مسکرائیے۔۔۔ خدا کے لیے! - ڈاکٹر عزیزہ انجم

شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہو گئی تھی۔ نیا کارڈ بنوانا تھا۔ شناختی کارڈ کے دفتر کے باہر لائن تھی۔ میں بھی قطار کا حصہ بن گئی۔ قطار میں لگنا مجھے اچھا لگتا ہے آپ کو یقین ہوتا ہے کہ اگلے لوگوں کے بعد آپ کا نمبر یقینی ہے۔ بھیڑ اور دھکم پیل میں تو گھنٹے کھڑے رہنے کے بعد بھی انجام کا پتہ نہیں ہوتا۔ آپ منزل تک پہنچ بھی سکیں گے یا نہیں؟ جلد ہی نمبر آگیا اور ہم خوبصورت صاف ستھرے ایئرکنڈیشنڈ آفس میں داخل ہو گئے۔ نمبر کی پرچی کے مطابق متعلقہ کاؤنٹر پر پہنچے۔

ماتھے پر تیوری سخت لہجہ اور سپاٹ چہرہ "جی! کیا کام ہے؟" حتی الامکان خوشگوار لہجے میں جواب دیا، "شناختی کارڈ کی میعاد ختم ہو گئی ہے، نیا بنوانا ہے۔" " لائیے، پرانا دیجیے۔" پھر مختلف سوالات، کمپیوٹر پر تصدیق، تصویر، دستخط، سارے مراحل کے دوران چہرے کے تاثرات سے یوں لگتا تھا ابھی آپ کی غلطی پکڑی گئی اور آپ کو نکال باہر کیا گیا۔ دل تو چاہا پوچھوں کہ طبیعت ناساز ہے؟ گھر میں کوئی تلخی ہو گئی؟ یقیناً صبح صبح کریلے تو آپ نے نہیں کھائے ہوں گے۔

نجانے کیسا مزاج بن گیا ہے ہمارا؟ ہم سب اپنی اپنی جائے ملازمت پر، اپنے کاؤنٹر پر کریلے کھائے ہوئے کیوں ہوتے ہیں۔ اپنی کرسی پر بیٹھ کر سامنے والے فرد کی تضحیک ہمارا فرض ہوتی ہے۔ کسی بھی دفتر میں چلے جائیں گیٹ پر کھڑے چوکیدار سے لیکر اندر بیٹھے صاحب تک کے چہروں پر نظر ڈالیے۔ بے اعتنائی، بیزاری، سامنے کھڑے فرد سے لاتعلقی، کاغذ ہاتھ میں پکڑ کر بےنیازی کے ساتھ بیٹھے دفتری ساتھی سے بے مقصد گفتگو۔ اور مسکراہٹ؟ اس کا تو ذکر بھی نہ کریں۔ سوال کرنے کی گستاخی سے پرہیز لازم ہے اور دوبارہ آنے کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں۔

ڈاکٹری کے شعبے کا حال یہ ہے کہ آپ مریض کو لانے کی غلطی کر ہی بیٹھے ہیں تو سخت لہجے اور کرخت چہروں والے ڈاکٹر اور اسٹاف سے نہ سوالوں کے جواب کی توقع رکھیں، نہ ااس مسکراہٹ کی جو جزوِ مسیحائی ہے۔ اب کالج آف فزیشن والے دھڑا دھڑ مریضوں سے حسنِ معاملہ کی ورکشاپس کرارہے ہیں کہ یہ بھی دیارِ مغرب کے میڈیکل پرفیشن کے ادب آداب ہیں اور اس کے نمبر ہوتے ہیں، ورنہ وہ مسکراہٹ جو شعبہ مسیحائی کا لازمی حصہ ہے اس کے صرف خواب دیکھے جاسکتے ہیں، سوائے چند فرشتوں کے۔

یہ بھی پڑھیں:   ہمیشہ مُسکرائیے- مفتی سیف اللہ

نجانے مسکرانا، دوسروں سے نرم لہجہ میں بات کرنا بحیثیت قوم ہی ہم نے کیوں چھوڑ دیا ہے؟ تقریبات میں، انتظار گاہوں میں، پارک میں چہل قدمی کرتے ہوئے، خرید و فروخت کرتے، ہم نہ تھوڑی دیر کے پڑوسی کو سلام کرتے ہیں، نہ مسکراتے ہیں۔

اس قومی شعار کو بدلیے۔ مسکرائیے، خدا کے لیے مسکرائیے کہ مسکرانا سنت ہے۔ اجنبی سے خوشگوار گفتگو کا حکم ہے۔

اجنبی ہوں یا اپنے، دفتر ہو یا گھر، آپ افسر ہیں یا ماتحت، ذمہ داری سخت ہو یا ہلکی، اسٹریس میں ہوں یا ریلیکس، مسکرائیے ۔ مسکراہٹ ماحول کے تناؤ کو دور کرتی ہے۔ میٹنگ سرکاری ہو یا پرائیویٹ ادارے کی، اکثر لہجوں میں تلخی آجاتی ہے، ماحول تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ ایسے میں شرکاء اگر چہروں پر ہلکی سی مسکراہٹ لے آئیں، زبردستی ہونٹوں کی لکیر کو لمبا کرلیں تو ماحول کا تناؤ یکدم کم ہو جاتا ہے ۔

آپ سخت تھکے ہوئے ہیں، کام کا بوجھ زیادہ ہے، فرم یا ادارے سے معاملات ٹھیک نہیں پھر بھی مسکرائیے۔ دن بھر کی تھکن کاندھوں پر لیے گھر میں داخل ہوں تو چہرے کو مسکراہٹ سے ضرور سجائیے۔

مسکراہٹ ہمارے اپنے اندر کا موسم خوشگوار کرتی ہے، تھکن اتارتی ہے۔ مسکراہٹ امید کی کرن ہے، زندگی کی نوید ہے، محبت کا پیغام ہے۔ مسکراہٹ کو اپنی شخصیت کا حصہ بنالیں۔

Comments

Avatar

عزیزہ انجم

ڈاکٹر عزیزہ انجم 30 سال سے بطور فیملی فزیشن پریکٹس کر رہی ہیں۔ شاعری کا مجموعہ زیرِ طباعت ہے۔ سماجی اور معاشرتی موضوعات پر طویل عرصے سے لکھ رہی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.