ہم پاکستانی کیا چاہتے ہیں ؟ یاسر پیر زادہ

اگر سچ پوچھیں تو ہماری خواہشات خاصی جائز ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں طورخم سے گوادر تک امن ہو، کسی مسجد کسی گرجے میں دھماکہ نہ ہو، ہر طرف قانون کی بالادستی ہو، چھوٹا، بڑا، عام اور خاص ہر شخص قانون کے دائرے میں رہے، سرکاری اداروں میں کسی کو اپنے کام کے لئے دھکے نہ کھانے پڑیں، یہاں لوگ اپنی شکایت درج کروائیں وہاں گھر بیٹھے کمپیوٹر پر مسئلہ حل ہو جائے، پولیس والے عام شہری کو سیلوٹ مار کے بات کریں، انہیں سر کہہ کر مخاطب کریں، بچے بے فکری سے پارکوں میں کھیلیں، حکمران بھیس بدل کر رات کو گشت کرکے لوگوں کے مسائل معلوم کریں، پڑھے لکھے اور مہذب نوجوان کے لئے سیاست شجر ممنوعہ نہ ہو، کوئی بھی عام آدمی انتخاب لڑ سکے، پارلیمان میں جاگیرداروں اور اشرافیہ کی بجائے یونیورسٹیوں کے فارغ التحصیل افراد ہوں، کسانوں کی نمائندگی کسان کریں اور مزدور کی نمائندگی مزدور، وزیر اعظم سائیکل پر سفر کرے اور اسے سٹینڈ پر زنجیر والا تالا لگا کر دفتر جائے، امیروں سے ٹیکس وصول کرکے غریبوں پر خرچ کیا جائے، ملک میں صحت کی سہولتیں ایسی ہوں کہ لوگ لندن سے اپنا علاج کروانے میو اسپتال آئیں، پاکستانی پاسپورٹ کی ایسی توقیر ہو کہ ڈیڑھ سو ممالک میں بغیر ویزا انٹری ہو جائے، احتساب کا ایسا نظام ہو کہ کوئی بے گناہ ذلیل نہ ہو اور کوئی کرپٹ بچ نہ پائے، کرپشن کی سزا موت ہو، چوراہے پر پھانسیاں دی جائیں، ہر عدالت ایک ماہ میں مقدمے کا فیصلہ سنا دے، جیلوں میں قید لوگوں کی ایسی تربیت ہو کہ جب مجرم رہا ہو کر نکلے تو سیدھا ایدھی سینٹرمیں رضاکار بھرتی ہو جائے، ہمارا ملک کرکٹ، ہاکی، اسکواش اور ہو سکے تو فٹ بال کا ہر ورلڈ کپ جیتے، ہماری فلموں کو آسکر سے نوازا جائے، ہمارے ادیبوں کو نوبیل انعام دیا جائے، ہماری یونیورسٹیاں بو علی سینا اور فارابی پیدا کریں، تعلیمی نظام ایسا ہو کہ کوئی بچہ محض اپنی امارت کی بدولت ذہانت پر قابض نہ ہو جائے، ہمارے شہر خوبصورت ہوں، کوئٹہ سے پشاور تک بلٹ ٹرین چلتی ہو، دریاؤں، پہاڑوں، جنگلوں اور صحراؤں میں ایسے سیاحتی مقام ہوں کہ سویٹزر لینڈ سے لوگ یہاں ہنی مون منانے آئیں، گوادر ہانگ کانگ اور کراچی سنگا پور بن جائے، خزانہ ڈالروں سے بھرا ہو، بھارت دم دبا کر بھاگ جائے اور امریکہ دم بخود رہ جائے غرضیکہ، خدا کرے کہ میری ارض پاک پر اترے وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو!

اب یہ ہماری خواہشات تو ہیں مگر انہیں پورا کرنا حکومت کا کام ہے۔ ہمیں ایک ایسا ملک تو چاہیے جہاں صحت پر فی کس پانچ سو ڈالر خرچ ہوں مگر یہ پانچ سو ڈالر ہم سے ٹیکس کی شکل میں وصول نہ کئے جائیں بلکہ ریکوڈک کے سونا اگلتے پہاڑوں سے نکالے جائیں، سویٹزر لینڈ کے بنکوں میں چھپی کرپشن کی دولت سے لگائے جائیں، بنکوں سے معاف کروائے گئے جاگیرداروں اور صنعت کاروں کے قرضوں کی وصولی سے ممکن بنائے جائیں اور حکمرانوں کی عیاشیوں کا خرچ کم کرکے صحت کے کھاتے میں ڈالے جائیں۔

ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہماری یونیورسٹیاں آکسفورڈ اور کیمبرج کو رینکنگ میں پچھاڑ دیں مگر اپنی جامعات میں ہم ہر قسم کا سوال اٹھانے کی آزادی دینے کو تیار نہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ایک عام مڈل کلاس کا پڑھا لکھا شخص ہمارا نمائندہ منتخب ہو مگر وہ پڑھا لکھا شخص اس کام کے لئے اپنے وقت یا آرام کی قربانی دینے کے لئے تیار نہیں، جیل جانے اور لاٹھیاں کھانے کے لئے تیار نہیں، اسے پارلیمان کی رکنیت پلیٹ میں چاہئے۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ معاشرے سے کرپشن ختم ہو مگر جہاں خود موقع ملے وہاں چوکتے بھی نہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمارے غیر ملکی سیاح ہمارے ملک میں جوق در جوق آئیں مگر اُنہیں کسی قسم کی آزادی دینے کو ہم تیار نہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہماری گلیاں، محلے اور شہر صاف ستھرے ہوں مگر کوڑے کے ڈھیر ڈالنے میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ ہمارا حکمران سائیکل پر سفر کرے مگر اس بات پر بھی ماتم کرتے ہیں کہ سیکورٹی نہ ہونے کی وجہ سے دو وزرائے اعظم کو بیچ چوراہے پر قتل کر دیا گیا۔ ہم یہ تو چاہتے ہیں کہ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہو مگر ایک ٹریفک سگنل کی پاسداری کرنے کو تیار نہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہماری فلموں کو آسکر ملے لیکن جب کوئی آسکر لے آتی ہے تو اس کے پیچھے لٹھ لے کر پڑ جاتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ نوبیل انعام ہر سال ہمارے حصے میں آئے لیکن جب ہماری ایک بچی پاکستان کے لئے یہ اعزاز حاصل کر لیتی ہے تو ہم اس کو بھی نہیں بخشتے۔

یہ گھن چکر کچھ یوں ہے کہ عوام اپنے اجتماعی شعور کا اظہار کرکے حکومت تو منتخب کر دیتے ہیں مگر اُس کے بعد وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اُن کا فرض پورا ہو گیا، اب حکومت کا کام ہے کہ بلوچستان سے سونا نکالے، شہروں سے گند اٹھانے کا خودکار سسٹم بنائے، سرکاری اسکولوں کا معیار یورپ کے برابر کر دے، عام آدمی کی داد رسی کے لئے عدل جہانگیری جیسا نظام وضع کر دے، سرکاری دفاتر کو ایک جناتی کمپیوٹر میں تبدیل کردے۔ لیکن یہ سب ممکن نہیں ہوتا بلکہ الٹا عوام کو لگتا ہے کہ حکومت میں شامل لوگ سسٹم ٹھیک کرنے کی بجائے عیاشیوں میں دھت رہتے ہیں، اپنے ہر جائز اور ناجائز کام کا راستہ نکال لیتے ہیں، بنکوں سے قرضے معاف کروا لیتے ہیں،بیرون ملک دوروں پر کروڑوں خرچ کر ڈالتے ہیں، سیکورٹی کے نام پر جہازی گاڑیوں کے قافلے میں گھومتے ہیں۔ سو پھر عوام بھی ٹریفک کے اشارے کی خلاف ورزی کو معمولی بات سمجھتے ہیں، موقع ملنے پر کرپشن بھی کرتے ہیں، اپنے ناجائز کاموں کا جواز تلاش کرتے ہیں، ٹیکس چوری کرنے پر شرمندہ نہیں ہوتے اور ریاست کا مال ہڑپ کرنے پر انہیں کوئی ملال نہیں ہوتا۔ کیونکہ ان کے خیال میں ووٹ ڈال کر انہوں نے اپنا فرض تو ادا کیا مگر جواباً حکومت نے اپنا فرض پورا نہیں کیا سو وہ بری الذمہ، اور دوسری وجہ اس رویے کی یہ کہ جب کوئی دوسرا قانون کی پاسداری نہیں کرتا تو میں کیوں کروں۔

اب اِس مسئلہ فیثا غورث کا حل کیسے نکلے گا؟ کچھ ضرورت سے زیادہ پڑھے لکھے لوگ اس مسئلے کا اکثر حل پیش کرتے رہتے ہیں۔ ان پڑھے لکھوں کے نزدیک مسئلے کا حل یہ ہے کہ حکومت ’’کرپٹ سیاست دانوں‘‘ سے چھین کر انہیں دے دی جائے تو وہ بھی سنگاپور کے لی کوان کی طرح ملک کی کایا کلپ کر دیں گے۔ یہ افلاطون صدق دل سے سمجھتے ہیں کہ ملک کو ان پڑھ لوگوں نے اپنے جیسے ڈنگروں کو ووٹ دے کر برباد کر دیا ہے سو ملک اب اس حماقت کا مزید متحمل نہیں ہو سکتا۔ اِن لوگوں کے پاس ایک جادو کی چھڑی ہے جس سے یہ سارا نظام نہایت ہی مختصر عرصے میں سیدھا کر دیں گے۔ آخری مرتبہ جب اِن پڑھے لکھوں نے ایک آمر کے جوتوں کے سائے تلے جب یہ ماڈل آزمایا تھا تو اُس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ بلوچستان سے سونے کی بجائے لاشیں برآمد ہوتی تھیں، کراچی میں 12مئی منایا جاتا تھا، سوات سے پاکستان کا جھنڈا اتار دیا گیا تھا، اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو قید کر دیا گیا تھا اور ہمارے فوجی جوانوں کے سرکاٹ کر اُن سے فٹ بال کھیلی جاتی تھی۔ کسی کو یاد ہے یا سب بھول گئے؟