خاموش کھلاڑی بولتا کھیل - مفتی ابولبابہ شاہ منصور

سانپ تیزی سے حرکت کر رہا ہے۔ یہ سانپ نہیں اژدھا ہے۔ سانپوں کو تو عصائے موسوی نگل گیا تھا۔ یہ وہ اژدھا ہے جو سامری وقت کی پٹاری سے برآمد ہوا ہے۔ اس اژدھے نے دم کو اپنی جگہ ٹکا کر منہ کی طرف سے حرکت شروع کی تھی۔ یہ حرکت تقریبا ستر سال پہلے(1948) میں شروع ہوئی تھی اور بنی اسرائیل کے بارہ میں سے دس قبیلے "یروشلم واپسی" کی مہم کے تحت "ارض موعود" میں آ آ کر بسنا شروع ہوگئے تھے۔ اب گیارہویں قبیلے کے لیے "آزاد کردستان" کی تیاریاں شروع ہو رہی ہیں۔ جو قوم غیر اسرائیلی خون کو "جنٹائل" اور "گویم" قرار دے کر اس سے بات کرنا پسند نہیں کرتی، وہ سیکولر کردوں کو یوں گلے سے لگائے کھڑی ہے جیسے وہ اس کا بچھڑا ہوا گیارہواں بھائی ہو۔

حضرت یعقوب علیہ السلام کے بارہ بیٹے تھے دس ایک بیوی سے اور دو دوسری زوجہ سے ان بارہ کا سردار اور اس کے مشیر تو پہلے بطن سے تھے، لیکن ان کا چمکتا ستارہ وہ گیارہواں بھائی تھا جس کی جدائی پر اس کے والد محترم کی آنکھیں غم میں سفید ہو رہی تھیں، لیکن وہ کنعان کے کنوئیں سے لے کر مصر کی وزارت تک اپنے اس باپ شریک بھائیوں سے الگ تھلگ رہنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ جس طرح اس زمانے میں سورج، چاند اور بارہ ستارے اکھٹے ہونے تک اجتماعی سجدہ نہیں ہوا تھا، اسی طرح بزعم یہود آج بھی بچھڑے ہوئے دو بھائیوں کے بغیر بارہ قبیلوں کا ستارہ گردش میں ہے۔ صہیونی افسانہ طرازوں کے یہاں یہ داستان جس طرح کسی زمانے میں سچی تھی، آج بھی اپنی تکمیل کا سفر کر رہی ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ قوم یہود کی اور کونسی بات سچی تھی کہ یہ جدید غزل بھی سچی ہو۔

بات اتنی سی ہے کہ قوم یہود اپنے آخری انجام کے لیے ارض مقدس میں بالجبر والمکر آتو گئی تھی، اور اسرائیل قائم ہوگیا تھا، لیکن اب قیام کے بعد اسے توسیع چاہیے تاکہ "عظیم تر اسرائیل" وجود میں آسکے اور داؤد بادشاہ کی نسل سے آنے والا "مسایا" تخت داؤدی کو مقدس چٹان پر بچھا کر پوری دنیا پر حکومت کرسکے۔ اس خاطر جنگ عظیم دوم کے بعد جزیرةالعرب کے بارہ ٹکڑے کیے گئے تھے اور اب مزید تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے۔ شام کے چار حصے پہلے ہوئے تھے۔ چار مزید کیے جا رہے ہیں۔ عراق کے حصے بخرے بھی شروع کر دیے ہیں۔ شام میں گولان کی پہاڑیاں اسرائیل کو ملیں۔ طرسوس کی بندرگاہ روس کے ہاتھ آئی۔ لبنان تک کا راستہ ایران کے ہاتھ کر دیا گیا۔ قطر سے بحر متوسط تک تیل گیس کی امریکی پائپ لائن کے بعد جو رہ گیا وہ داعش اور بشار کے پاس ہے۔ عراق میں بغداد حکومت قائم کر دی گئی ہے۔ اب آزاد کردستان بھی قائم ہو جائے گا۔ گیارہواں بچھڑا بھائی ملے یا نہ ملے، تیل کے کنوؤں تک رسائی اور اسرائیل سے باہر تک اسرائیل کی توسیع تو ہوجائے گی۔ رہ گیا کردستان کے دارالحکومت "اردبیل" سے یروشلم تک بیچ کا راستہ تو وہ اگلے دس سالوں میں طے ہو جائے گا جب دجلہ سے نیل تک کی حدود اسرائیل میں ضم ہوں گی۔

یہ بھی پڑھیں:   مسلم صہیونی - ڈاکٹر عمیر محمود صدیقی

یہ ہے خاش کھلاڑیوں کا وہ بولتا کھیل جو اب اس مرحلے میں داخل ہو رہا ہے جہاں، ان کے مطابق، اب آہستہ روی کی گنجائش نہیں۔ جارحانہ اور تیز کھیل کی ضرورت ہے، ورنہ سارے برج الٹ سکتے ہیں اور سارے پتے بکھر جانے کا خطرہ ہے۔ صہیونیت کے ستر دانا بزرگوں کی رہنمائی میں اسرائیل ہر دس سال بعد وہ منصوبہ مکمل کرنے کی کوشش کرتا ہے جو وہ چالیس سال قبل بناتے ہیں اور بیس سال قبل اس کی بازگشت سننے کا موقع دنیا کو ملنا شروع ہو جاتا ہے، مگر نہ تو دنیا سمجھتی ہے کہ انبیائے کرام علیہم السلام کے بدعائی یہ لوگ جب تک مردودیت کی چھاپ سے نہیں نکلتے تب تک ان کے سارے منصوبے ان پر الٹے پڑیں گے۔ نہ خود یہ دھتکار پڑی قوم سمجھتی ہے کہ جن کرتوتوں کی سزا میں کل وہ ارض مقدس سے نکالی گئی تھی، جب تک ان سے باز نہیں آتی، تب تک دیوار گریہ کے پاس کھڑے ہوکر ٹسوے بہانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ اب تک عراق کا تیل اسرائیل پہنچایا جاتا تھا۔ اب اسرائیل خود عراق کے ان خطوں تک پہنچ جائے گا جو تیل سے مالا مال ہیں۔ کرکوک اور اردبیل "معاہدہ لوزان" کے سو سال بعد ختم ہونے پر واپس ترکی کو ملنے کے بجائے اسرائیل کو یا اسرائیل نوازوں کو مل جائیں گے۔

اے بنی اسرائیل! یاد کرو ان نعمتوں کو جو تم پر کی گئی تھیں پھر ان کی ناشکری کی سزا میں تم غلام لونڈی بنا کر جلا وطن کیے گئے۔ اےاہل کتاب! حق کو کیوں چھپاتے ہو؟ جھوٹ کیوں پھیلاتے ہو؟ ناحق قتل کیوں کرتے ہو؟ حیلہ بازی سے ناحق کو حق کیوں باور کراتے ہو؟ ان چیزوں کی بنا پر تمہارے آباؤ اجداد کی صورتیں مسخ ہوئی تھیں، وہ ملعون ومغضوب قرار پائے تھے۔ تم ان سے افضل تو نہیں۔ پھر کیوں ان حرکتوں سے باز نہیں آتے؟

یہ بھی پڑھیں:   قادیانی اور عام کافر میں فرق - وثیق چیمہ

اپنے آپ کو خدا کے محبوب کہنے والو! تم نے قادیانی اور بہائی دو فرقے اپنے ہاں پال لیے ہیں۔ دونوں ختم نبوت کے منکر ہیں۔ دونوں پر وہ پھٹکار ہے جو تم پر اس وقت سے آج تک ہے جب سے تم نے اپنے انبیا علیہم السلام کو شہید کیا اور پھر خاتم النبین پر ایمان نہ لایا۔ جس طرح تمہارے ان بغل بچوں کے خلاف گنہگار سے گنہگار مسلمان متحد ہو جاتا ہے اسی طرح تمارے خلاف ارض مقدس کا ہر درخت اور پتھر متحد ہوکر پکارے گا اور تمہیں کہیں پناہ نہ ملے گی۔ تم جس عظیم تر صہیونی ریاست کی خاطر دھوکہ فریب اور ظلم کی انتہا کر رہے ہو یہ تمہارا عظیم تر قبرستان بنے گا، لیکن تمہاری لاشوں کو یہاں دفن ہونا نصیب نہ ہوگا۔ انہیں پرندے اٹھا کر کہیں دور "بلیک ہول" میں ڈال دیں گے۔ باز آجاؤ! اے بنی اسرائیل باز آجاؤ! قبل اس کے کہ مہلت ختم ہو جائے۔