جماعت اسلامی: حکمت عملی، غور و فکر کے چند پہلو - ارشد زمان

سیاسی کامیابی کے لیے بلاشبہ پالیسیوں کا بھی ٹھنڈے دل کے ساتھ جائزہ لینا ضروری ہے اور بہتر سے بہتر حکمت عملی ترتیب دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہےجبکہ سیاسی اور نظریاتی تشخص کی بہتری اور خوبصورتی کے لیے بھی اقدامات اٹھانا لازمی ہے مگر ان سب اُمور کی جو بنیاد ہے اس پر توجہ دیے بغیر کچھ پانے کی امیدرکھنا اندھیروں میں تیر چلانے کے مترادف ہے۔

مجموعی طورپہ آج کی اسلامی تحریکوں کے سامنے ایک اہم چیلنج یہ ہے کہ بدلتےحالات اورنئے رجحانات کے پیش نظر چیلنجز کا ادراک اور مقابلے کی راہیں اورموثرعملی حکمت عملی کیا ہوسکتی ہے؟ خیال کیاجاتاہے کہ اس اہم ایشو پر غوروفکر،تجزیے اور منصوبہ بندی کرتے ہوئے عموماً ان تین دائروں کو مطلوبہ توجہ نہیں دی جاتی۔ گویا کہ "نظریں ہمیشہ سے آفاق ہی پر رہتی ہیں مگرقدموں کی جانب توجہ ہی نہیں دی جاتی۔ درست بات یہ ہے کہ نظریں بلاشبہ آفاق ہی پر ہوں مگر قدم مضبوطی کے ساتھ زمین پر ہوں۔ قدموں کو جمائے بغیر ہواؤں میں گھورنے سے کچھ پانا ناممکن ہے۔ ہمارے خیال میں یہ تین اہم ترین پہلو ہیں، جن کابہت نیچے تک پر جائزہ لینا ناگزیر ہے: تنظیم، تربیت، دعوت۔

تنظیم

دیکھنا یہ ہے کہ جماعت کی تنظیم کیا واقعی اتنے بڑے بوجھ کواٹھانے کی لائق ہے؟

کیا تنظیم بوجھل پن کا شکار تو نہیں؟

کہیں تنظیم پر جمود طاری تونہیں؟

کہیں تنظیم برائے تنظیم والا معاملہ تو نہیں؟

کہیں تنظیم ایک خاص "دائرے" کی محافظ تو نہیں؟

کہیں تنظیم کی بقاء اور استحکام مقصود تو نہیں ٹھہرا ہے؟

کیا تنظیم میں مطلوبہ یکسوئی موجود ہے؟

جان لینا ضروری ہے کہ تحریکی وسعت سے خوف نہیں کھانا چاہیے اور اپنے دائروں کو وسیع سے وسیع تر کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ مگر اس کی بنیاد کو مستحکم،موثراورفعال رکھنا از حد لازم ہے۔ فی الوقت جو چیز زیادہ قابل توجہ ہے، وہ ہے تنظیم میں مکمل یکسوئی کا حصول۔

یکسوئی کے حصول اور اسے برقرار رکھنے کے لیے ہر سطح پر حقیقی مشاورت کرنا، 'کمیونیکیشن گیپ' کو کم سے کم کرنا،کارکنان کو اعتماد دلانا،عدل کے تصورکو عملی جامہ پہنانا اور احتساب کے نظام کو موثر بنانا۔

مرض کی اگر بروقت تشخیص نہ ہو تو وہ ناسور کی صورت اختیار کرلیتا ہے اور جسم کو برباد کرکے رکھ دیتاہے۔ انسانی جماعتوں میں اختلافات کا ہوناکوئی بہت بڑی بات نہیں ہے اور نہ اسے مکمل طور پر ختم کرانا ممکن ہے۔ مگر اسے کم سے کم کرنا اور اس کے اثر کو کم تر رکھا جا سکتا ہے۔ اس لیے بروقت اقدامات اٹھانا اور اس حوالے سے حساسیت کو برقرار رکھنا انتہائی اہم ہے۔ اختلافات،مسائل اور تنازعات پر چشم پوشی اختیار کرنا،اسے نظرانداز کرنااور اسے کوئی اہمیت نہ دینا کوئی دانشمندی نہیں ہوسکتی ۔ کچرےکو قالین کے نیچے کب تک چھپایا جاسکتا ہے؟

تربیت

تربیت کاجائزہ تین دائروں میں لینا ضروری ہے

الف: کیا ایسے افراد کی مطلوبہ تعداد موجود ہے جواس تحریک کی فکری،علمی اور نظریاتی راہ نمائی بھی کرے اور اس حوالے سے چیلنجزکا ادراک کرکے پیش بندی بھی کرپائے؟

ایسے افراد کی تیاری کیا ترجیحات میں شامل ہے؟

ب: اس تحریک کے وابستگان کی اخلاقی، روحانی اور علمی معیار کیاتھا،کیا ہےاور کیا ہوناچاہیے؟

تحریکی شعور اور للہیت کا مطلوبہ معیار اگر برقرار نہیں ہے تو کیسے اتنا بڑا انقلاب برپاکیاجاسکے گا؟

ج:یہ بھی دیکھنا ازحد لازم ہے کہ ہر سطح کی قیادت کہاں تک قیادت کے اوصاف سے مزیّن ہے؟

کہیں ایسا تو نہیں کہ نچلی سطح کی قیادت کو جماعت کے طریقہ کار،حکمت عملی اور پالیسیوں کا ادراک ہی نہیں؟

جماعت جو اہداف رکھتی ہے، جو ترجیحات طے کرتی ہے اور جو منصوبہ تیار کرتی ہے کیا اس پر عمل درآمد ہوتا ہے؟ جب تک ہر سطح کے لیے ایسی قیادت تیار نہ ہوں کہ وہ نہ صرف تحریکی مزاج کا حامل ہو بلکہ ساتھ سکیل بھی رکھتا ہوں یعنی وہ تنظیم کے تقاضوں کو بھی سمجھتا ہو، ٹیم ورک کے ساتھ کام کرنے کا بھی ماہر ہو، خود کچھ کرنےاور کرانےکی اہلیت بھی رکھتا ہو اور افراد کے درست اور موثر استعمال کا گر بھی جانتا ہوں۔ تو مرکزی سطح پر قیادت جتنی بھی متحرک کیوں نہ ہو، پوری تنظیم پر ایسا ہی جمود طاری ہوگا یعنی"سر گرم اور دھڑ ٹھنڈا" والا معاملہ ۔

منصوبے تو محض کاغذ کے نقشے ہوتے ہیں۔ ان میں رنگ بھرنا تو نچلی قیادت کاکام ہوتا ہے اور اگر یہ لوگ مطلوبہ معیار ہی کیا، کم سے کم معیار پر بھی پورے نہیں اترتے ہوں تو اہداف کا حصول دیوانے کا خواب ہی رہے گا۔

دعوت

سید مودودیؒ نے فرمایا تھا کہ جہاں اشاعت دین کا اختتام ہوتا ہے وہاں سے اقامت دین کی جدوجہد شروع ہوتی ہے۔ مراد یہی ہے کہ اقامت دین تو منزل ہے مگر اشاعت دین تو راستہ ہے اگر راستے پر سفر ہی نہ ہو تو منزل پر کیسے پہنچا جاسکتا ہے؟

اس حوالے سے جائزہ لینا چاہیے کہ کیاکارکن اپنی دعوت سےاچھی طرح آگاہ ہے؟ وہ جماعت کے طریقہ کار سے واقف ہے؟

اس طرح قیادت کو یہ دیکھنا ہے کہ تطہیرافکار،تطہیرمعاشرہ اورتطہیری نظام ان تین دائروں کے لیے سوچ اور پلاننگ میں کتنا توازن قائم ہے؟

توجہ فی الوقت یہی ہے اور یہی ترجیح ہونی چاہیے کہ معاشرے کو اپنی جانب متوجہ کرانے کے ساتھ ساتھ افراد سازی کو انکھوں سے اوجھل نہیں کرناچاہیے۔ افراد ہی تطہیر معاشرہ کے لیے جدوجہد کریں گے اگر فرد ہی کم سے کم مطلوبہ معیار پر پورا نہیں اتریں گے تو اس بھاری بوجھ کو کیسےاٹھایاجاسکتا ہے؟

جب تک کارکن اپنی اپنی جگہ پر متحرک نہ ہوں تو تنظیمی سرگرمیاں اور قیادت کی جاں گسل جدوجہد اور تحرّک ایک حد سے زیادہ معاشرے میں نفوذ کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

فوکس اس پر ہوناچاہیے کہ کارکن دعوتی مزاج کا حامل ہوں۔ یعنی دعوت دین کے حوالے سےدل میں سوز،درد،تڑپ اور فکرمندی کے جذبات ہوں۔

ایک عام سے پیمانے کو اٹھاکر اس حوالے سے جائزہ لیاجاسکتا ہے۔یعنی دیکھ لینا چاہیے کہ کیااس دعوتی تحریک کا کوئی کارکن ہی کیا قیادت کے منصب پر فائز ذمہ داران تک اپنے ادارے،دفتر اور گھر میں بھی دعوت کاکام کرتے ہیں کہ نہیں؟

اسی طرح جائزے کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ کروڑوں لوگوں تک اپنی دعوت پہنچانی ہے،لاکھوں لوگوں کو اس کام کے لیے اپنے ساتھ ملانا ہے اور ایک بڑی معقول تعداد ایسے لوگوں کی تیارکرنی ہے جن کا اوڑھنا بچھونا یہ تحریک اوراس کی دعوت ہو اور اپنا سب کچھ اس راہ میں لٹانے پر خوشی اوراطمینان محسوس کرنے والے ہوں۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اتنے بڑے پیمانے پر ہماری دعوتی سرگرمیاں ہوتی ہیں؟ اور ان سرگرمیوں کے ذریعے اتنی بڑی تعداد کو دعوت پہنچ بھی پاتی ہے؟

آسان سی بات یہ ہے کہ ایک مضبوط سے مضبوط یونٹ اور فعال یونٹ و مقام میں ہفتہ وار یا ماہانہ دعوتی سرگرمیاں کتنی ہوتی ہیں اور اس میں حاضری کتنی رہتی ہے؟

اگر حال یہ ہو کہ چند ارکان و کارکنان کا اکٹھ ہو اور وہ بھی غیر موثر تو پھر یہ 'کولہو کے بیل' کی طرح کا دائروں کا سفر توہےجو صرف تسکین پہنچاتا ہے مگر منزل تک پہنچنا تو ہمیشہ کے لیے ایک خواب ہی رہے گا۔

لہٰذا ضروری ہے کہ مسلسل،مربوط اور موثرانداز میں ایسی دعوتی سرگرمیوں کے انعقاد پر توجہ دی جائے کہ ایک جانب تو اپنی اصل دعوت کو اپنی اصل اور موثر انداز میں غالب اکثریت تک پہنچائی جائے اور دوسری جانب ایک بڑی تعداد کو 'ایجوکیٹ' بھی کیاجاسکے اور وہ سمجھ پائے کہ اصلاح معاشرہ اور اسلامی نظام کا قیام ان کی ذمہ داری اور ایک ناگزیر ضرورت ہے۔

سید مودودیؒ نے اس جانب یوں متوجہ کیا ہے کہ " اصلاحِ معاشرہ سے اگر آپ کی مراد معاشرے کو اسلامی نظامِ زندگی قائم کرنے کے لیے تیار کرنا ھے تو ووٹر کو صحیح انتخابات کے لیے تیار کرنا اس کے دائرہ عمل سے خارج کیسے ہو سکتا ہے؟ اور یہ کام کیے بغیر کس طرح ممکن ہے کہ آپ کا معاشرہ کبھی فاسد قیادتوں کو ہٹا کر کوئی صالح قیادت برپا کرنے کے قابل ہو سکے؟

آپ کو اس کے لیے ووٹر کی اخلاقی قدریں بدلنی ہوں گی۔

اُسے اسلامی نظام سے روشناس کرانا ہو گا۔

اُس میں اسلامی نظام کی طلب پیدا کرنی ہو گی۔

اُس کو صالح اور غیر صالح کی تمیز دینی ہو گی۔

اُس کو یہ احساس دلانا ہو گا کہ اِس ملک کی بھلائی اور بُرائی کا ذمہ دار براہِ راست وہ خود ہے۔

اُس میں اتنی اخلاقی طاقت اور سمجھ بوجھ پیدا کرنی ہو گی کہ نہ دَھن کے عوض اپنا ووٹ بیچے، نہ دھونس میں آ کر اپنے ضمیر کے خلاف کسی کو ووٹ دے۔

نہ دھوکہ دینے والوں کے دھوکے میں آئے اور نہ دھاندلیوں سے بددِل ہو کر گھر بیٹھ رہے "

بس خلاصے کے طور پر ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ موجودہ مروجہ سیاسی وجمہوری نظام میں رہتے ہوئے اس نظام کی تبدیلی کے لیے اس کے مروجہ تقاضوں کو مد نظر نہ رکھنا اور یا صرفِ نظرکرنا حقیقت کے دنیا میں آنکھیں بند کرکے سفر کرنے کے مترادف ہے۔نظر آرہا ہے کہ موجودہ سفر پاکیزہ بھی ہے اور نہایت منظم بھی لیکن ہے دائروں کے اندر، دائروں کا سفر تسکین تو پہنچاتا ہے لیکن منزل کو نہیں حاصل کرپاتا۔معاشرے میں موجود ہر قسم کے خیر کو اکٹھا کرکے ساتھ لیکر چلنا جماعت کے موجودہ تنظیمی ساخت میں مشکل نظر آرہا ہے اس لیے اپنے دامن کو وسعت دیے بغیر راستے مسدود ہوتے جائیں گے۔ بلاشبہ پارلیمانی طاقت کا حصول ناگزیر ہے مگر یہ یادرکھنابھی "فرض عین" ہے کہ بنیادی طور پر جماعت اسلامی حکومت الٰہیہ کے قیام یعنی اقامت دین کے لیے برپا کی گئی ایک دعوتی،فکری،نظریاتی اور انقلابی تحریک ہے محض سیاسی تبدیلی،موجودہ نظام کی اصلاح اور تعمیر وترقی کا سفر اس کا مطلوب و مقصود ہرگزنہیں۔

سید منوّر حسن صاحب کے بقول جہاد کو اپنے روح کے ساتھ اپنے کلچر کا لازمی حصہ بنانا ہوگا یعنی ایک جانب اپنے کارکن کو ایمان و یقین، اخلاص، صبر، برداشت، رواداری اور تقویٰ کے دولت سے مالا مال کرانا ہوگا اور دوسری جانب معاشرے کے قلوب و اذہان کو تبدیل کر کے ہر قسم مزاحمت، برداشت اور قبولیت کے جذبے کو عام کرنا ہوگا۔ موجودہ نظام کے خلاف جدوجہد کرنا ایک پہلو ہے لیکن لائے ہوئے نئے نظام کا تحفظ کرنا بلکہ صحیح معنوں میں سہنا دوسرا لازمی پہلو ہے۔

Comments

ارشد زمان

ارشد زمان

ارشد زمان اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسلام اورمغربی تہذیب پسندیدہ موضوع ہے جبکہ سیاسی و سماجی موضوعات پر بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ تعلیم و تربیت سے وابستگی شوق ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */