گھر آنے والے امریکی مہمان- طلعت حسین

گزشتہ ماہ پاکستانی وزیر ِاعظم اور امریکی نائب صدر،،مائیک پنس کے درمیان نیویارک میں ہونے والی ملاقات اور خواجہ آصف کے سرکاری دورے کے بعد امریکی ایجنسیوں کے ایک وفد کا پاکستا ن آنا کچھ ممکنہ پیش رفت کی خبر دیتا ہے ۔ یہ دورہ کسی قدر امید کا پہلو لئے ہوئے تھا ، خاص طور پر اُس وقت جب ایک امریکی اور کینیڈین خاندان کو انتہا پسندوں کی پانچ سالہ قید سے اچانک رہاکرالیاگیا ۔ ایسا ٹھیک اُس وقت ہوا جب امریکی وفد اسلام آباد میں پاکستانی افسران سے ملاقات کررہا تھا ۔کیا عجب اتفاق ہے ! عام طور پر ایسے حیرت انگیز واقعات افسانوی دنیا میں پیش آتے ہیں۔ بہرحال، مغوی خاندان ، جس کے مرکزی کردار جوشوابوئل ہیں اور جو القاعدہ سے وابستہ الجھی ہوئی کہانی رکھتے ہیں، کی رہائی، بچائو ، آزادی نے پاک امریکہ تعلقات کے راستے کے پتھر کو فوری طورپر ہٹا دیا۔ امریکی حکام کی طرف سے خیر سگالی کے اچھے پیغامات سننے کو ملے ۔ گزشتہ چند ماہ سے جاری مخاصمت کی فضا چھٹ سی گئی اور گفتگو کیلئے اچھا ماحول بن گیا۔

اب حالات تبدیل ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن اس تبدیلی کی سمت کیا ہے ؟ مذکورہ گفتگو اُن روابط کے سلسلے کی پہلی کڑی تھی جنہیں امریکی ’’اسلام آباد کو پیغام دینے کی آخری بھرپور کوشش‘‘ قرار دیتے ہیں۔ کہا گیا تھا کہ اس کوشش کی ناکامی کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے ۔ اس مرحلے کا نقطہ ٔ عروج آنے والے ہفتوں میں سیکرٹریز آف اسٹیٹ اور ڈیفنس ( ٹلرسن اور جیمز میٹس) کے دورے ہوں گے ۔ ان دوروں کے دوران یہ بات واضح ہوجائے گی کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی پاکستانی پالیسی کو کیا شکل دینے جارہی ہے ۔

ان مذاکرات کے فوری مستقبل کی کچھ جھلک نمایاں ہونا شروع ہوگئی ہے ۔ کئی ایک تھنک ٹینکس کی رواں سال جاری ہونے والی ایک رپورٹ اس کی بہترین تشریح کرتی ہے ۔اس رپورٹ کو لیزا کرٹیس ، جو ایجنسیوں کے وفد کی قیاد ت کررہی تھیں، اور واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر، حسین حقانی نے مشترکہ طور پر تحریر کیا ہے ۔ کبھی مسٹر حقانی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے چہیتے تھے ، لیکن اب وہ اس کے جوشیلے ناقد ہیں۔ یہ رپورٹ عملی طور پر کوئی اہمیت نہ رکھتی اگر مس لیزا جنوبی ایشیا کے امور پر ٹرمپ کی مشیر ِخاص نہ بن جاتیں۔ ا ب اُن کے نظریات اور تعصبات پاکستان کے بارے میں وائٹ ہائوس کے تصور کو متاثر کریں گے ۔ جب ٹرمپ انتظامیہ اسلام آباد کے ساتھ نمٹنے کیلئے سوچ رہی ہوگی کہ کون سا بٹن دبایا جائے تو مس لیزا کا مشورہ اہمیت اختیار کرجائے گا۔

اب وہ صدر کی ڈپٹی اسسٹنٹ اور نیشنل سیکورٹی کونسل میں جنوبی اور وسطی ایشیا کے امور کی سینئر ڈائریکٹر ہیں۔ اس رپورٹ کا خلاصہ وہ کھڑکی ہے جس سے جھانکا جاسکتا ہے کہ اپنے مفادات کو دیکھتے ہوئے واشنگٹن اسلام آباد کے ساتھ کیا طرز عمل اختیار کرے گااور ان اہداف کے حصول کیلئے کس قسم کی پالیسی روا رکھے گا۔رپورٹ کے مطابق سوچ بچار کی قطب نما اس سمت اشارہ کررہی ہے کہ اسلام آبادپر دبائو بڑھایا جائے گا، اس کا بازو مروڑا جائے گااور جارحانہ اقدامات کی دھمکی ہر مرحلے پر سنگین ترہوتی جائے گی۔ ایسا کوئی اشارہ نہیں ملتا کہ واشنگٹن ’’پاکستان کا رویہ بدلنے ‘‘ کیلئے نرم آپشنز اختیار کرنے کی بھی پالیسی رکھتا ہے ۔ صدر ٹرمپ کی طرف سے پاکستان کا نام لئے بغیر اس کیلئے ناپسندیدگی کا اظہار بھی اسی پالیسی کی تصدیق کرتا ہے ، حالانکہ وہ امریکی اور کینیڈین فیملی کی رہائی کو ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے تھے ۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’’ایک ایسے ملک کی طرف سے بڑی خبر آئی ہے جو امریکہ کا احترام نہیں کرتا تھا لیکن اب اس نے احترام کرنا شروع کردیا ہے ‘‘۔ اس تبصرے کو ایک منہ پھٹ انسان کامخصوص تکلم قرار دیا جاسکتا ہے ، لیکن یہ اس حقیقت پر روشنی ضرور ڈالتا ہے کہ واشنگٹن پاکستان کیلئے کیا ارادے رکھتا ہے ۔۔۔ دبائو کی پالیسی اور عوامی سطح پرسخت الفاظ کا استعمال۔ حقانی اور لیزا کی رپورٹ بھی اسی پالیسی کی سفارش کرتی ہے ۔یہ پاکستان کو لبھانے کی اوباما انتظامیہ کی پالیسی کو ہدف ِ تنقید بناتی ہے کہ اس نے پاکستان کا طرز ِعمل تبدیل کرانے کیلئے تعلقات بڑھانے اور پرکشش مفادات کی پالیسی اپنائے رکھی ۔

یہ رپورٹ پاکستان کے افغان طالبان، بشمول حقانی نیٹ ورک کے ساتھ مبینہ تعلقات کا کیس بناتی ہے، نیز کشمیر میں کارروائیاں کرنے کیلئے مختلف گروہوں کے استعمال کی پالیسی پر بھی روشنی ڈالتی ہے ۔ رپورٹ میں انتہا پسندوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کابھی ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ پاکستان کے میدان جنگ میں استعمال کیلئے بنائے جانے والے چھوٹے ایٹمی ہتھیاروں اور دہشت گردگروہوں کو ایک ہی تناظر میں دیکھتی ہے ۔ رپورٹ کے سفارش کردہ سخت اقدامات کا آغاز پاکستان سے اتحادی ملک ہونے کا درجہ واپس لینے اور ممکنہ طور پر ’’دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والا ملک‘‘ قرار دینے سے ہوتا ہے ۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اہم فیصلہ سازوں کے امریکہ سفر پر پابندی لگ سکتی ہے ۔ اس دوران کچھ دیگر اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے ۔ یہ رپورٹ اُن اقدامات کی فہرست بھی مرتب کرتی ہے جو پاکستان کو دہشت گردوں کے مبینہ ٹھکانوں اور انتہا پسند گروہوں کی حمایت ختم کرنے کیلئے اٹھانے پڑیں گے ۔

یقیناًیہ رپورٹ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کے خدوخال نہیں ۔ نہ ہی اس کے مندرجات کو سوالات کا سامنا ہے ۔ نیز یہ ایک مفروضے پر مبنی ہے کہ پاکستان کے پاس آگے سے جواب دینے کی طاقت نہیں ۔ اس کے علاوہ یہ سفارش کردہ پالیسی کے ممکنہ اثرات پر بھی خاموش ہے ۔ اس کے باوجود یہ رپورٹ واشنگٹن میں پاکستان کے بارے میں موجود سوچ اور رجحان کو سامنے لاتی ہے ۔ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ رپورٹ میں پیش کیے گئے زیادہ تر رجحانات غیر دوستانہ اور مخاصمت آمیز ہیں۔ تجویز کردہ اقدامات دھمکی آمیز لہجہ رکھتے ہیں۔ رپورٹ میں ایک دوسرے کی پوزیشن کو سمجھتے ہوئے، برابری کی سطح پر مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کی بجائے دوٹوک حکم دینے کی پالیسی اختیار کرنے کا کہا گیا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ کینیڈین اور امریکی خاندان کی رہائی جیسے واقعات ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے رکھے گئے مطالبات کا نتیجہ ہیں۔ مستقبل قریب میں کیے جانے والے دوروں کے دوران اس فہرست کو مزید کھولا جائیگا اور پاکستان کیلئے ان سے گریز کا کوئی راستہ نہیں چھوڑا جائیگا۔ سامنے رکھے گئے مطالبات پر فوری عمل درآمد درکار ہوگا۔ ان مطالبات میں سے ایک انتہا پسندوں کے محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے اور کشمیر میں کارروائیاں کرنیوالے گروہوں کی مبینہ سرپرستی کا معاملہ بھی شامل ہے ۔ واشنگٹن الزام لگاتا ہے کہ یہ گروہ خطے کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں، بالکل جس طرح افغانستان میں کارروائیاں کرنے والے گروہ وہاں قیام ِامن کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ جب سے طے شدہ پیمانے کے اندر رہتے ہوئے باضابطہ بات چیت کا آغاز ہوا ہے،پریس اور میڈیا کو دئیے جانے والے طلسمی بیانات کی کھنک قدرے دھیمی پڑ گئی ہے ۔ یہ باضابطہ گفتگو ہر نکتے کا احاطہ کرتی ہے۔ اس موقع پر یہ بات طے کرلی گئی ہے کہ چاہے کامیاب ہوں یا ناکام، گفتگو کا یہ سلسلہ نتیجہ خیز ثابت ہوگا۔ ان کا مقصد پاکستان کے ساتھ روابط قائم کرنا نہیں، اور نہ ہی یہ ’’تلاش ‘‘ کرنا کہ کس موضوع پر بات چیت کے سلسلے کو آگے بڑھایا جائے ۔ اس کی بجائے طے شدہ سفارتی انداز فکر کے ساتھ نتائج حاصل کرنے کیلئے اہداف سامنے رکھے جارہے ہیں۔ کچھ اہداف کا ذکر پہلے کیا جاچکا ہے ۔

واشنگٹن افغانستان میں فوری امن چاہتا ہے ۔ اب وہ تمام جہادی گروہوں کو سیاسی عمل میں شامل کرنے کی وسیع تر مفاہمت، جس کی پاکستان امیدلگائے ہوئے ہے ، کی بجائے دوٹوک فوجی فتح کا عزم کرچکا ہے ۔ واشنگٹن کشمیر پر ثالثی کرتے ہوئے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات خراب کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا، اور نہ ہی اُس کے پاس کشمیر پر فوکس کرنے والے گروہوں کے موقف کو جاننے کا وقت ہے ۔اگرچہ ہم ہمیشہ تردید کرتے ہیں لیکن واشنگٹن اس الزام کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہے ۔ موقف پر اختلافات کی گہری خلیج کو میز پر حل کرنا مشکل دکھائی دیتا ہے ۔ آنے والے مہینوں میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان تعلقات کے درمیان یہ اختلافات ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آجائیں گے ۔

اگرچہ دفتر ِخارجہ مذاکرات کے پہلے دور کو ’’تعمیری اور بامعانی ‘‘ قرار دینے میں حق بجانب ہے لیکن بیان کی سادگی عیاں ہے ۔ یہ کہتا ہے ۔۔۔’’دہشت گردی ایک مشترکہ دشمن ہے ، اوراس خطرے کو جڑ سے اکھاڑپھینکنے کیلئے مل کر کام کرنے اور ایک دوسرے سے تعاون کرنے کی ضرورت ہے ۔ ‘‘واشنگٹن کی ’’دہشت گردی کی تعریف ‘‘ اس موقف سے لگا نہیں کھاتی ،ا ور نہ ہی وہ اس کے ذرائع ، افغانستان میں امن اور خطے کے استحکام کیلئے اسلام آباد کے موقف کے ساتھ متفق ہے ۔ پاکستان کی کوششوں پر ٹرمپ انتظامیہ کے خیر سگالی کے ٹویٹس پر بہت خوش ہونے کی ضرورت نہیں۔ اُن کی خوشی مشروط ہے ۔ وہ دیکھیں گے کہ کیا ہم اُن کے طے کردہ اہداف کو فوری طورپر حاصل کرتے دکھائی دیتے ہیں یا نہیں۔

جس دن واشنگٹن نے یہ طے کرلیا کہ پاکستان اس کے مطالبے کے مطابق فعالیت نہیں دکھا رہا ، دل خوش کن ٹویٹس کی جگہ دھمکی آمیز زبان سنائی دے گی۔ اس وقت واشنگٹن تعاون نہیں، تعمیل کی توقع رکھتا ہے ۔ اس کی دلچسپی یہ دیکھنے میں ہے کہ ٹرمپ کا سخت رویہ کام دے رہا ہے جبکہ اوباما کی تعاون کی پالیسی ناکام ہوگئی تھی ۔ چنانچہ پاکستان کے سامنے واشنگٹن کے ساتھ سفارتی روابط کی راہ ناہموار اور خطرناک کھائیوں اور جھٹکوں سے عبارت ہے ۔ لیکن ہم اس کی طرف توجہ کرنے کے اُسی وقت قابل ہوں گے جب ہم ملک میں ایک دوسرے کو گھائل کرنے کے شغل سے اجتناب برت سکیں اور دیکھیں کہ دنیا ہم پر کس طرح ہنس رہی ہے۔