قوموں کے معمار - مصباح الامین

جب اس ارضِ فانی کو وجود بخشا گیا، تو اس خاک کے ذرّوں کو انواع و اقسام کی اشکال سے نوازا گیا۔ کہیں پر سرسبز و شاداب نظاروں سے اس دشت کو آباد کیا گیا، تو کہیں اس دُھول کو تاحد نگاہ صحراؤں میں بکھیرا گیا۔ اس زمیں سے نکلتی فلک بوس چٹانوں کو زندگی عطا کی گئی، تو کہیں ان کے پیچھے گہری کھائیوں میں علوم کے "خزانوں" کو دفنا دیا گیا۔

پھر وقت کی کروٹ نے حضرت انسان کے دل میں، بقاء حیات اور علوم سے آشنائی کی جستجو پیدا کر دی۔ ابن آدم نے حوا کی گود سے پہلا سبق لے کر اس عالم فانی میں پنہاں، علوم کی سرکوبی کے لیے زندگی کے شب و روز یکجا کر دیے۔ کسی نے رات کی تنہائیوں میں اس دشت کو کریدا، تو کسی نے سحر کے اُجالے میں سمندر کو کھنگالا۔

برس ہا برس کی ریاضتوں سے، علوم کے سمندر سینوں میں دفن ہوتے چلے گئے۔ ان علوم کی سرکوبی کے بعد، معاشرتی ترقی کے رستے بھی وا ہوئے۔جن کی وسعتوں میں انسان نے ہوش سنبھالتے ہی، اپنی منزل کا تعین کیا۔ طلبِ علم نے گھر کی چوکھٹ سے درس گاہ کی دہلیز کا رستہ دکھایا۔ جس کے دریچوں میں مسکراتے چہروں کا ایک دستہ نظر آیا۔ جن کی آنکھوں کی چمک اُن کے علم کی گہرائی کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ان کی بصیرت کی کرنیں، منزل کی مدہم راہوں کو روشن کئے ہوئے تھیں۔

جی ہاں۔۔! جس کو "استاد" کہتے ہیں، جس کو "معمار" کہتے ہیں۔ جس کو روحانی والد کا درجہ ملا ہے۔ جس کو معلّم کے خطاب سے نوازا گیا ہے۔ جو بغیر کسی غرض کے اپنے روحانی فرزندوں پر علوم کی بارش برسا دیتا ہے۔ زینہ بہ زینہ ترقی کی راہ ہموار کرتا ہے۔جو اپنے علم اور تجربے کو یکجا کرکے، شاگرد کے دل و دماغ پر نقش کر دیتا ہے۔جو اس ننھی کونپل کو وقت کے طوفانوں سے لڑنا سکھاتا ہے۔ جو اس علم کے پیاسے پر، اپنے مشاہدے کے صحرا کے ذرّے، جھولیاں بھر کے نچھاور کرتا ہے۔جو اپنے بکھرے بالوں اور ٹوٹے چشمے سے بے پروا، شاگرد کے ڈگمگاتے قدموں کو ہر پل سہارا دیتا ہے۔شکستہ کرسی پر بیٹھ کر اپنے شاگردوں کی کامیابیوں کی خوشی سے، پھولے نہیں سماتا ہے۔ زمیں کی پستیوں سے اٹھا کر فلک کی وسعتوں پر پہنچا دیتا ہے۔ پھر اس چمکتے ستارے کی روشنی کی چمک کو دیکھ کر اپنی "تکان دور کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اساتذہ کے اوقات ایک ٹینشن - لطیف النسا ء

سلام ہے۔۔۔ اس بے لوث ہستی پر!

سلام ہے۔۔۔ اس کی بے مثال محنت پر!

سلام ہے۔۔۔ اس کی بے بدل لگن پر!

جو قومیں اپنے ان محسنین کی محنتوں پر پانی پھیر دیتی ہیں ،ان کے احسانات کو فراموش کر بیٹھتی ہیں ، ان کی قربانیوں کو پس پشت ڈال کر خواب غفلت میں ڈوب جاتی ہیں ، ان کے زوال کے اسباب خوبخود پیدا ہو نے شروع ہو جاتے ہیں۔ پھر وقت ہی "استاد" بن کر بہت سے اسباق سے آشنائی کرا دیتا ہے۔

آج اپنی ان کامیابیوں میں ان بزرگ ہستیوں کی رنگ لائی محنت کو بھی یاد کیجیے۔ ان کے شب و روز کی بھاگ دوڑ، جو آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، کو عقیدت کے گلدستوں سے نوازیے۔ ان کے لیے ہاتھ اٹھائیے اور نیک خواہشات کا اظہار کیجیے۔

رہبر بھی یہ ہمدم بھی یہ غم خوار ہمارے

استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے