں جو انہیں اس بری حالت سے نفرت دلائے۔ پس یہ جاہل لوگ راہِ خدا کے اس طور پر راہزن ہیں کہ جو شخص عبادت و طاعت اور اخلاص و تقویٰ کی راہ پر چلنا چاہتا ہے یہ لوگ اسے اپنی بناوٹی باتو ں، تکبرانہ اعمال، ناقص احوال اور غلط آراء کے ذریعے اس راہ سے روکتے ہیں اور احکام شرع کا انکار کرکے ہر دینی کام میں حق کو باطل کے ساتھ ملادیتے ہیں اور اللہ کی طرف سے بندوں کے لیے جو حق حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم لائے ہیں اسے جان بوجھ کر چھپاتے ہیں۔ ان کا مقصد صرف اپنے لیے دین کے معاملہ کو آسان بنانا ہے اور کمالات کو اپنی طرف منسوب کرنا ہے اور حال یہ ہے کہ نرے جاہل اور دین کے اصول و فروع کو ضائع کرنے والے ہیں۔ (الحدیقۃ الندیۃبحوالہ فیضان کمالات اولیاء)شیخ شہاب الدین سہروردی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: کچھ فتنہ پرور لوگوں نے صوفیوں کالباس پہن لیا ہے کہ صوفی کہلائیں حالانکہ ان کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ غلط ہیں اور غرور میں مبتلا ہیں کہ ان کے دل خالص خدا کی طرف ہوگئے ہیں اور یہی مراد کو پہنچ جانا ہے اور رسوم شریعت کی پابندی عوام کا مرتبہ ہے، (درحقیقت) ان کی یہ سوچ الحاداور بے دینی پر مبنی ہے اور (بارگاہِ الٰہی سے) دورہے۔ پس جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں بے دینی ہے۔

دور حاضر میں بعض نام نہادجعلی پیر اور متصوفین شریعت مطہرہ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پیری اور فقیری کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکے میں ڈال کر ان کو بھی گمراہ کرتے ہیں۔ وہ لوگ شریعت اور طریقت کو جدا جدا بتاتے ہیں۔ شرعی احکام پر عمل نہیں کرتے۔ شریعت کے متعلق ہرزہ سرائی کرتے ہیں کہ شریعت کی پابندی ہمارے لیے ضروری نہیں ہے۔ ہمارا طریقہ طریقت کا ہے اور ہم باطنی علوم پر عمل پیرا ہیں۔ ہم روحانی طور پر عبادت کرتے ہیں۔ معاشرے میں اس قسم کے گمراہ کن افراد کی کمی نہیں ہے۔ ہمیں ایسے لوگوں سے بچنا چاہیے۔ ان کے اقوال اور عقائد بعض اوقات کفریات تک جا پہنچتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ابلیس کے فریب میں آکر اپنے آپ کو شریعت سے مستغنی اور مستثنیٰ سمجھ لیاہے۔ درحقیقت اسلام میں کسی شخص کے لیے شریعت سے کوئی استثنیٰ اور چھوٹ نہیں۔ علمِ باطن وہی قابلِ قبول ہے جو شرعی علم ظاہر کا پابند ہو۔ ظاہر و باطن لازم و ملزوم ہیں۔ درحقیقت اسلام میں شریعت پہلے ہے اور طریقت اس کے تحت ہے۔ حضرت سید ابراہیم دسوقی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: شریعت درخت ہے اور حقیت پھل ہے۔ (الطبقات الکبریٰ)اگر درخت نہیں ہوگا تو پھل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح اگر شریعت نہیں ہوگی تو طریقت کا تصور بھی ناممکن ہے۔ امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ’’ شریعت اصل ہے اور طریقت اس کی فرع ہے، شریعت منبع ہے اور طریقت اس سے نکلا ہوا دریا۔ طریقت کی جدائی شریعت سے محال و دشوار ہے۔ شریعت ہی پر طریقت کا دارومدار ہے۔ شریعت ہی وہ راہ ہے جس سے وصول الی اللہ ہے، اس کے علاوہ آدمی جو راہ اختیا رکرے گا وہ اللہ تعالیٰ کی راہ سے دور ہوجائے گا۔ طریقت میں جو کچھ منکشف ہوتا ہے وہ شریعت مطہرہ ہی کے اتباع کا صدقہ ہے۔ جس حقیقت کو شریعت رد فرمائے وہ حقیقت نہیں ہے بلکہ بے دینی اور زندقہ ہے۔‘‘ ہمارے معاشرے میں اس قسم کے لوگوں کا اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ دین کی حقیقت سے غافل جاہل پیروں اور فقیروں کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے ایسے افراد کا معاشرتی بائیکاٹ ضروری ہے۔ یہ بے دین طبقہ معاشرے کو دین سے دور کرنے میں لگاہوا ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کی جانب سے خواتین کی عصمت دری کے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ بد قسمتی سے یہ طبقہ معاشرے کا ناسور بنا ہوا ہے۔ ہمیں اپنے تئیں ان کی ناپاک سازشوں اور چالوں سے بچنا ہوگا اور اللہ اور اس کے پیارے حبیب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے مطابق زندگی کے شب و روز بسر کرنا ہوں گے۔ اللہ رب العزت اپنے حبیب کے صدقے جاہل پیروں اور باطل صوفیوں سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے اور تادم آخر شریعت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */