ٹی ایس ایلیٹ کی تنقید اور اقبال کی شاعری - شہباز بیابانی

ٹی ایس ایلیٹ اور اقبال دونوں شاعر بھی ہیں اور نقاد بھی۔ ایلیٹ کی اہمیّت اس بات میں ہے کہ اس نے فنکار کے بجائے فن پارے کو تنقید کا مرکز بنایا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ تقریباً ایک صدی کے بعد ایک ایسے ناقد کی ضرورت ہوتی ہے جو ماضی کے ادب کا ازسر نو جائزہ لے اور عظیم فن پاروں کی تنظیمِ نو کرے۔

یہاں آپ یہ بات نوٹ کریں کہ اسلامی نقطہ نظر سے بھی ہر صدی میں ایک مجدّد پیدا ہوتا ہے جو دین کی تجدید کرتا ہے۔ میری نظر میں اقبال بھی اسی صدی کے شاعری کے مجدد ہیں۔

ایلیٹ کے مطابق صرف فن پارے پر تنقید کرنا چاہیے جبکہ اقبال نے شاعروں پر بھی تنقید کی ہے، وہ کہتے ہیں:

ہند کے شاعرو صورت گر و افسانہ نویس

آہ! بیچاروں کے اعصاب پر عورت ہے سوار

اور

مشرق کے نیستاں میں ہے محتاج نفس نے

شاعر! ترے سینے میں نفس ہے کہ نہیں ہے

ایلیٹ احساس ماضی اور احساس روایت کو ضروری سمجھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ روایت کے یہ معنی نہیں ہیں کہ محض چند تعصبات کو برقرار رکھا جائے۔ روایت سے مراد فطرت ثانیہ، عادات و اطوار، رسوم و رواج، مذہبی رسوم سے لے کر سلام و دعا کی عام عادات تک وہ تمام چیزیں ہیں جو ایک جگہ رہنے والوں کی دلی خواہش کو ظاہر کرتی ہیں۔ مگر ایلیٹ کی نظر میں ماضی پرستی اور چیز ہے اور احساس روایت اور چیز ہے۔ ماضی کے کن کن چیزوں کو برقرار رکھنا چاہیے اور کن کن کو رد کر دینا چاہیے۔

ایلیٹ تاریخی شعور پر بہت زور دیتا ہے تاریخی شعور کے معنی یہ ہیں کہ ماضی کو حال میں زندہ دیکھا جائے۔ یہ شعور شعراء کو مجبور کرتا ہے کہ وہ لکھتے وقت محض اپنے عہد کو پیش نظر نہ رکھیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ہومر کے زمانے سے لے کر آج کے یورپ کے ادب کو، اور اس بڑے احاطہ شعور میں اپنے ملک کے سارے ادب کو اپنا ہم عصر تصور کریں۔ شاعر کے لیے ضروری ہے کہ وہ ماضی کا شعور حاصل کرے اور اپنی شاعری کے زمانے میں اس شعور کو ترقی دیتا رہے۔

اقبال نے اگر چہ ادبی تنقید پر باقاعدہ کتاب نہیں لکھی لیکن انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے تنقید کا کام کیا ہے ان کے نزدیک بھی ماضی سے بالکلیہ رشتہ توڑنا صحیح نہیں بلکہ کھوئے ہوؤں کی جستجو کرنی چاہیے

میں کہ مری غزل میں ہے آتش رفتہ کا سراغ

میری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو

لیکن ساتھ ساتھ وہ آئینِ نو کی بات بھی کردیتے ہیں،

آئینِ نو سے ڈرنا، طرزِ کہن پہ اَڑنا

منزل یہی کٹھن ہے قوموں کی زندگی میں

ایلیٹ کہتا ہے کہ جب کوئی نیا فن پارہ تخلیق پاتا ہے تو اس کا اثر اُن فن پاروں پر بھی پڑتا ہے جو اس سے پہلے معرض وجود میں آ چکے ہوتے ہیں۔ نئے فن پارے کی تخلیق کے بعد پہلی ترتیب اور پہلا نظام بگڑ جاتا ہے۔ ہمیں نئے فن پارے کو اس مثالی نظام میں جگہ دینے کے لیے پورے نظام کی ازسر نو تشکیل دینا پڑتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہوگی کہ مثلاً لوگ ایک دائرے میں بیٹھے ہوں اور باہر سے نئے لوگ آجائیں تو ان نئے لوگوں کو دائرے میں بٹھانے کے لیے دائرے کو ذرا کھول دیا جاتا ہے۔ اس طریقہ سے کہ دائرہ بالکل مٹ بھی نہ جائے اور نئے لوگوں کو بھی اس میں جگہ ملے۔ اسی طرح نئے فن پارے کو پرانے فن پاروں کے معیارات کے مطابق پرکھا جائے۔ نئے فن پارے کو پرانے سے اچھا یا برا کہنے سے کام نہیں بنتا بلکہ نئے اور پرانے کے تقابل سے ایک دوسرے کے معیار کے مطابق ناپا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   قلم کی امامت - صائمہ نسیم بانو

اسلامی نقطہ نظر سے بھی اصول یہ ہے کہ کوئی اہل علم ماضی کے اہل علم کو یکسر مسترد نہ کرے بلکہ ماضی کے اہل علم کے ارشادات کے ساتھ تطبیق پیدا کر دے۔ ایلیٹ کے روایت کے تصوّر کا ایک پہلو یہ ہے کہ وہ اسے شخصی و انفرادی رجحانات کے خلاف استعمال کرتا ہے۔ وہ نفی ذات کے شعور پر بھی زور دیتا ہے کہ شاعر کو اپنی ذات کی نفی کرنی چاہیے۔ اس کا کہنا ہے کہ فن خوب سے خوب تر نہیں بنتا اور فن کا مواد ہمیشہ ایک جیسا نہیں ہوتا۔ شاعر کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس کے ملک کا ذہن جو خود اس کے ذہن سے بڑا ہے، ہمیشہ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ تبدیلی اپنی ارتقائی حیثیت میں کیفیت میں کسی چیز کو نظر اندازنہیں کرتی، ہومر یا شیکسپیئر کو بیکار نہیں سمجھتی۔ اس طرح حال میں ماضی کا وہ شعور موجود ہوتا ہے جسے خود ماضی ظاہر نہیں کرتا۔ شاعر کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ ماضی کا شعور حاصل کرے اور اپنی شاعری کے زمانے میں اس شعور کو ترقی دیتا رہے۔ محض اس طرح وہ اپنے حال کی ذات کی نفی کر سکتا ہے اور فنکار کا ارتقا اس کے مسلسل نفئ ذات کے عمل میں ہے۔ ایلیٹ کہتا ہے کہ فنکار کو اپنے جذبات پر کنٹرول رکھنا چاہیے تاکہ یہ جان سکے کہ اس کو اپنے کام میں کن مواد کو شامل کرنا چاہیے اور کن کو قلم زد کرنا چاہیے۔ اگر ہم اقبال کے ان اشعار کو دیکھیں جو انہوں نے اپنی شاعری سے مسترد کر دیے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے بھی اپنی شاعری میں 'سلیکشن' اور 'رجیکشن' کا کام کیا ہے کیونکہ شاعری الہامی ہونے کے ساتھ ساتھ اکتسابی بھی ہوتی ہے۔ مثلاً غزل، "نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی" پہلے اس طرح لکھی گئی تھی

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

جلوۂ گل کا ہے اک دام نمایاں بلبل

اس گلستاں میں ہیں پوشیدہ کئی دام ابھی

ہم نوا لذّت آزادئ پرواز کجا

بے پری سے ہے نشیمن بھی مجھے دام ابھی

اور غزل " پردہ چہرے سے اٹھا انجمن آرائی کر" پہلے اس طرح تھی

پردہ چہرے سے اٹھا انجمن آرائی کر

دل ہے یک بین و یک اندیش تو پروا کیا

بے خطر دیدۂ بے تاب کو ہر جائی کر

وغیرہ

(کلیات باقیات شعر اقبال، ص444)

ان اشعار کو اقبال نے قلم زد کیا اور ان کی جگہ وہ اشعار لکھے ہیں جو کہ اب بانگِ درا میں موجود ہیں۔

جہاں تک اقبال کا نفی ذات کو مسترد کرنا ہے وہ اور چیز ہے اور ایلیٹ کا نفی ذات کا نظریہ اور ہے
اقبال شاعری اور شاعری سے ہٹ کر عام زندگی میں اپنی ذات کی نفی کرنے اور غیر کے آگے جھکنے کو مذموم قرار دے کر خودی کا درس دیتا ہے۔

گر ہنر میں نہیں تعمیر خودی کا جوہر

وائے صورت گری و شاعری و ناے و سرود

خودی سے مرد آگاہ کا جمال و جلال

کہ یہ کتاب ہے باقی تمام تفسیریں

ایلیٹ شاعر کو محض شاعری کا وسیلہ گردانتا ہے، وہ کہتا ہے "شاعر کے پاس اظہار کے لیے کوئی شخصیت نہیں ہوتی بلکہ ایک وسیلہ ہوتا ہے، جو محض ایک وسیلہ ہوتا ہے نہ کہ شخصیّت، جس سے تاثرات و تجربات عجیب اور غیر متوقع طریق سے ترتیب پاتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ تجربات و تاثرات جو اس کے لیے بحیثیت انسان اہم ہوں شاعری میں جگہ نہ پائیں اور جو شاعری میں اہمیت کے حامل ہوں وہ اس کے لیے بحیثیت انسان، یعنی اس کی شخصیت کے لیے معمولی اہمیت رکھتے ہوں۔"

سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شاعر کی دو حیثیتیں ہیں؟ کیا شاعر اور ہوتا ہے اور انسان اور؟ کیا شاعر انسان نہیں ہوتا؟ اقبال شاعری میں شخصیت کو بھی اہمیت دیتے ہیں،وہ اپنی شخصیت کا اظہار لفظ "قلندر" سے کرتا ہے۔ مثلاً

ایلیٹ کہتا ہے کہ شاعری جذبات کا بہاؤ نہیں جذبات سے فرار ہے، یہ شخصیّت کا اظہار نہیں شخصیت سے فرار ہے۔ جبکہ اقبال فن میں جذبۂ عشق کے قائل ہیں

رنگ ہو یا خشت و سنگ، چنگ ہو یا حرف و صوت

معجزۂ فن کی ہے خون جگر سے نمود

ایلیٹ نے غیر شخصی نظریہ کا اظہاراتنی شد ت سے کیا کہ بعد ازاں خود اس پر یہ اعتراض ہوا کہ اس نے شاعر کو ایک خود کار مشین بنا دیا ہے۔ جس سے شاعری خود بخود خارج ہوتی ہےاور وہ الہام کو صرف آگے منتقل کرنے والی مشین ہی رہ جاتا ہے اور شاعر کا رول ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن ایلیٹ نے اس نظریہ کے ذریعے شاعری کو نفسیات اور دیگر معاشرتی علوم کا ایک شعبہ بننے سے بچا لیا۔

دراصل ایلیٹ نے رومانوی تحریک کا زور توڑنے کے لیے شاعر کے غیر شخصی ہونے کا نظریہ پیش کیا اور یہ کہ شاعری نہ تو جذبہ ہوتی ہے، نہ یاد آفرینی اور نہ سکون ہوتی ہے۔

جہاں تک اقبال کی شاعری ہے تو بقول ڈاکٹر یوسف حسین خان کے اقبال کی شاعری کا عام رجحان رومانیت کی طرف ہے۔ وہ قوت و آزادی کے دلدادہ تھے۔ رومانیت دراصل عقلیت کے فلسفہ کے خلاف ردّعمل تھا۔ اقبال کے یہاں بھی یہ ردّ عمل صاف نمایاں ہے۔ ان کے نزدیک جو نظم و ضبط جذبے سے عاری ہو اس سے قوّت حیات میں کمزوری آتی ہے۔ اقبال جذ بے کو نفس گرم سے بھی تعبیر کرتے ہیں

من آں جہان خیالم کہ فطرت ازلی

جہان بلبل و گل راشکست ساخت مرا

نفس بہ سینہ گدازم کہ طائر‌‌ حرمم

تواں زگرمئ آواز من شناخت مرا

رومانیت کی بنا اسلام کے وقت سے پڑی جو کلاسیکی تہذیب کے خلاف زبردست ردعمل تھا۔ رومانیت کے ادبی مسلک کا ماننے والا انسان کو کائنات کا مرکز سمجھتا ہے۔ ظاہر ہے کا اقبال کا سارا فلسفہ یہی ہے کہ وہ انسان کو کائنات کا مرکز سمجھتا ہے اور یہی اسلامی نقطۂ نظر بھی ہے، چنانچہ قرآن میں ہے کہ زمین و آسمان میں جو کچھ ہیں، انسان کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔

أَلَمْ تَرَوْا أَنَّ اللَّهَ سَخَّرَ لَكُم مَّا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الأَرْضِ وَأَسْبَغَ عَلَيْكُمْ نِعَمَهُ ظَاهِرَةً وَبَاطِنَةً وَمِنَ النَّاسِ مَن يُجَادِلُ فِي اللَّهِ بِغَيْرِ عِلْمٍ وَلا هُدًى وَلا كِتَابٍ مُّنِيرٍ (سورة لقمان آیت 20)

ظاہر ہے کہ جب کائنات انسان کے لیے مسخر ہوا ہے تو انسان کائنات کا محور ہی ہوا۔

رومانیت پسند آرٹسٹ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ماضی کا قدردان ہوتا ہے اور ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اقبال، اسلام کے ماضی کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے "مسجد قرطبہ" میں اسلامی ماضی کا اظہار شد و مد کے ساتھ کیا ہے۔

رومانیت پسند آرٹسٹ کا دل انسانیت کی محبت سے بھرا ہوتا ہے۔ اقبال کی سب سے بڑی خصوصیت یہی تو ہے کہ انہوں نے عشق و محبت اور آدم کی قدرومنزلت کو بیان کیا ہے۔

ہم یہ بتاتے چلیں کہ اگر چہ اقبال رومانوی شاعر ہیں لیکن ان کو جذبات پر کنٹرول حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ہمیشہ اس کا خیال رکھا ہے کہ جذبات کا اظہار ان ادبی روایات کی حد بندیوں کے اندر رہ کر کیا جائے جو ان کو ورثے میں ملی ہیں۔