اسلامی نظامِ سیاست، کیا، کیوں، کیسے؟ - اعجاز احمد

سوال-1 : اسلام کے سیاسی نظام کے قیام کا کیا مقصد ہے ؟
جواب : اسلام کے سیاسی نظام کو قائم کرنے کا واحد مقصد حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کا قیام ہے۔ یعنی ایک ایسے معاشرے کا قیام جہاں ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہوکر تمام انسان جھوٹ، بےایمانی، ظلم، جبر، غربت، جہالت، بے راہ روی اور دوسرے انسانوں کی معاشی و طبقاتی غلامی سے چھٹکارہ حاصل کرکے خالقِ کائنات کے بتائے گئے تعلیماتِ عدل و احسان، امن و انصاف، آزادی و مساوات اور ترقی و خوشحالی سے رہ سکیں۔


سوال-2 : حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ کیسے قائم ہوگا ؟
جواب : حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرہ اس وقت ہی قائم ہوسکتا ہے جب معاشرے میں ایک خاص تعداد میں لوگ سچائی، ایمانداری، عدل و انصاف، پاکیزگی اور صلہ رحمی پر چلنے کا عہد کرکے متحد ہوجائیں۔ ان کے کردار اور اتحاد کی طاقت سے مزید لوگ ان کے حامی ہوجائیں گے اور جاری جمہوری عمل کے نتیجے میں اِن اعلیٰ کردار لوگوں کو ملک میں سیاسی بالادستی حاصل ہوجائے گی اور حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کا آغاز ہوجائے گا۔


سوال-3 : کیا حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے جنگ کرنا ناگزیر ہے ؟
جواب : جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے اعلیٰ سیرت و کردار پر چلنے والے لوگوں کی خاص تعداد چاہیے ہوتی ہے۔ جبکہ جنگ کے ذریعے سیرت و کردار کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ ایسا نہ پہلے کبھی ہوا ہے اور نہ آگے ممکن ہے۔ جنگ سے سیرت و کردار تبدیل نہیں ہوا کرتے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات کے مطابق جنگ کا مقصد عدل و انصاف پر مبنی نظام کا قیام نہیں ہوتا ہے بلکہ قائم شدہ ایسے نظام کو بیرونی حملہ آوروں کی جارحیت سے بچانا اور ہر طرح کی تفریق سے بالاتر ہوکر تمام مظلوم انسانیت کو ظلم سے نجات دلانا ہوتا ہے۔


سوال-4 : عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے جو سیاسی بالادستی چاہیے ہوتی ہے اس کے حصول کے لیے جنگ کیوں نہ کریں؟
جواب : اول تو یہ کہ عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کے لیے جابرانہ اور غیر عادلانہ طریقہ اختیار نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اگر ایسا کرکے کامیابی حاصل کر بھی لی گئی تو جابرانہ عمل کا نتیجہ عادلانہ معاشرے کے قیام کی صورت میں نہیں نکلے گا بلکہ اس کے نتیجے میں ایک دوسرے طرز کی جابرانہ حکومت قائم ہوجائے گی۔

دوسرے یہ کہ کسی نبی علیہ السلام نے جنگ کرکے عادلانہ معاشرہ کی بنیاد نہیں ڈالی، کیونکہ یہ ایک غیر فطری عمل ہے۔

تیسرے یہ کہ جمہوری عمل کے مقابلے میں مسلح جدوجہد کے ذریعے سیاسی تبدیلی کے لیے کم سے کم دس گُنا زیادہ لوگ چاہیے ہوں گے۔ اگر جمہوری عمل کے ذریعے سیاسی تبدیلی کے لیے 5 فیصد باکردار، متحد اور کمیڈڈ لوگ کافی ہوں گے تو جنگ کے ذریعے سیاسی تبدیلی لانے کے لیے 50 فیصد کمیٹڈ لوگ بھی کم پڑ جائیں گے۔

چوتھے یہ کہ اللہ تعالیٰ کا دنیا بنانے اور انسانوں کو یہاں بھیجنے کا مقصد انہیں جبر کے ذریعے کسی قانون کی پیروی کروانا نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ کون اپنی آزاد مرضی سے اپنے کردار و عمل کو الہٰی تعلیمات کے مطابق کرتا ہے اور کون اپنی مرضی سے ظلم و جبر کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کو انسانوں کے درمیان جبر کے ذریعے ہی عدل و انصاف قائم کرنا ہوتا تو وہ خود ایک لمحے میں ایسا کردیتا مگر اِس سے اس دنیا کو امتحان گاہ بنانے کا مقصد ختم ہوجاتا۔


سوال-5 : کیا ہمارے معاشرے میں 5 فیصد اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل لوگ نہیں ہیں ؟
جواب : ہمارے معاشرے میں 5 فیصد سے زیادہ اعلیٰ سیرت و کردار کے حامل لوگ موجود ہیں مگر بدقسمتی سے وہ منتشر ہیں اور اپنے ملک و معاشرے کو سدھارنے کے طریقہ کار کے متعلق ابہام اور فکری انتشار کا شکار ہوکر آدھے درجن مختلف الخیال گروہوں سے وابستہ ہیں اور نادانستگی میں ایک دوسرے کی قوت کمزور کر رہے ہیں۔


سوال-6 : اعلیٰ سیرت و کردار کے لوگ کیسے بنیں گے اور کیسے متحد ہوں گے ؟ شعوری مسلمانوں کا اس معاملے میں کیا کردار ہونا چاہئیے؟
جواب : اسلام کی تعلیمات کے مطابق اعلیٰ سیرت و کردار کے لوگوں کی تیاری اور انہیں متحد کرنے کے لیے شعوری مسلمانوں کو متحد ہوکر اَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَی عَنِ الْمُنكَرِ کی ہمہ جہت، مربوط اور طویل مدتی جدوجہد کرنا ہوگی۔ ایسی جدوجہد کرنا ہر مسلمان کا اخلاقی، سماجی اور دینی فریضہ ہے جسے کوئی شعوری مسلمان کسی قیمت پر نظر انداز نہیں کرسکتا ہے۔ اسلام کی واضح تعلیمات سے پتہ چلتا ہے کہ اگر شعوری مسلمانوں نے اس اہم ترین ذمہ داری کو نظرانداز کردیا تو خدانخواستہ ایک بڑی تباہی و بربادی انکا مقدّر ٹھہرے گی۔


سوال-7 : کیا افغانستان میں طالبان جہاد کر رہے ہیں ؟
جواب : جہاد اصطلاحی لحاظ سے عادلانہ معاشرہ قائم کرنے کے لیے نظام کی تبدیلی کی جدوجہد کو کہتے ہیں۔ جنگ سے اقتدار کی تبدیلی تو ممکن ہے لیکن نظام کی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا افغانستان میں جاری موجودہ جنگ غاصب فوجوں سے آزادی کی جنگ ہے۔ اسے قرآن اور سنت کے کسی اصول کے تحت جہاد نہیں کہا جاسکتا ہے۔

اگر غاصب فوجیں ملک چھوڑ دیں تو طالبان کا بھی فرض ہوگا کہ وہ ہتھیار رکھ دیں اور خالصتاً ذہنوں کی تطہیر کا کام شروع کردیں یہاں تک کہ معروف جمہوری اصولوں سے انہیں ملک میں سیاسی بالادستی حاصل ہوجائے۔ اگر قابض امریکی فوجوں کی واپسی اور جمہوری عمل کے آغاز کے بعد بھی طالبان ہتھیار نہ رکھیں تو یہ فساد فی الارض کے مرتکب ہوں گے۔


سوال-8 : کیا پاکستان کی حکومت کو امریکہ کا ساتھی کہہ کر اُن سے لڑنا جائز ہے ؟
جواب : پاکستان کی حکومت امریکہ کی ساتھی ہے کہ نہیں یہ معاملہ اسٹریٹجک امور سے متعلق ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اسٹریٹجک امور کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ لہٰذا پاکستان کے امریکہ کے دوست ہونے کے متعلق اپنے طور پر کوئی فیصلہ کرلینا اور جنگ شروع کردینا فساد کا موجب ہوگا جو اسلام کے نزدیک سخت ترین گناہ ہے۔

اور اگر بالفرض پاکستان کی حکومت کسی حد تک امریکہ کا ساتھ دے بھی رہی ہو تو ایک شعوری مسلمان کا فرض ہے کہ وہ ہتھیار اٹھا کر صورتحال کو مزید پیچیدہ کرنے اور افراتفری اور فساد پھیلانے کے بجائے اپنی ساری توانائیاں اَمَرُوا بِالْمَعْرُوفِ وَنَهَی عَنِ الْمُنكَرِ کی جدوجہد پر صرف کرے اور خود بھی اعلیٰ سیرت و کردار کا نمونہ بنے اور معاشرے میں بھی ایک خاص تعداد میں لوگوں کو سچائی، ایمانداری، عدل و انصاف، پاکیزگی اور صلہ رحمی سمیت تمام اعلیٰ انسانی اقدار پر چلنے کی دعوت دے اور انہیں اس ایک نکاتی پروگرام پر متحد کرے۔

یہی وہ واحد اسلامی، عقلی اور عملی طریقہ ہے جسکے نتیجے میں صالح کردار لوگوں کے کردار اور اتحاد کی طاقت سے اور جاری جمہوری عمل کے نتیجے میں اِن اعلیٰ کردار لوگوں کو ملک میں سیاسی بالادستی حاصل ہوجائے گی اور حقیقی عدل و انصاف پر مبنی معاشرے کے قیام کا آغاز ہوجائے گا۔


سوال-9 : کیا پاکستان میں الیکشن کے ذریعے مثبت تبدیلی لانا ممکن ہے ؟
جواب : پاکستان میں الیکشن کے ذریعے حکومت حاصل کرنا دنیا کے کسی بھی ملک سے آسان ہے۔ یہاں کل ووٹوں کا صرف 20 فیصد ووٹ لینے والی پارٹی مضبوط حکومت بنا لیتی ہے۔ 20 فیصد ووٹ لینے کے لیے ضروری ہے کہ صرف 5 فیصد سچے، کردار و عمل میں بہتر نظریاتی افراد متحد ہو جائیں۔ باقی 15 فیصد ووٹر 5 فیصد سچے اور ایماندار لوگوں کے کردار اور عمل کی قوت سے سیاسی عمل کے ذریعے با آسانی قریب آجائیں گے، ان شاءاللہ۔

شعوری مسلمانوں کا اصل فرض یہ ہے کہ 5 فیصد سچے، ایماندار، پاکیزہ صفت، عدل و انصاف پر کاربند رہنے والے رحم دل لوگوں کو متحد کرنے کے لیے ایک کثیرالجہتی اور مربوط منصوبہ بندی کریں۔ انکا تعلق قرآن سے جوڑنے کے لیے ایک ہمہ گیر جامع پلان بنائیں اور خود بھی اور انہیں بھی قرآن کی روح یعنی عدل و انصاف پر مبنی فرد اور معاشرے کے قیام سے واقف کرائیں۔

Comments

اعجاز احمد

اعجاز احمد

اعجاز احمد نے کراچی کی این ای ڈی یونیورسٹی سے مکینیکل انجینیئرنگ کرنے کے بعد جاپان سے ٹیکسٹائل کے شعبے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ وہ پچھلے 26 برس سے ٹیکسٹائل کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ آجکل اسی شعبے میں اپنا ذاتی کاروبار کر رہے ہیں۔ آپ قرآن کا وسیع مطالعہ رکھتے ہیں اور جدید معاشی نظاموں اور نظریات سے بھی اچھی طرح واقف ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • اعجاز احمد صاحب کی تحریر مختصر مگر مدلل ہے. یہ تحریر ایک جانب اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں پھیلائے گئے منفی تاثرات کا جواب دیتی ہے تو دوسری طرف جہاد کے ضمن میں اسلامی نکتہ نظر کی بہترین عکاس ہے..تحریر کا ہلکا پھلکا اسلوب اور سوال جواب کا اندازہ وجوان نسل تک ابلاغ کے لیے نہایت موثر ہے

  • السلام علیکم ورحمۃ الله! اعجاز صاحب کی تحریر مختصر اور جامع ھے تاھم سوال نمبر تین کے جواب میں جو کہا گیا ھے کہ "جنگ صرف پہلے سے قائم اسلامی نظام کے دفاع میں ہی جائزھے"اگر اس بات کو مان لیا جائے تو رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کا مکہ کو فتح کرنا ،یہودیوں کو ان کی بستیوں سے بیدخل کرنااور حضرت اسامہ رضہ الله عنہ کی قیادت میں لشکر قائم کرنا اور آپ صلی اللّٰہ کے بعد خلفاء راشدین کا مدینہ سےلےکر مصر،شام،ایران اور افریقہ تک اسلامی مملکت کا قیام اس کو آپ کیا کہیں گے ؟
    دراصل ہمیں ایک بنیادی فرق کو سمجھنا چاھیئے کہ ایک تبدیلی کی جدوجہد مسلم ملک کے اندر ھے اور دوسری جدوجہد غیر مسلم ملک میں آپ دونوں جگہ ایک ہی طریقہ اختیار نہیں کر سکتے۔
    سوال نمبر سات کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ" آزادی کی جنگ کو جہاد قرار نہیں دیا جا سکتا " تو پھر قرآن میں یہ کیوں کہا گیا ھے کہ "تمہیں کیا ھو گیا ھے کہ تم ان لوگوں کی مدد نہیں کرتے کہ جو تھوڑے جان کر دبا دیے گے ھیں اور یہ پکار رھے ھیں کہ خدایا ہمارا کوئی حامی ومددگار بھیج۔"
    اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے نجات دلانا ۔کیا یہ جہاد نہیں۔
    اللہ سبحانہ و تعالیٰ ھم سب کو صحیح دینی شعور عطا فرمائے۔آمین ثم آمین

    • سوال-8 : اسلام نے جنگ کرنے کا حکم کن صورتوں میں دیا ہے ؟

      جواب : اسلام کی تعلیمات کے مطابق مسلمانوں پر جنگ تین صورتوں میں فرض ہوتی ہے :

      1- جب دینِ حق کے قائم شدہ نظام کو مٹانے کی کوشش کی جارہی ہو۔

      أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا- 22:39
      جن لوگوں سے جنگ کی جارہی ہے انھیں جنگ کی اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ اُن پر ظلم کیا گیا ہے۔

      یہ جنگ کے متعلق پہلی آیت ہے جو قرآن میں بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک ھجری کے آخر میں نازل ہوئی ہے، یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے 14 سال کے بعد اور اسلامی حکومت قائم ہوجانے کے ایک سال بعد۔ اس آیت سے بھی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اسلامی حکومت قائم ہونے سے پہلے ظلم و جبر کا جواب جنگ سے دینے کی اجازت نہیں تھی۔

      2- جب اندرونی اور بیرونی طاقتیں ملک میں فتنہ پھیلانے کی کوشش کریں۔

      وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ لِلَّهِ- 2:193
      تم اُن سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لئے ہوجائے۔

      فتنہ پھیلانے والوں سے مراد ہے :
      - ایسا گروہ یا ملک جو اسلامی حکومت کے خلاف سازشیں کرتا ہو،
      - ریاست کے بنیادی قوانین کے خلاف بغاوت کرتا ہو،
      - ملکی امن و امان اور ہم آہنگی کو خراب کرنے کی کوشش کرتا ہو،
      - حکومت سے کئے گئے جنگی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کرتا ہو،
      - اسلام قبول کرنے والوں کو تنگ کرتا ہو،
      - ان کو قبولیتِ حق سے روکتا ہو،
      - یا پھر شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچاتا ہو۔
      مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ فتنہ پھیلانے والے گروہ یا ملک سے اس وقت تک لڑیں جب تک کہ وہ اپنی ریشہ دوانیوں سے باز نہ آجائیں۔

      3- دنیا کے مظلوم و مجبور انسانیت کو ظلم و جبر سے نجات دلانے کے لئے

      وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ وَلِيًّا وَاجْعَل لَّنَا مِن لَّدُنكَ نَصِيرًا - 4:75
      آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبا لئے گئے ہیں اور فریاد کر رہے ہیں کہ خدایا ہم کو اِس بستی سے نکال جسکے باشندے ظالم ہیں اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔

      سیاق و سباق کے لحاظ سے یہاں وہ مظلوم مسلمان مراد ہیں جن پر غیرمسلم حکومتوں میں ظلم ہورہا تھا تاہم اس آیت کا مفہوم اُن تمام مسلم اور غیر مسلم مجبور اور بےبس انسانوں سے متعلق ہے جن پر دنیا کے کسی بھی حصے میں ظلم ہورہا ہو۔ اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ دنیا کے تمام مظلوم و مجبور انسانوں کو ظلم سے نجات دلانے کے لئے مؤثر منصوبہ بندی اور کاروائی کرے۔

      دینِ اسلام ہر ممکن صورت میں امن کو پسند کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ اِن تین وجوہات یعنی
      - حملہ کرنے والے،
      - فتنہ و فساد پھیلانے والے، اور
      - انسانیت پر ظلم و جبر کرنے والے ملک کے علاوہ اسلام دنیا کے تمام ملکوں کے ساتھ صلح اور امن کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔

      ان تین وجوہات کے علاوہ جو جنگ ہوگی وہ مذہبی جنگ یا جہاد یا قتال فی سبیل اللہ نہیں کہلائے گی۔ اس میں دنیا کے معروف قانون کے مطابق حق اور باطل کا فیصلہ کیا جائیگا۔ اگر جنگ معروف معنوں میں جائز ہے تو جنگِ آزادی ہوگی ورنہ فساد کہلائے گی۔

    • جہاد بہت وسیع الجہت لفظ ہے۔ قرآ ن میں تو مشرک والدین کے حوالے سے آیا ہے کہ وہ جہاد کرتے ہیں یعنی کوشش کرتے ہیں اولاد پر ۔
      جہاد فی سبیل اللہ سب سے عظیم ہے اسکے بعد کہہ سکتے ہیں فی سبیل حریت ۔ حتی کہایک مسلمان اپنے خاندان اور اپنے مال کو بچاتے ہوئے قتل ہو جائے تو وہ بھی شہید ہے ۔ تو ملک و قوم کے لیے جہاد تو واقعی عظیم تر ہوا۔ لیکن اگر اسلام کو قائم کرنے یا پہلے سے قائم اسلام کو بچانے کی جدو جہد ہے تو وہ اصلاً جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ مصنف اور ان جیسے کئی مفکرین نے رسول اللہ کے پورے مشن اور منہج انقلاب پر شائد گہرائی سے غور نہیں کیا ہے۔ قرآن و سنت کے حوالے بھی نہیں دیے اور اتنے بڑے بڑے نتائج اخذ کرلیے۔ سورۃ الحدید آیت ۲۵ دیکھ لیجیے کہ رسولوں کے آنے کا مقصد نظام عدل و قسط کا نفاذ ہے اور پھر اللہ فرماتے ہیں کہ ہم نے لوہا بھی اتارا ہے جسمیں جنگ کی زبردست صلاحیت ہے۔ اب جنگ، کیسے ،کب ،کیوں ،کس سے ، کن حالات میں کرنی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ کی سیرت دیکھ لیں۔ آقا ﷺ کی ان فوجی مہمات کی بہت کم بات ہوتی ہے جو بدر سے پہلے ہویئں ، بعض میں رسول اللہ ﷺ نے خود شرکت کی۔ نخلہ والی مہم میں تو ایک قرشی مارا بھی گیا جو بدر کا ایک بڑا پیش خیمہ بنا۔ یاد رکھیں انقلابی Status Quo دیکھتا نہیں رہتا بلکہ منصوبہ بناتا ہے ، پہل کرتا ہے۔ ہاں ، بنیادی اخلاقی اصول مجروح کیے بغیر۔
      ایک بات یہ بھی ہے کہ جب سعد بن ابی وقاص ؓ ایران کی سرحد پر تھے اور تین option رکھ رہے تھے فارس کی فوج کے سامنے تو انکی پشت پر ایک انتہائی خدا ترس، انسان دوست فلاحی خلافت تھی۔ یعنی دعوت اور تبلیغ کے ساتھ ساتھ ایک عظیم عملی نمونہ سامنے تھا۔ میں کہنا یہ چاہ رہا ہوں کہ آج کے دور میں ہم اپنے ملک کو ہی اگر صحیح طریق پر اسلامی فلاحی مملکت بنا دیں چاہے انتخابات سے ہو یا پر امن احتجاجی مطالباتی تحریک سے۔ دنیا میں اسلام کی تبلیغ آسان ہو جائے گی۔

      • اسلامی نظام قائم کرنے کے لئے جنگ کرنے کی کوئی سند قرآن اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔اور نہ ہی جنگ کے ذریعے اسلامی نظام قائم ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کی اجازت دینے کا پہلا قرآنی حکم اسلامی حکومت قائم ہوجانے کے ایک سال کے بعد نازل کیا گیا۔ اسلامی حکومت کے قیام سے پہلے نہ جنگ لڑی گئی نہ اس کی اجازت تھی۔ ملاحظہ کریں اوپر کمنٹ میں پیش کردہ آیت 22:39

        سورہ الحدید میں انبیاء اور قرآن نازل کرنے کا واحد مقصد امن و انصاف یعنی قسط کا قیام بتایا جارہا ہے۔ اسلام میں جنگ کرنا فرض ہے اور یہ جہاد کا آخری اور بلند ترین حصہ ہے تاہم قرآن اور سنت کے مطابق قتال فی سبیل اللہ اسلامی حکومت قائم ہوجانے کے بعد تین صورتوں میں فرض ہوتا ہے یہ بھی اوپر کمنٹ میں لکھ دیا گیا ہے۔ جو درج ذیل ہے :
        1- قائم شدہ اسلامی حکومت کا دفاع کرنا
        2- فتنہ و فساد پیدا کرنے والوں سے لڑنا
        3- دنیا کے مجبور انسانیت کے لئے اٹھنا۔