دیکھیں کیا گزرے ہے قطرے پر گہر ہونے تک - حسیب عماد صدیقی

پاکستان گزشتہ ستّر سال سے اپنی منزل کی تلاش میں بھٹک رہا ہے۔ ہمارے بعد آزاد ہونے والے بہت سے ملک تیزی سے ترقی کے منازل طے کررہے ہیں۔ ہم ایک سمت میں سفر شروع کرتے ہیں کچھ عرصے بعد بھٹک جاتے ہیں۔ دوبارہ دوسری سمت میں چلتے ہیں پھر بھٹک جاتے ہیں، یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ حالانکہ ہمیں پتہ ہے کہ ہمارا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے، پھر بھی ہم کچھ عرصے سفر کے بعد راستہ بھول جاتے ہیں۔

جمہوریت ایک تسلسل کا نام ہے۔اگر ہم پانچ لگاتار الیکشن اور اس کے نتیجے میں پر امن منتقلی اقتدار کا مرحلہ پار کرلیں تو ہم مشکلات سے نکل آئیں گے۔ ہم دو لگاتار الیکشن اور ان کے ذریعے پر امن منتقلی اقتدار کر چکے، اور اب تیسرے الیکشن کی طرف بڑھ رہے تھے کہ پانامہ کے ہنگامے نے ہماری راہ کھوٹی کر دی۔

اگر ہم تاریخ پر نظر دوڑائیں تو خان لیاقت علی خان سے لے کر نواز شریف تک ہم نے اپنی منتخب قیادت کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ انہیں قتل، عدالتی قتل، عمر قید اور جلا وطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کیا، ان پر غداری، کرپشن اور قتل سمیت ہر قسم کے الزامات لگائے۔ اگر آپ غور کریں تو پاکستان میں عوامی مقبول رہنماؤں کی تعداد تین چار سے زیادہ نہیں۔ ایسے کتنے عوامی مقبول رہنما ہیں جنہوں نے 100 سے زیادہ قومی اسمبلی کی نشستیں حاصل کی ہیں؟ قائد اعظم کو چھوڑکر شیخ مجیب الرحمٰن، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو اور نواز شریف۔ ان تمام کے ساتھ ہم نے کیا سلوک کیا؟ شیخ مجیب الرحمان غدار، ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل، بے نظیر کی مظلوم موت اور نواز شریف کی عمر قید، جلا وطنی اور پھر نا اہلی۔ کیا پاکستان میں اقتدار کی غلام گردشوں کے باقی تمام کردار معصوم عن الخطا اور دودھ کے دھلے ہیں؟ نواز شریف کا کیس جس باریک بینی اور سرعت سے چلایا گیا اگر ساتھ ساتھ پرویز مشرف، آصف علی زرداری اور ہماری دوسری خاکی اور سوِل اشرافیہ کے کیسوں میں بھی اتنی ہی دلچسپی دکھائی گئی ہوتی تو نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے کی کوئی ساکھ رہ جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی سیاست کے رنگ - یاسر محمود آرائیں

مقبول سیاسی شخصیات کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ عوام سے زیادہ دیر تک دور نہیں رہ سکتے۔ علم سیاسیات کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے میرا مطالعہ ہے کہ نواز شریف بھی عوام سے دور نہیں رہ سکیں گے۔ عوامی مقبولیت کا سحر انہیں بار باراپنی طرف کھینچ کر لائے گا۔ چاہے اس کی انہیں کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے۔

میاں صاحب کے پاس اب دو راستے ہیں:

نمبر ایک وہ لندن میں ہی رہیں اور مقتدر حلقوں سے کوئی ڈیل کر کے اپنی جائیدادیں بچائیں اور بقیہ زندگی گمنامی میں گزار دیں۔

نمبردو پاکستان واپس آئیں، عدالتوں میں پیش ہوں اپنی قانونی اور سیاسی جنگ لڑیں چاہے جیل جانا پڑے۔ نظام سے جنگ کریں، عوام کو سڑکوں پر لائیں اور اسٹیبلشمنٹ سے برا ہ ر است ٹکرا جائیں۔ یہ بہت خطرناک راستہ ہے اس میں خود نواز شریف کی ذات اور خاص طور پر ملک کے لیے بہت بڑے خطرات ہیں۔لیکن مسلم لیگ ن کے بارے میں ایک تاثر یہ ہے، اور شاید اب تک درست بھی، کہ یہ جماعت سڑکوں کی سیاست نہیں کر سکتی اور اس کے پا س ا سٹریٹ پاور نہیں۔ لیکن مقبول سیاستدان اپنی افتادِطبع (Natural Instinct) سے مجبور ہوتا ہے اور خود چل کر مقتل کی طرف جاتا ہے۔ بے نظیر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ سانحہ کارساز دراصل ایک وارننگ تھی کہ واپس چلے جاؤ لیکن ان کی افتادِطبع نے مجبور کیا کہ وہ اپنی مقتل گاہ کی طرف خود چل کر گئیں۔

پاکستان اس وقت سنگین داخلی اور خارجی بحران کا شکار ہے۔ افغانستان میں امریکی فوجی ایڈوینچر اور ڈونلڈ ٹرمپ کی نیت ڈھکی چھپی نہیں۔ بھارت بھی اپنی پوری مکاری کے ساتھافغانستان اور کشمیر کی سرحد سے کارروائیاں کر رہا ہے۔ اس موقع پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستان میں ایک مضبوط سیاسی حکومت ہوتی اور داخلی استحکام کے ذریعے ہی بیرونی سازش ناکام بنائی جاسکتی ہے۔ہم اندرونی طور پر تقسیم در تقسیم کا شکار ہیں اور نواز شریف کی مستحکم حکومت کو نااہل کر کے ہم نے اپنے خطرات میں بے پناہ اضافہ کر لیا ہے۔ معاشی صورتحال انتہائی گمبھیر ہو چکی ہے۔ہمارے تجارتی خسارے کا فرق 15 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ ہمارے زرِ مبادلہ کے ذخائر پونے چار ارب ڈالر کم ہو چکے ہیں۔معیشت، سیاسی عدم استحکام اور غیر یقینی صورتحال کی وجہ سے جمود کاشکار ہے۔خود پاکستانی تاجر بھی سرمایہ کاری نہیں کر رہا کیونکہ اسے اس غیر یقینی سیاسی صورتحال نے پریشان کر دیا ہے۔جس کے پاس ذرائع ہیں وہ بیرونِ ملک منتقل ہو رہے ہیں۔ کسی بھی ملک کی سلامتی اس کے معاشی اور سیاسی استحکام سے وابستہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کی سیاست کے 47 سال - جہانزیب راضی

2013ء کے الیکشن میں ووٹ نواز شریف کو ملے تھے اور وہ ہی 5 سال کے لیے وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے۔ ان کی جگہ کوئی بھی دوسرا شخص اس منصب کا حق ادا نہیں کر سکتا، چاہے وہ ان کا نامزد کردہ ہی کیوں نہ ہو۔ 2018ء کا الیکشن بھی ایک ہنگامہ خیز صورتحال کی نشاندہی کر رہا ہے اگر میاں صاحب اس الیکشن میں موجود رہے توسڑکوں پر تحریکِ انصاف اور مسلم لیگ کا تصادم یقینی نظر آتا ہے۔ کوئی بھی الیکشن کے نتائج قبول نہیں کرے گا اور اپنی شکست تسلیم نہیں کرے گا۔ لہٰذا الیکشن کے بعد کی بھی صورتحال اچھی نظر نہیں آتی۔

اگر ہمیں اپنے بھٹکنے کی وجہ تلاش کرنی ہے اورہر دفعہ کچھ عرصے بعد ہماری راہ گم کیوں ہو جاتی ہے؟ تو ہمیں مندرجہ ذیل سانحات کے پیچھے چھپی وجوہات تلاش کرنی ہوں گی جو شاید اتنی مشکل نہیں۔

1۔ خان لیاقت علی خان کی شہادت اور ایوب خان کا مارشل لاء

2۔ سانحہ مشرقی پاکستان

3۔ ذوالفقار علی بھٹو کا قتل اور ضیاء مارشل لاء

4۔ مشرف کا مارشل لاء اور نواز حکومت کی برطرفی اور جلا وطنی

5۔بے نظیر بھٹو کا قتل

6۔ اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور ایبٹ آباد آپریشن

اگر ہم نے ان سانحات کے پیچھے چھپے عوامل کا پتہ چلا لیاتو ہم اپنے بھٹکنے کی وجہ بھی تلاش کر لیں گے۔

پاکستان کا مستقبل جمہوریت سے وابستہ ہے۔ ہم ایک اسلامی، خوشحال اور ترقی یافتہ پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر ہو تے اس وقت دیکھ سکتے ہیں جب جمہور کی رائے کا احترام کیا جائے اور جمہوریت کا تسلسل برقرار رہے۔