کون سا نسخہ؟ حسن نثار

کون سا نسخہ؟جب سے انجائنانے دریار یعنی دل پر دستک دی ہے، مجھے انتہائی دلچسپ صورتحال کا سامنا ہے یعنی تیر بہدف قسم کے اکسیر دیسی نسخوں کا سامنا جو یقیناً بہت مؤثر ہوں گے کیونکہ یہ سب بنیادی طور پر دوائیں نہیں، ہربل قسم کی غذائیں ہیں ،مثلاً صبح ایک گلاس نیم گرم پانی میں ایک چمچ خالص ہلدی کا پائوڈر مع ایک چٹکی کالی مرچ۔ دوسرا یہ کہ ایک درمیانہ سائز لہسن پیسٹ بنا کر کھانا اور ایسے ایک گلاس پانی کے ساتھ جس میں دو عدد صحتمند لیموں کا عرق ملا ہو، تیسرا ہے انجیروں کا ’’پھوک‘‘ اور عرق جس کے لئے ایک گلاس پانی میں رات کو چار پانچ سلائس انجیروں کے ڈال کر علی الصبح کھانا پینا ہوتا ہے یعنی انجیریں کھالو، پانی پی لو۔ دل کی بند شریانیں شرطیہ طور پر کھول دینے والا چوتھا نسخہ بھی بہت خاندانی ہے جس میں شہد، سیب کا سرکہ، لیموں، ادرک، الائچی، لہسن وغیرہ شامل ہیں لیکن دو مسئلے بہت گھمبیر ہیں۔

اول یہ کہ ہر شے کے ساتھ خالص ہونے کی کڑی شرط ہے جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں کسی بڑے چیلنج سے کم نہیں۔ یہاں تو شہد کا کوئی غیر ملکی برانڈ مقبول ہوجائے تو نقل مطابق اصل تیار ہونے لگتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں’’ٹیلنٹ‘‘ کی کوئی کمی نہیں۔ کالم نگاری سے لے کر گلوکاری تک’’ افراط ٹیلنٹ‘‘ کی بہار ہے جس میں وہ بھی شامل جو خالص پانی سے کار چلاسکتا ہے۔ اجزائے ترکیبی کا خالص ہونا تو رو پیٹ کر یقینی بنایا جاسکتا ہے لیکن دوسرے مسئلہ کا انسانی حل ممکن ہی نہیں کیونکہ ہر’’دوا نما غذا‘‘ کھانے کی بنیادی شرط یہ ہے کہ اسے خالی پیٹ یا یوں کہہ لیں نہار منہ استعمال کرنا ہے تو ایک مریض چار یا پانچ خالی پیٹ کہاں سے لائے؟

پاکستان کا بھی یہی پرابلم ہے۔ علاج تو ایک سے ایک بڑھ کر موجود ہے کہ حکیموں کی کوئی کمی نہیں بلکہ جسے دیکھو وہ’’زبدۃ الحکما‘‘ کے مقام پر فائز ہے لیکن مسئلہ پھر وہی کہ ملک ہو یا مریض،’’خالی پیٹ‘‘ تو ایک وقت میں ایک ہی ہوسکتا ہے تو کون سا نسخہ آزمائیں کہ سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک۔ پہلے احتساب ہو یا حساب کتاب یعنی معیشت، ٹیکنو کریسی آزمائیں یا کوئی اور کریسی کہ دل کی بند شریانیں کھلیںاور’’خون‘‘منصفانہ، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ طور پر پورے بدن میں بلا روک ٹوک گردش کرسکے کہ دراصل یہی اسلام کا سیاسی و اقتصادی نظام ہے۔ اسی لئے صرف’’ٹارگٹس‘‘ دئیے’’ سسٹمز‘‘ نہیں کیونکہ سسٹمز بدلتے ہوئے زمانوں اور ان کے تبدیل ہوتے تقاضوں کے ساتھ تبدیل ہوتے رہتے ہیں۔

اسی لئے مومن کی ایک پہچان یہ کہ وہ اپنے عہد عصر کے تقاضوں کو سمجھتا اور ان کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ پہلے بھی کہیں عرض کیا کہ سیاسی و اقتصادی اہداف یہ ہیں کہ سیاسی طاقت اور ملکی دولت پورے معاشرے میں اوپر سے نیچے تک منصفانہ انداز میں یوں گردش کرے جیسے ایک صحتمند انسانی جسم میں خون گردش کرتا ہے۔ جگہ جگہ’’کلاٹنگ‘‘ ہوجائے، کہیں شریانیں کھلی اور کہیں تنگ پڑجائیں تو دل کی دھڑکن رک جاتی ہے۔مکروہ ترین ہے وہ انسانی معاشرہ جس میں’’طاقت‘‘ اور’’ دولت‘‘ چند ہاتھوں، چند خاندانوں میں مرتکز ہو جائے۔ آج کی دنیا کا بھی کوئی کامیاب یا ناکام ملک اٹھا کر دیکھ لیں، یہی ’’ریسپی‘‘ کارفرما دکھائی دے گی۔

جس معاشرہ میں طاقت و دولت چند گھروں تک محدود ہے وہ اقوام عالم میں اتنا ہی مغلوب، معتوب اور جہاں جہاں ان کی تقسیم منصفانہ ہے، وہ اتنے ہی معزز و محترم ہیں۔یہاں کے معاشی مسخروں کو دیکھو، مرے کو مارے شاہ مدار اور آج کل پیشیاں بھگتاتا اسحق ڈار، گھر کا نام ہجویری، پیشہ ہیرا پھیری،سیکورٹی اوراکانومی گفتگو کی حدتک ہی بریکٹ ہوئی تو بازی گر سمدھی نے قلابازی کھائی اور اکانومی کو اپنی ٹائپ کا سنبھالا دینے کے لئے 731درآمدی اشیاء 5سے 80فیصد تک مہنگی کردیں حالانکہ اس طرح کا’’حل‘‘ ڈھونڈنے کے لئے کسی ماہر معاشیات، چارٹرڈ اکائونٹنٹ یا وزیر خزانہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔ یہ تو کوئی موچی، دھوبی، نائی، تانگے ریڑھی چھابڑی والا جینیئس بھی بتاسکتا ہے کہ یہ ہیرا پھیری کرلو تو اس سے امپورٹ بھی کچھ کم ہوجائے گی، تھوڑا روکڑا بھی مل جائے گا اور تو اور مجھ جیسا گھامڑ بڑی ٹپ دے سکتا ہے۔

یوں کرو کہ ہر بچے کی پیدائش اور مردے کی موت پر بھی ٹیکس لگادو۔ میاں سمدھی شریف کا یہ منی بجٹ شکست کا اعتراف ہی نہیں عوام کے لئے کھلا فریب بھی ہے۔بچوں کے کھلونے توڑنے والےدودھ، دہی، مکھن چرانے والےخواتین کے سرخی پائوڈر پر ہاتھ صاف کرنے والےتجارتی خسارے سے اس طرح جان نہیں چھٹے گی لیکن شاید جو ہورہاہے، ٹھیک ہی ہورہا ہے کیونکہ جیسے گرتی ہوئی دیواروں کو ایک آدھ اور دھکے کی ضرورت ہوتی ہے، اسی طرح منی لانڈرنگ کے ایکسپرٹ ڈاروں کو چند مزید بددعائوں کی ضرورت ہوگی کہ ان کی بدحواسی کا یہ عالم ہے کہ زرعی مشینری بھی مہنگی ہوگئی اور پھر بھی کہتے ہیں’’عام آدمی متاثر نہیں ہوگا‘‘۔بات چلی تھی خون کو رواں دواں رکھنے کے لئے تیر بہدف نسخوں سے کہ ہر نسخہ کے لئے ’’خالی پیٹ‘‘ ضروری ہے.......ایک خالی پیٹ ا ور اتنے بہت سے نسخے تو میں بھی سوچ رہا ہوں، آپ بھی سوچئے کہ پاکستان کو کون سا نسخہ آزمانا چاہئے۔