میں اور سیف الملوک - ام عبید اللہ

بڑی شدت سے احساس ہوا کہ دو آنکھیں ان نظاروں کو نہیں سمو سکتی ہیں۔ بس دل کی آنکھ سے دیکھا جائے تو بات بنے۔ میں نے یہ جگہ دوسری بار دیکھی ہے۔ بڑا فرق آگیا ہے۔ 12 سال پہلے 2004 میں بھی گئی تھی مگر تب جھیل کا حسن جوان تھا۔

نیلی جھیل ایک کٹورے کی مانند نیلے آسمان کو دامن میں سموئے ہوئے تھی۔ کناروں پر بلند و بالا پہاڑ جن پر سبز مخملی گھاس کی چادر بچھی تھی اور رنگا رنگ پھول جھیل کنارے عجب بہار دکھاتے تھے۔ دور۔۔۔۔۔۔ اوپر پہاڑوں کی چوٹیوں پر سفید چمکتی برف لشکارے مارتی تھی۔

پہلی نظر ڈالنے پر تو یوں گمان ہوا گویا یہ کسی اور ہی دنیا کا نظارہ ہے۔ اف! سچ مچ پریاں آتی ہی ہوں گی یہاں!

تب اوپر جھیل تک جانے کا راستہ ایسا خطرناک بلکہ خوفناک ہرگز نہ تھا۔ درمیان میں ایک عدد گلیشئیر سے ملاقات ہوئی۔ کراچی کے رہنے والے جن کو سردی ہی نصیب نہ ہوتی تھی۔ اندازہ لگائیں کہ اتنی برف دیکھ کر کیسی کیسی احمقانہ باتیں کی ہوں گی۔ اف اتنی برف؟ چھوٹا سا برف کا ٹکرا ہمارے لیے تو عظیم گلیشئیر ہی تھا۔ خوب خوب ہاتھ لگایا، تصویریں بنوائی۔

اب تو جھیل تک جانا گویا جوئے شیر لانا ہے۔ اللہ توبہ! اتنا خطرناک راستہ کہ ہر موڑ پر گمان ہوتا کہ ان ہزاروں جیپوں میں سے صرف ہماری جیپ گہری کھائیوں میں جا پڑے گی۔ آپس کی بات ہے بعضی جگہوں پر تو آنکھیں بھی بند کر لیں کبوتر کی طرح، گویا اب کچھ نہیں ہو گا۔ ہر چار میٹر بعد عظیم الشان برف کے تودے منہ پھاڑے کھڑے تھے۔ بمشکل تمام ان مین سے گزرنے کو راستہ بنا رکھا تھا کہ ہم گزریں تو سامنے والا پھنس جائے۔ اللہ معافی!

پھر جو پہاڑوں سے اچانک بڑے پتھر لڑھک جا تے ہیں، تو اور بھی دل اچھل کر حلق میں آجاتا ہے۔ اب کے راستہ قدرے لمبا بھی تھا۔

جھیل پر پہنچنے اور پریوں کی آمدورفت دیکھنے کا احساس اس قدر شدید تھا کہ یہ دشواری بھی برداشت کر ہی لی۔ اوپر پہنچے تو دیکھا کہ جھیل غائب ہے اوہ میرے خدایا یہ کیا؟

اتنی بڑی جھیل کہاں گئی؟ آنکھیں مل مل کر دیکھا تو احساس ہوا کہ جھیل تو شاید وہیں ہے مگر برفوں کے نیچے چھپی ہے۔ نہ نیلا پانی،نہ ہرے بھرے پہاڑ، نہ ہی جھیل کنارے رنگ رنگ کے پھول۔ البتہ برف تھی ہر جانب۔ پہاڑوں سے پھسل کر آنے والی برف ہمراہ خوب کیچڑ لائی جس نے جھیل کے حسن کو گہنا دیا تھا۔ گویا کیچڑ مٹی اور برف کا ملغوبہ سا پڑا تھا سطح پر۔

ہائے میری پیاری جھیل تم کہاں ہو؟ میں تو اتنا سفر کر کے آئی ہوں صرف تمہارے لیے۔ کہاں ہو تم؟ یا تم چاہتی ہو کہ جو منظر ایک بار میری آنکھوں نے دیکھ لیا، بس وہی امر ہو جائے۔ پھر کچھ بھی ویسا نہ لگے۔ یا یہ کہ میرے اندر کی آلودگی اس قدر بڑھ گئی کہ تم نے منہ چھپا لیا۔ پردہ کر لیا!

دسمبر میں پڑنے والی برف اب جون میں بھی نہ پگھلی تھی۔ ۔ آگے پھر برف کے دن آ رہے ہیں۔ کیا میرے بچے تمہارا حسن نہ دیکھ سکیں گے؟ ۔

پہلے مشہور تھا کہ پریاں چاندنی راتوں میں غسل کرنے آیا کرتی ہیں اب کیسے آئیں گی؟ انہیں برف میں بہت سردی لگے گی۔ ہاں برفانی ریچھوں کے آنے کا امکان بڑھ گیا ہے۔

میرے دل سے تمہاری محبت ہرگز کم نہیں ہوئی۔ میں ان شاء اللہ پھر آؤں گی تمہارا جوان حسن دیکھنے۔

اے سیف الملوک! اے پریوں کی آرام گاہ! میرا پیار تمہارے لیے ہمیشہ رہے گا، چاہے تم کتنی ہی بوڑھی ہو جاؤ۔

میرا انتظار کرنا!