’’درباری علماء‘‘ - محمد ریاض علیمی

تاریخ کا یہ المیہ رہا ہے کہ ہر دور میں حکمرانوں کو کوئی نہ کوئی ایسا طبقہ ضرور ملا ہے جس نے حکمرانوں کو دین سے دور کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ تاریخ کے بعض دلخراش واقعات تو ایسے ہیں کہ دین اسلام کے پاسبانوں نے دنیوی لالچ میں جاہ و منصب اور مال وزر کی خاطر بادشاہوں کے سامنے ان کی پسند کے مطابق اسلام کا نقشہ پیش کیا۔ بادشاہوں کو ایسے دنیا دار علماء کی وجہ سے اپنے مقاصد کو پروان چڑھانے میں بہت مدد ملی۔ ایسے درباری علماء نے دین کی اصل شکل کو مسخ کرکے اس کے احکامات کو بادشاہوں کی خواہشات کے تابع کیا۔ بادشاہ اپنی مرضی سے قاضی مقرر کرتا جو بادشاہ کے حکم کے مطابق فیصلہ سناتا۔ یہی وجہ تھی کہ بعض اوقات علمائے حق بادشاہوں کے دربار میں ایسے مناصب قبول کرنے سے اجتناب کرتے تھے، یہاں تک کہ وہ بادشاہ کے حکم کی خلاف ورزی پر سزا پانے کے لیے تیار ہوجاتے تھے لیکن چند ٹکوں کے عوض دین بیچنے پر راضی نہیں ہوتے تھے۔

مغلیہ دور میں اکبر بادشاہ کا دور بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتا ہے۔ اکبر بادشاہ خود تو ان پڑھ تھا لیکن اعلیٰ دماغ کا حامل تھا۔ اس نے ہندوؤں کی تالیف قلوب کی خاطر انہیں زیادہ سے زیادہ مراعات دیں اور ان کے ساتھ ازدواجی رشتے قائم کیے۔ اس نے دین الہٰی کے نام سے ایک نیا دین بھی جاری کیا۔ جو ایک انتہا پسندانہ اقدام تھا اور اکبر کے ہندو رتنوں کی مسلسل کوششوں کا نتیجہ تھا۔ اس نے اپنے غیر اسلامی معاملات کو رواج دینے کے لیے اپنے دربار میں ایسے لوگ جمع کیے ہوئے تھے جو علم و فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اکبر بادشاہ کو ابو الفضل اور فیضی جیسے متبحر علماء کی صحبت نصیب ہوئی جنہوں نے بادشاہ کی صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ متذکرہ دونوں علماء اپنے علم و فن میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ فیضی کے متعلق آتا ہے کہ وہ بہت بڑا مصنف تھا۔ اس کی تصنیفات کی تعداد ۱۰۰ سے زیادہ تھیں۔ تاریخ، فلسفہ اور طب وادبیات کا ماہر تھا۔ اس کے علم و فن کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے سواطع الالہام کے نام سے قرآن مجید کی غیر منقوط تفسیر لکھی۔ اکبر بادشاہ کی سوانح تین جلدوں پر مشتمل اکبر نامہ کے نام سے اسی کی کاوش تھی۔ اس طرح دربار اکبری کا دوسرا عالم ابو الفضل بھی اپنے وقت کا بلند پایہ مصنف تھا۔ اس کے خطوط کا مجموعہ فارسی ادب کا شاہکار سمجھا جاتا ہے۔یہ آزاد خیال شخص تھا۔ علماء اسے دہریہ سمجھتے تھے۔ اکبر کے دین الٰہی کے اجراء کا سبب یہی بناتھا۔ اسی نے اکبر بادشاہ کے مذہبی عقائد پر بہت اثر ڈالا اور بادشاہ کو یقین دلایا کہ مذہب کے معاملات میں آپ سے بہتر کوئی نہیں جانتا۔ دربار اکبری کے دونوں علماء کی ترغیب و تحریص اور تعاون سے اکبر بادشاہ دینِ الٰہی کے نام سے ایک نیا دین قائم کرنے میں کامیاب ہوا۔ تاریخی حقائق بتاتے ہیں کہ اس دین کو کامیاب کروانے میں درباری علماء کا بہت بڑا کردار تھا۔ اگر کوئی علمائے حق میں سے اکبر بادشاہ کے خلاف آواز اٹھاتا تو اسے جیل کی سلاخوں کے پیچھے جانا پڑتایا اپنی زندگی سے ہاتھ دھونا پڑتا۔ حضرت شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ کی مثال ہمارے سامنے موجود ہے جن کو اکبر بادشاہ کے بعد جہانگیر کے عقائد و نظریات کی مخالفت کے جرم میں قلعہ گوالیار میں قید کردیا گیاتھا۔

یہ بھی پڑھیں:   احسن اقبال سے تین سوال- آصف محمود

تاریخ بتاتی ہے کہ تقریباً ہر زمانے میں بادشاہوں اور حکمرانوں نے اپنا دربار چمکانے کے لیے اپنے موقف کی تائید میں علماء اکٹھے کرکے ان کو درباری علماء کا درجہ دیا ہے۔ ان علماء کو جاہ عزت و منصب سے نوازا ہے جس کی احسان نوازی میں ان علماء نے کبھی بھی حق بات کہنے کی جرأت نہیں کی۔ تاریخی تناظر میں دور حاضر کا مشاہدہ کیا جائے تو اس دور میں بھی ’’درباری علماء‘‘ کی کمی نہیں ہے۔ پارلیمنٹ ہو یا اسمبلی جہاں بھی اسلام مخالف یا پاکستان مخالف کوئی بات یا نظریہ پیش کیا جائے یا آئین میں اسلامی دفعات کے متعلق ترمیم کا معاملہ ہوتو تو اس کی تائید کرتے ہوئے اس کے حق میں دلائل دینا یا اس معاملہ پر خاموش رہنا ان کی ذمہ داری ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی مخالفت میں اور حکمرانوں کی خوشنودی کے لیے درباری علماء سرگرم ہیں۔ دور نہ جائیں، اس کی واضح ترین مثال موجودہ انتخابی اصلاحات کابل جس میں عقیدۂ ختم نبوت کے متعلق حلف نامے کے الفاظ تبدیل کیے گئے اور اس بل کو سینیٹ سے منظور کرانے کے ایک مہینے بعد قومی اسمبلی سے بھی منظور کرالیا گیا۔ اس بل کی تیاری میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگا، اس دوران کئی مرتبہ اس بل پر ابحاث ہوئیں اور تبادلۂ خیالات ہوئے،اعتراضات ہوئے لیکن وہ اعتراضات ہر سیاسی پارٹی کے مفاد پر ضرب لگنے کی وجہ سے تھے۔ اس بل میں انتہائی گھناؤنی طریقہ سے سازشی منصوبہ بندی کے تحت عقیدۂ ختم نبوت کے حلف نامے کے الفاظ تبدیل کیے گئے لیکن الفاظ کی تبدیلی پر کسی نے کوئی اختلافی نوٹ تحریر نہیں کیا۔ یہاں تک کہ اسمبلی میں موجود ’’درباری علماء‘‘ نے بھی اس پر کوئی اختلافی نوٹ تحریر نہیں کیا اور نہ ہی کوئی احتجاج ریکارڈ کروایابلکہ اس ترمیم کو من وعن قبول کرتے ہوئے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ حقیقت ہے کہ جب ان کو اس ترمیم سے آگاہ کیا گیا تو بڑی دلیری سے انکار کردیا کہ حلف نامہ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ بعد میں مذہبی تنظیموں کی جانب سے جب یہ احتجاج زور پکڑنے لگا تو چار وناچار ’’ درباری علماء ‘‘ کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   الیکشن قوانین میں تازہ ترین ترمیم اور ختمِ نبوت کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

بات یہاں ختم نہیں ہوتی منافقت کا عالم یہ ہے کہ جب مذہبی تنظیموں کے پر زور احتجاج کے باعث حکومت نے اس ترمیم کو واپس لینے کا اعلان کیا تو ’’درباری علماء‘‘ نے اس کا سہرا اپنے سر سجانے کی کوشش کی کہ ہماری ترغیب اور تحریک سے حکومت یہ ترمیم واپس لینے پر مجبور ہوئی۔ یہ کوئی فرسودہ باتیں یا من گھڑت باتیں نہیں ہیں بلکہ یہ وہ حقائق ہیں جنہیں قبول اور تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں ہے۔ گذشہ ماہ کے اخبارات اٹھاکر دیکھ لیں ‘ اس طرح کے منافقانہ بیانات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ اگر پاکستان کی قومی اسمبلی کے ممبران کاجائزہ لیاجائے تو اس حقیت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس میں ایسے لوگ (درباری علماء ) بھی شامل ہیں جن کے اکابرین اس بات پر فخر کیا کرتے تھے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں ہوئے۔ جب اس قسم کے افکار اور رجحانات کے سائے یں تربیت پانے والے مولوی قوم کے نمائندے بن کر اسمبلیوں میں آئیں گے تو ان سے کسی قسم کی خیر کی امید نہیں کی جاسکتی۔

یہی وہ علماء ہیں جن کی حقیقت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے ہی آگاہ فرمادیا تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری امت عنقریب فتنہ میں مبتلا ہوگی اور وہ فتنہ علماء اور حکمران کی جانب سے ہوگا، حکمران لوگوں کو حقوق سے محروم کردیں گے یوں کہ وہ لوگوں کے حقوق میں کمی کریں گے اور انہیں ادا نہ کریں گے، پس وہ باہم ایک دوسرے سے لڑیں گے، علماء حکمرانوں کی خواہشات کی پیروی کریں گے اور انہیں گمراہی کی طرف لے جائیں گے۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء) یہ روایت ان لوگوں کے لیے باعث عبرت ہے جو چھوٹے چھوٹے عہدوں کے لیے وزیروں کے گھروں کا طواف کرتے ہیں اور دین کا لبادہ اوڑھ کر دین کی تعلیمات کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ درباری علماء کے لیے دعوت فکر ہے کہ وہ اپنا محاسبہ کریں اورمنافقانہ طرز عمل سے اجتناب کریں۔ ہر موقع و محل پر حق بات بیان کریں کیونکہ علمائے حق کا یہی طریقہ رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ان کا یہ منافقانہ طرز عمل زندگی کے ساتھ ساتھ آخرت کی بربادی کا بھی سبب بن جائے اور انہیں توبہ کرنے کی توفیق بھی نہ مل سکے۔ اس قسم کے علماء کے منافقانہ طرز عمل کی کی وجہ سے لوگ علمائے حق سے بھی دور ہوجاتے ہیں اور ان کو بدنام کرتے ہیں۔