تجزیات مبنی بر خواہشات - عمران قلندر

صحافت ایک بہت ہی معتبر پیشہ ہے اور اس سے جڑے تمام افراد نہایت ہی قابل احترام ہیں۔ ان کے محترم ہونے کی بہت سی وجوہات میں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہ معاشرے کی آنکھ اور کان ہیں اور ملک کے ایک کونے کی خبر، سیاسی صورتحال وغیرہ کو من و عن دوسرے کونے تک پہنچانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ یعنی یہ اپنے احترام اور قدر و قیمت کی خود ہی ایک وجہ اور ذمہ دار ہیں۔ مختصراً یہ کہ جب تک خبر کو اس کی اصل حالت میں عوام تک پہنچاتے رہیں گے تو احترام کا یہ رشتہ قائم رہے گا لیکن اگر بدقسمتی سے اس عمل میں ذاتی خواہشات غالب ہونے لگیں تو احترام کا یہ رشتہ کمزور ہوتے ہوتے آخر میں ختم ہو جائے گا۔

یقیناً صحافت کی تاریخ میں ایسا زمانہ ضرور گزرا ہوگا جس میں خبر، سیاسی صورتحال وغیرہ اپنی اصل حالت میں عوام الناس تک پہنچتی رہی ہونگی۔ یہ اس لیے کہنا پڑا کہ آج کل کی صحافت میں کچھ اور ہی دیکھنے، سننے اور پڑھنے کو ملتا ہے۔ اخبارات اٹھائیں تو ایک واقعہ مختلف طریقوں سے سےچَھپا ہوگا، ٹی وی آن کریں تو ہر ٹی وی چینل پر متضاد مناظر دیکھنے کو ملیں گے۔ ایک عام آدمی اس صورتحال میں حیران ہی ہوگا کیونکہ اس کے لیے سچ اور حقائق کو جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔

سیاسی تجزیے تو کچھ اور ہی بتا رہے ہوتے ہیں، جو تجزیوں سے زیادہ ذاتی خواہشات پر مبنی ہوتے ہیں یا کسی سیاسی جماعت یا افراد کے لیے ماحول بنانے کی اپنی سی کوشش ہوتی ہے۔ ایک مخصوص علاقے کی سیاست کے بارے میں مختلف تجزیے پڑھیں تو آپ کو یقین نہیں آئے گا کہ جو تجزیہ آپ پڑھ چکے ہیں وہ اسی علاقے کی سیاسی صورتحال کے بارے میں ہے جس پر آپ یہ دوسرا تجزیہ پڑھ رہے ہیں۔ ایک تجزیہ نگار کسی سیاسی جماعت یا فرد کو آئندہ آنے والے عام انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوتا ہوا بتائے گا اور کسی دوسری سیاسی جماعت یا فرد کو بری طرح ہارتا ہوا جبکہ دوسرے تجزیہ نگار کا اُسی علاقے کی سیاست پر تجزیہ پہلے والے تجزیہ نگار کے تجزیے سے بالکل ہی مختلف ہوگا۔ ان کے تجزیے میں ہارنے والی سیاسی جماعت یا فرد انتخابات میں سرخرو ہوتا ہوا جبکہ جیتنے والی سیاسی جماعت یا فرد خاطرخواہ ووٹ بھی لیتا ہوا نہیں دکھائی دے گا۔ تعجب تو اس وقت ہوتا ہے جب ہر تجزیہ نگار اپنی ذاتی خواہش کو پر اعتماد انداز میں رائے عامہ اور عمومی تاثر بتا رہا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   کچھ باتیں صحافی اور صحافت کی! - ظفر محمود شیخ

ہمارے یونیورسٹی کے ایک بہت ہی محترم اور حالات حاضرہ سے باخبر استاد کہا کرتے تھے کہ میں آدمی کے ہاتھ میں اخبار دیکھ کر بتا سکتا ہوں کہ وہ آدمی کس سیاسی جماعت یا طبقہ فکر سے وابستہ ہے۔ آج کل اخبارات میں تجزیہ نگاروں کے نام پڑھنے کے ساتھ ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ ان کا تجزیہ کیا ہوگا، کس کی اچھائی اور کس کی برائی بیان کی گئی ہوگی، کون قوم کے لیے بہتر ہے اور کون نہیں۔ الغرض اپنی ذاتی خواہشات کو تجزیے کا نام دیا گیا ہوگا۔