سنو! ریحان خان

سنو!
آج دیوالی ہے اور میں اپنے غم کدے کی بتیاں گل کیے بیٹھا ہوں۔ کبھی کبھی دریچے سے باہر نگاہ جاتی ہے تو آسماں روشنی سے معمور نظر آ تا ہے۔ یہ ممبئی کا آسماں ہے، عروس البلاد کا آسمان، جس کے تلے زمین پر ستارے مچلتے ہیں، جن کی تب و تاب سے فلک خیرہ ہوتا ہے۔ یہ تب و تاب مصنوعی ہے، یہ دوسروں کی جنت ہو سکتی ہے لیکن یہ میری جنت نہیں ہے۔ دریچے سے در آتی روشنی مجھے تنگ کر رہی تھی اس لیے میں نے اسے بند کر دیا۔ روشنی جو مستقل نہیں ہے، بس ایک چمکیلا سا نقطہ زمین سے اٹھ کر آسمان کی طرف جاتا ہے، اپنے عروج پر پہنچ کر وہ پھٹ جاتا ہے، کچھ ستارے نمودار ہوتے ہیں جو دو سے تین سیکنڈ کے وقفے میں ختم ہوجاتے ہیں، پھر اس کے بعد دھواں اور بارود کی بو ہی دیر تک رہ جاتی ہے۔ انسانی فطرت کی اصل کیفیت غم ہے اور خوشی ایک عارضی شے ہے، اتنی ہی عارضی جتنی وہ رنگ برنگ روشنی ہوتی ہے جو اپنے پیچھے دھواں اور بو چھوڑ جاتی ہے۔ میں نے کھڑکی بند کردی۔

مری رات منتظر ہے کسی اور صبح نو کی
ایک وقت تھا جب تمھارے لبوں کی نزاکت، جبیں کی تمازت، لہجے کی حلاوت، کلام کی بلاغت اور فطرت کی شرافت میں میرے لیے ہزار دلچسپیاں تھیں، لیکن آج تم اپنے ان تمام اوصاف کے ساتھ میرے سامنے آجاؤ، تو میں یقین سے نہیں سکتا کہ تم سے متاثر ہوجاؤں گا، متاثر ہونا میں نے بند کر دیا ہے۔ اب میرا ماننا ہے کہ عشق ایک آسمانی جذبہ ہے جسے کسی فرد پر ضائع نہیں کیا جانا چاہیے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم کسی فرد سے نہیں بلکہ اپنے تخیل سے محبت کرتے ہیں، اور دنیا کی بھیڑ سے ایک چہرہ منتخب کر کے اسے اس معیار تک لانے کی کوشش کرتے ہیں جو ہمارا تخلیق کردہ ہوتا ہے۔ میں نے گزشتہ دنوں تمھیں دیکھا تھا، وہ تم ہی تھیں لیکن وہ تم نہیں تھیں، میں دیر تک تمھیں چھپ کے دیکھتا رہا اور خود سے سوال کرتا رہا کہ کیا یہ وہی ہے جس کے لیے میں پاگلوں کی سی حرکتیں کرتا تھا۔ شکر ہے تمھاری نگاہ مجھ پر نہیں پڑی لیکن کاش کہ تمھیں یہ احساس ہوجاتا کہ میں تمھیں دیکھ رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھیں:   آپکی محبت کے منتظر - امم فرحان

شکر اس لیے کہ مجھے نہیں پتہ کہ دیکھنے کے بعد تمھارا رویہ کیا ہوتا، ہوسکتا ہے تم مجھے نظر انداز کر دیتیں جس سے مجھے دکھ ہوتا کیونکہ تم وہ نہ ہو کر بھی وہی ہو جس پر میں نے اپنا تخیل برباد یا نچھاور کیا ہے، تم بڑی مغرور تھیں اور تمھیں اس کا حق تھا، حسن مغرور نہ ہو تو مسکین لگتا ہے اور کم از کم میں تو تمھیں مسکین نہیں دیکھ سکتا۔ لیکن اس دن تمھارے چہرے پر غرور نظر نہیں آیا، تم بےنیاز نظر آئی تھیں جیسے پروانوں کے بیچ شمع بے نیاز ہوتی ہے۔

بہر حال شکریہ جبر مسلسل کا
تمھاری بےاعتنائی نے مجھے بنجارہ بنا دیا، اب میں اپنے ہر مسکن کے گرد گھاس پھوس اگنے سے قبل اسے خیرباد کہہ دیتا ہوں، تم بے اعتنائی نہ برتتیں تو شاید میں اسی خاک سے چمٹ کر رہ جاتا جسے تمھاری قدم بوسی کی سعادت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اب میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ اپنی عمر سے زیادہ تجربہ کار ہوگیا ہوں، طرح طرح کے لوگوں سے ملا ہوں، ان کے نظریات سنے ہیں اور اپنے نظریات پیش کیے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں میں اپنی رائے چھپا جاتا ہوں لیکن لوگ یہ نہیں دیکھتے کہ میں رائے کے علاوہ اور کیا کچھ چھپا جاتا ہوں، مسکراہٹیں آنسوؤں کے سمندر میں تیر کر لبوں تک آتی ہیں اور قہقہے کھوکھلے ہوتے ہیں۔ پانچ برس بعد تمھیں دیکھا تھا، تمھاری رنگت گندمی ہوچکی ہے یا تم نے زیبائش جمال کے لوازمات کو ترک کر دیا ہے۔ کرپشن کے خلاف تمھارے جذبے کی میں تہہ دل سے قدر کرتا ہوں۔ میری آنکھیں نیند سے بوجھل ہوئی جارہی ہیں، میں نیند میں باتیں کرتا ہوں اور شاید یہ باتیں بھی نیند میں ہی کر رہا ہوں۔ پتہ نہیں اس کیفیت کو کیا کہتے ہیں کہ تم سے دور ہو جانے کی خوشی ہے اور تمھیں کھو دینے کا ایک لامتناہی افسوس۔