گاڈ فادر (8)

پچھلی قسط یہاں پڑھیں

والز کا فارم ہاؤس دیہی طرز کی کسی فلمی حویلی سے مشابہ تھا۔ اس کی حدود میں باغات، اصطبل اور دو رویہ درختوں سے ڈھکے ہوئے راستے بھی شامل تھے۔ گھوڑوں کے چرنے کے لیے سبزہ زار بھی تھے۔ ہر چیز سجی سنوری اور سلیقے سے آراستہ تھی۔ صفائی ستھرائی اور آرائش کو دیکھ کر اندازہ ہوتاتھا کہ ہر چیز کی کتنی عمدگی سے دیکھ بھال کی جاتی تھی۔

والز نے ایک ایسے برآمدے میں ہیگن کا استقبال کیا جو ایرکنڈیشنڈ تھا اور جس کی ایک دیوار شیشے کی تھی۔ وہ اب آرام دہ لباس میں تھا۔ دولت مندی اور آسودگی کا ایک نادیدہ سا ہالہ اب اس کی شخصیت کے گرد زیادہ روشن محسوس ہورہا تھا۔ اس کا رویہ صبح کے مقابلے میں بہت تیز تھا۔

وہ دوستانہ انداز میں ہیگن کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا:

’’ڈنر میں ابھی کچھ دیر ہے۔ آؤ تب تک میں تمہیں اپنے ریس کے گھوڑے دکھاتا ہوں۔‘‘

وہ اصطبلوں کی طرف چل دیا۔ راستے میں والز بولا:

’’میں نے تمہارے بارے میں معلومات کرائی تھیں ہیگن! تم نے مجھے پہلے ہی بتادیا ہوتا کہ تمہارا باس ڈان کارلیون ہے۔ میں سمجھا تھا کہ تم کوئی تھرڈ کلاس قسم کے وکیل ہو اور شاید کسی تھرڈ کلاس بدمعاش کی نمایندگی کرتے ہو۔ جونی کی زیادہ تر واقفیت ایسے ہی لوگوں سے ہے۔ اب ہمیں یہاں کی فضا سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔ کام کی بات ہم ڈنر کے بعد کرلیں گے۔‘‘

پھر وہ ہیگن کوریس کے گھوڑوں کے بارے میں اپنے منصوبے بتانے لگا۔ اسے یقین تھا کہ ان منصوبوں پر عملدرآمد کے بعد اس کے اصطبل امریکا کے بہترین اصطبل شمار ہوں گے جہاں ریس کے اعلیٰ ترین گھوڑوں کی افزائش اور پرورش ہوگی۔ اصطبل فائر پروف تھے۔ حفظانِ صحت کے اصولوں پر عملدرآمد کا وہاں بہترین انتظام تھا۔ گندگی کا نام ونشان تک نہیں تھا۔ پرائیویٹ سراغ رساں ان کی حفاظت اور نگرانی کرتے تھے۔

ہیگن کو بہت سے گھوڑے دکھانے اور ان کے ’’شجرہ نسب‘‘ کے بارے میں بتانے کے بعد والز اسے آخری اسٹال کے سامنے لے گیا جس کی بیرونی دیوار چمکتی ہوئی ایک خوبصورت نیم پلیٹ نصب تھی جس پر پیتل کے حروف میں ’’خرطوم‘‘ لکھا تھا۔ ہیگن کو گھوڑوں کے بارے میں کچھ زیادہ معلومات نہیں تھیں، لیکن اس اسٹال میں کھڑے گھوڑے کو ظاہری طور پر دیکھ کر ہیگن کو تسلیم کرنا پڑا کہ وہ ایک غیرمعمولی اور نہایت خوبصورت گھوڑا تھا۔

وہ پورا سیاہ تھا اور اس کی جلد ریشم سے بنی معلوم ہوتی تھی۔ صرف اس کی پیشانی پر ہیرے کی سی ساخت کا ایک سفید نشان تھا۔ اس کی بڑی بڑی بھوری آنکھوں میں گویا چراغ روشن تھے۔ وہ آنکھیں قیمتی پتھروں کی طرح جھلملارہی تھیں۔ تاہم قیمتی پتھروں میں زندگی کی ایک ایسی بھرپور چمک نہیں ہوسکتی تھی جیسی ان آنکھوں میں تھی۔

’’یہ دنیا بھر میں ریس کا عظیم ترین گھوڑا ہے۔‘‘ والز کے لہجے میں دنیا بھر کا فخر سمٹ آیا تھا۔

’’اسے میں نے انگلینڈ میں کچھ لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔ مجھے اُمید ہے کہ کسی روسی زار نے بھی اپنے دور میں اس قیمت کا گھوڑا نہیں خریدا ہوگا۔ میں نے اسے ریس کے لیے نہیں لیا ہے۔ میں اس سے افزائش نسل کاکام لوں گا اور اسی کے ذریعے میرے اصطبل ریس کے گھوڑوں کے سلسلے میں دنیا کے بہترین اصطبل شمار ہوں گے۔‘‘

وہ گھوڑے کی ریشمی ایال میں انگلیاں پھیرتے ہوئے اسی طرح لاڈ اور پیار سے اس کا نام لے کر نیچی آواز میں اسے پکارنے لگا جس طرح باپ اپنے کمسن بیٹوں کو پکارتے ہیں۔ گھوڑا بھی اپنی حرکات وسکنات سے گویا اس کے پیار کا جواب پیار سے دے رہا تھا۔

آخر کار وہ ڈنر کے لیے حویلی میں لوٹ آئے۔ ڈنر تین ویٹرز سرو کررہے تھے اور ایک بٹلر انہیں ہدایت دے رہا تھا، تاہم ہیگن کے خیال میں کھانا بہت اعلیٰ معیار کا نہیں تھا۔ والز شاید اب اکیلا رہتا تھا اور اسے کھانوں کے معیار کی کچھ زیادہ پروا نہیں تھی۔

کھانے کے بعد جب وہ آرام سے بیٹھ گئے اور انہوں نے ہوانا کے بہترین سگار سلگالیے تو ہیگن نے ملائمت سے پوچھا: ’’تو پھر تم جونی کو فلم میں کاسٹ کررہے ہو یا نہیں؟‘‘

’’نہیں۔۔۔‘‘ والز نے بلاتامل جواب دیا۔

’’میں چاہوں بھی تو ایسا نہیں کرسکات، کیونکہ تمام معاہدے سائن ہوچکے ہیں۔ اگلے ہفتے شوٹنگ شروع ہوجائے گی۔ اب میں فلم کے معاملات میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتا۔‘‘

’’مسٹر والز!‘‘ ہیگن نے قدرے مضطربانہ لہجے میں کہا: ’’سب سے اوپر والے آدمی اور مالک ومختار سے بات اسی اُمید پر کی جاتی ہے کہ وہ جو چاہے کرسکتا ہے۔ اپنے پروجیکٹ میں جو تبدیلی چاہے، لاسکتا ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (10)

والز خشک لہجے میں بولا: ’’مجھے معلوم ہے کہ مجھے اسٹوڈیو میں ورکرز کی ہڑتال کے خطرے کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مزدور لیڈر گوف نے مجھے اس کا اشارہ بھی دے دیا ہے اور جس وقت وہ یہ بات کررہا تھا، کوئی سنتا تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ میں اس خبیث کو خفیہ طور پر ایک لاکھ ڈالر سالانہ اس بات کے دیتا ہوں کہ وہ ورکرز کو ہڑتال سے باز رکھے۔ مجھے یہ یقین ہے کہ تم میرے اس نیم زنانہ قسم کے ہیرو کو ہیروئن پینے سے باز رکھ سکتے ہو جس کا تم نے صبح ذکر کیا تھا اور مجھے اب اس کی کوئی پروا بھی نہیں ہے۔ جہان تک کسی فلم کے لیے سرمایہ کاری کرنے کی تمہاری پیشکش کا تعلق ہے۔۔۔ تو اس کی بھی میری نظر میں ذرہ برابر اہمیت نہیں۔ میں اپنی فلمیں خود اپنے سرمائے سے بناسکتا ہوں۔ جونی کو میں کسی بھی حال میں اپنی فلم میں کاسٹ نہیں کرسکتا کیونکہ مجھے اس سے نفرت ہے۔ اپنے باس سے کہنا کہ آیندہ کبھی۔۔۔ کوئی بھی کام ہو تو مجھے ضرور یاد کرے۔‘‘

ہیگن کو حیرت کا جو جھٹکا لگا تھا، اس نے اس کا اظہار نہیں ہونے دیا۔ وہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ اگر والز کو یہی کچھ کہنا تھا تو اس نے اتنے اہتمام سے اتنی دور کیوں بلایا تھا؟ کوئی بات ضرور تھی۔

دل ہی دل میں والز کو گالیاں دیتے ہوئے اس نے بظاہر ملائمت سے کہا:

’’مسٹر والز! میرا خیال ہے کہ تم صورتِ حال کی نزاکت کو سمجھ نہیں رہے ہو۔ ڈان کارلیون جونی کے گاڈ فادر ہیں۔ یہ ایک بہت ہی قریبی اور روحانی قسم کا رشتہ ہے۔ اطالوی ازراہِ مذاق کہا کرتے ہیں کہ دنیا میں زندگی گزارنا اتنا مشکل کام ہے کہ انسان کی دیکھ بھال کے لیے اس کے دوباپ ہونے چاہییں۔ اس مذاق کی کوکھ سے ’’گاڈ فادر‘‘ کے نہایت سنجیدہ رشتے نے جنم لیا ہے۔ اطالوی جسے اپنا مربی، سرپرست اور ایک قسم کا روحانی باپ سمجھتے ہیں، اسے اپنا ’’گاڈ فادر‘‘ کہتے ہیں۔ جونی کے گاڈ فادر ڈان کارلیون ہیں اور چونکہ جونی کا حقیقی باپ مرچکا ہے، اس لیے مسٹر کارلیون اور بھی زیادہ گہرائی سے جونی کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں اور ڈان کارلیون ایک بہت حساس انسان بھی ہیں۔ جو انسان ایک بار ان کی کوئی درخواست قبول کرنے سے انکار کردے، اسے وہ زندگی میں پھر کبھی کوئی کام نہیں بتاتے۔‘‘

والز نے کندھے اُچکائے: ’’سوری۔۔۔ لیکن میرا جواب بہرحال وہی رہے گا، جو میں دے چکا ہوں۔۔۔ لیکن اب تم آئے ہو تو ہم کسی نہ کسی معاملے پر تو تعاون کی بات کرلیں۔ یہ بتاؤ کہ اسٹوڈیو میں ورکرز کی ہڑتال رکوانے کے لیے مجھے کتنی رقم خرچ کرنی پڑے گی؟ میں ابھی۔۔۔ اسی وقت نقد ادائیگی کرسکتا ہوں۔‘‘

تب ہیگن کی کم ازکم ایک اُلجھن دور ہوگئی۔ اس کی سمجھ میں آگیا کہ جب جونی کے بارے میں والز اپنے انکار پر قائم تھا تو اس نے اسے اتنی دور بلانے اور اس کے ساتھ اتنا وقت گزارنے کی زحمت کیوں کی تھی۔ وہ اصل میں صرف یہی بات کرنا چاہتا تھا جو اَب اس کی زبان پر آئی تھی۔ وہ ڈان کارلیون سے خوفزدہ نہیں تھا۔ اسے اپنے بارے میں یقین تھا کہ اسے نقصان پہنچانا کسی کے بس کی بات نہیں تھی۔ اسے صرف ایک بات کا اندازہ نہیں تھا کہ ڈان کی نظر میں اپنے وعدے کی کیا اہمیت تھی۔ ڈان نے جونی سے وعدہ کرلیا تھا کہ والز کی فلم میں کاسٹ ہوگا۔ ڈان نے آج تک کسی سے کوئی ایسا وعدہ نہیں کیا تھا جسے وہ پورا نہ کرسکا ہو۔

"دنیا میں زندگی گزارنا اتنا مشکل کام ہے کہ انسان کی دیکھ بھال کے لیے اس کے دوباپ ہونے چاہییں۔ اس مذاق کی کوکھ سے ’’گاڈ فادر‘‘ کے نہایت سنجیدہ رشتے نے جنم لیا ہے۔ اطالوی جسے اپنا مربی، سرپرست اور ایک قسم کا روحانی باپ سمجھتے ہیں، اسے اپنا ’’گاڈ فادر‘‘ کہتے ہیں۔"

ہیگن پُرسکون لہجے میں بولا:

’’تم شاید جان بوجھ کر میری بات کا غلط مطلب لے رہے ہو، تم مجھے کسی ایسے آدمی کا نمایندہ قرار دینے کی کوشش کررہے ہو جو لوگوں کو ڈرا دھماکر رقم وصول کرتا ہے۔ مسٹر کارلیون نے ہڑتال رکوانے کی جو بات کی تھی، وہ صرف دوستانہ بنیادوں پر۔۔۔ اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے یہ کام انجام دینے کے بارے میں تھی اور اس کے جواب میں تم سے بھی ایک چھوٹی سی مہربانی کی درخواست کی گئی تھی۔ یہ صرف اپنے اثرورسوخ اور اختیارات کے دوستانہ تبادلے کی بات تھی، لیکن لگتا ہے کہ تم ہر شخص کی درخواست کے پیچھے اس کا کوئی لالچ تلاش کرنے کے عادی ہو۔ تم نے میری اس بات کو صحیح طور پر سمجھا ہی نہیں، اور میرا خیال ہے تم غلطی کررہے ہو۔‘‘

یہ بھی پڑھیں:   گاڈ فادر (13)

والز ایک بار پھر گویا جان بوجھ کر اشتعال میں آگیا۔

’’میں سب کچھ اچھی طرح سمجھ رہا ہو۔ اپنی بات منوانے کا مافیا کا یہی اسٹائل ہے۔ بظاہر مافیا کے لوگ بڑی میٹھی میٹھی باتیں کررہے ہوتے ہیں۔۔۔ اپنے مخاطب کو مکھن لگارہے ہوتے ہیں۔۔۔ لیکن درحقیقت وہ دھمکیاں دے رہے ہوتے ہیں۔ میں ایک بار پھر تمہیں صاف صاف بتادوں کہ جونی کو کبھی میری فلم میں کام نہیں ملے گا۔ حالانکہ مجھے اعتراف ہے کہ وہ اس کردار کے لیے موزوں ترین آدمی ہے۔۔۔ لیکن اس فلم سے اسے فلمی دنیا میں دوسرا جنم مل جائے گا اور میں اسے دوبارہ زندہ نہیں کرنا چاہتا۔۔۔ بلکہ دھکے دے کر فلم انڈسٹری سے باہر نکالنا چاہتا ہوں، کیونکہ اس نے اس لڑکی کو مجھ سے چھینا تھا جس پر پانچ سال تک میں نے پیسہ پانی کی طرح بہایا تھا۔ اسے مستقبل کی سپراسٹار بنانے کے لیے ہر شعبہ زندگی کے بہترین لوگوں سے ٹریننگ دلوائی تھی۔ تم پھر کہوگے کہ شاید میں صرف مالی فائدے نقصان کو نظر میں رکھتا ہوں۔۔۔ اس لیے میں مالی نقصان کی بات چھوڑدیتا ہوں۔ مجھے جذباتی طور پر بھی جو نقصان پہنچا ہے، اس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔

میرے دنیا کی معروف ترین عورتوں کے ساتھ تعلقات رہے ہیں، لیکن اس لڑکی میں کچھ ایسی خوبیاں تھیں کہ میں اس کا دیوانہ تھا۔۔۔ اور میں اسے نہ جانے کیا سے کیا بنادیتا۔۔۔ لیکن وہ احمق لڑکی جونی کی خوبصورت شخصیت اور اس کی میٹھی میٹھی باتوں کے طلسم میں گرفتار ہوکر اپنی پرتعیش زندگی اور شاندار مستقبل پر لات مارکر چلی گئی۔۔۔ اور اس کتنا کی بچی کو جونی سے چند رنگین راتوں کے سوا کچھ نہیں ملا۔ اس واقعے سے باقی تو جو کچھ ہوا سو ہوا، لیکن میری پوزیشن بڑی مضحکہ خیز سی ہوکر رہ گئی اور میں جس مقام پر ہوں، میری جو حیثیت ہے، اسے سامنے رکھتے ہوئے میں مضحکہ خیز نظر آنا افورڈ نہیں کرسکتا مسٹرہیگن! کیا بات تمہاری سمجھ میں آگئی؟‘‘

ہیگن اور ڈان کارلیون کی دنیا میں یہ احمقانہ باتیں تھیں۔ بچکانہ اندازِ فکر تھا، لیکن اس نے یہ کہنے کے بجائے ملائمت سے کہا:

’’تم جتنا جہاں دیدہ ہوجانے کے بعد انسان کو اس قسم کی باتوں کو دل پر نہیں لینا چاہیے۔ تمہیں اندازہ نہیں ہے کہ مسٹر کارلیون جونی کو کتنا زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اس سے کیا ہوا وعدہ ان کی نظر میں بہت اہم ہے۔۔۔ بلکہ مسٹر کارلیون جس سے بھی۔۔۔ وعدہ کرلیتے ہیں، وہ ان کی نظر میں بہت اہم ہوتا ہے۔ چاہے بات کتنی ہی معمولی ہو۔ ڈان کارلیون کبھی اپنے دوستوں کو شرمندہ نہیں ہونے دیتے۔‘‘

والز اچانک اُٹھ کھڑا ہوا اور برہمی سے بولا:

’’میں نے تمہاری باتیں بہت سن لی ہیں۔ میں بدمعاشوں کا حکم نہیں مانتا، بدمعاش میرا حکم مانتے ہیں۔ میں چاہوں تو ابھی یہ فون اُٹھاکر صرف چند سیکنڈ بات کروں تو تمہاری کم ازکم آج کی رات جیل میں گزرے گی۔۔۔ اور اگر تمہاری مافیا کے اس سردار نے کوئی بدمعاشی دکھانے کی کوشش کی تو اسے پتا چل جائے گا کہ میں کوئی ترنوالہ نہیں ہوں۔ اسے اندازہ بھی نہیں ہوسکے گا کہ اس پر کیا آفت ٹوٹی جو اسے فنا کرگئی۔ اس مقصد کے لیے اگر مجھے وائٹ ہاؤس میں اپنا اثرورسوخ استعمال کرنا پڑا تو میں کروں گا۔‘‘

ایک بار پھر وہ شخص ہیگن کو بہت ہی احمق لگا اور ایک بار پھر وہ حیرت سے سوچے بغیر نہیں رہ سکا کہ اتنا احمق شخص اتنی بڑی حیثیت کا حامل کیونکر ہوگیا تھا؟ اس مقام پر۔۔۔ اور اس عمر کو پہنچ کر بھی وہ بچکانہ انا۔۔۔ سفلی جذبات اور مالی نفع نقصان کی جنگ میں اُلجھا ہوا تھا۔ اصل پیغام اس کے موٹے دماغ تک پہنچ ہی نہیں رہا تھا۔

’’ڈنر کا۔۔۔ اور میرے ساتھ ایک اچھی شام گزارنے کا شکریہ۔۔۔‘‘

آخر ہیگن نے کہا: ’’کیا کچھ دیر بعد میرے لیے سواری کا انتظام ہوجائے گا؟ میں ایرپورٹ جانا چاہتا ہوں۔ معذرت چاہتا ہوں کہ رات یہاں نہیں گزار سکوں گا۔ مسٹرکارلیون کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر کوئی بری خبر ہو تو وہ انہیں جلد ازجلد سنادی جائے۔‘‘

(جاری ہے)