منکر خدا کا انجام – ابو یحییٰ

سوال:
السلام علیکم! ابو یحییٰ صاحب امید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں آپ کا پرانا قاری ہوں۔ میں نے آپ کی "جب زندگی شروع ہوگی"، "قسم اس وقت کی"، "قرآن کا مطلوب انسان" نامی کتابیں پڑھی ہیں اور "سفر ناتمام" زیرمطالعہ ہے۔ میں نے یہ کتابیں تب پڑھی تھیں جب میں ایک عام مسلمان تھا لیکن الحاد کی سٹڈی نے مجھے دین بے زار کر دیا اور اب میرا خدا پر ایمان تقریباً نہ ہونے کے برابر تھا۔ زیادہ سے زیادہ میں خدا کو تو مان سکتا ہوں لیکن اسلام پر یا کسی بھی مذہب پر میرا دل مطمئن نہیں ہورہا۔ مجھے نہیں لگتا کہ موجودہ کوئی بھی مذہب خدا کی طرف سے ہے۔ مذہبی عبادات میں کوئی دلچسپی یا کشش محسوس نہیں ہوتی۔ میں ہمیشہ اچھائی کی کوشش کرتا ہوں، میری وجہ سے کسی کو تکلیف نہ ہو یہ کوشش رہتی ہے، مذہب یا خدا کو لے کر کوئی بدگمانی بھی نہیں رکھتا۔ میرا آپ سے چھوٹا سا سوال ہے جو ظاہر ہے میری گفتگو سے آپ پر عیاں ہو گیا ہوگا لیکن پھر بھی عرض کردیتا ہوں۔ سوال یہ ہے کہ ایک شخص جو کہ خدا کے وجود پر عدم ثبوت کی بنا پر ملحد ہوجاتا ہے یا کم سے کم مذہبی خداؤں پر یقین نہ کر پاتا ہو، اس کے اندر کوئی برائی نہ ہو، ہمیشہ سچائی کی تلاش میں اپنی سی کوشش کرتا رہتا ہو، ایسا شخص اگر اسی کشمکش میں فوت ہوجائے اسلام کے مطابق اس کا کیا حشر ہوگا؟
والسلام
عبدالمجید


جواب:
محترمی و مکرمی عبدالمجید صاحب
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

آپ کو اپنے الحاد پر پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ جب ہم نے پہلی دفعہ الحادی لٹریچر کو پڑھا تھا تب ہم بھی ملحد ہوگئے تھے۔ مگر مطالعہ کا عمل جاری رہا تو الحمداللہ یہ بات عیاں ہوگئی کہ الحادی لٹریچر بھی اتنا ہی سطحی ہے جتنا کسی اور قسم کا مذہبی لٹریچر۔ ہر وہ شخص جو مذہبی لٹریچر کو پڑھنے کے بعد الحادی لٹریچر کو پڑھتا ہے اسی تجربے سے گزرتا ہے۔ الحمدللہ! مگر اس کے بعد انسان کا مطالعہ وسیع ہوتا ہے تو انسان جان لیتا ہے کہ وہی بات حق ہے جو قرآن مجید نے بیان فرمائی ہے کہ’’ افی اللہ شک فاطر السمٰوات والارض‘‘ یعنی کیا تم اس کی ہستی کے بارے میں شک کرتے ہو جس نے آسمان و زمین کو عدم سے وجود بخشا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وجودِ باری تعالیٰ کا انکار: جاوید غامدی اور "ابویحییٰ" کے فتاویٰ - طارق محمود ہاشمی

اگر آپ تعصب میں مبتلا نہیں ہوئے اور پڑھتے رہے تو آخر کار قرآن کریم کے اس بیان کی سچائی کو ماننے پر مجبور ہوجائیں گے۔

جہاں تک آپ کے متعین سوال کا تعلق ہے کہ برائی سے بچنے والے ایک ملحد کے ساتھ روز حشر کیا ہوگا؟ تو یہ ایک قضیہ ہے جس کا فیصلہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس شخص کا مقدمہ سننے اور اس سے جرح کے بعد کریں گے۔ جرح سے مراد اس طرح کے سوالات ہیں کہ مثلاً جس الحادی فکر کی بنیاد پر تم میرا انکار کر رہے تھے وہ ہرقدم پر بالواسطہ استدلال کرکے ان دیکھے حقائق کو مانے اور بیان کیے چلی جا رہی تھی۔ اس کے بعد تمھیں نہ ماننے کے لیے میں ہی ملا تھا جسے بن دیکھے ماننے کے حق میں اس سے کہیں زیادہ بالواسطہ دلائل موجود تھے جتنے دلائل عالم کبیر (Macro World) اور عالم صغیر (Micro World) کے حقائق کو ماننے کے لیے موجود تھے۔

اگر خدا کو نہ ماننے والا شخص کسی طرح اللہ تعالیٰ کی جرح کا سامنا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور یہ ثابت کر دیا کہ واقعی اسے وجود خداوندی کا کوئی ثبوت حقیقی کوشش کے بعد بھی نہیں ملا تھا تو پھر اسے معاف کر دیا جائے گا اور اس جرم کی پاداش میں جہنم میں نہیں پھینکا جائے گا۔ باقی رہی جنت تو جو آدمی خدا کو نہیں مانتا، وہ جنت کو بھی نہیں مان سکتا۔ نہ وہ اس کا طلبگار ہوگا، نہ اس نے اس میں داخلے کی نیت سے کوئی اچھائی کی ہوگی۔ اس لیے میری ناقص رائے یہ ہے کہ ایسے شخص پر سب سے بڑا احسان یہی کیا جائے گا کہ حشر کے دن اسے فنا کر دیا جائے۔ یہ احسان اس پہلو سے ہوگا کہ جنت کو دیکھنے کے بعد اس میں نہ جانا خود محرومی اور پچھتاوے کا ایک عذاب بن جائے گا اور عدل یہ اس پہلو سے ہوگا کہ جس نے خدا کو عدم سمجھا، اس کا انجام یہی ہو سکتا ہے کہ اسے خود عدم سے دوچار کر دیا جائے، تاہم یہ میری رائے ہے۔ اُس روز اصل فیصلہ رب کریم کی ذات ہی کرے گی جو علیم و حکیم ہے۔

Comments

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ

ابو یحییٰ معرول ناول ”جب زندگی شروع ہوگی“ کے مصنف ہیں۔ علوم اسلامیہ اور کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز جبکہ سوشل سائنسز میں ایم فل کیا۔ ٹیلی وژن پروگرام، اخباری مضامین، پبلک اجتماعات کے ذریعے دعوت و اصلاح کا کام کرتے ہیں۔ ماہنامہ "انذار" کے مدیر ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں