نیت یا نتیجہ؟ سہیل وڑائچ

سوال یہ ہے کہ کسی مسئلہ پر افراد کی نیت دیکھی جائے یا ان کے عمل کا نتیجہ دیکھا جائے؟انگریزی کے کلاسیک ڈرامہ نگار ولیم شیکسپیئر نے جولیس سیزر کے نام سے جو ڈرامہ لکھا وہ سیاست کی پرپیچ وادیوں میں افراد کی نیتوں اور ان کے اعمال سے نکلنے والے نتائج پر خوبصورت انداز میں روشنی ڈالتا ہے۔

سلطنت روما کا عظیم رہنما جولیس سیزر، جس کے نام پر جولائی کے مہینے کا نام ہے، بہت ہی بہادر اور نامور فاتح تھا۔ اس کی فتوحات کا چار دانگ شہرہ تھا۔ اندرونی طور پر سیزر عوام میں دن بدن مقبول ہو رہا تھا۔ محدود جمہوریت کے تصور پر قائم سینیٹ کو خطرہ پیدا ہوگیا کہ عوام میں مقبول جولیس سیزر کہیں بادشاہ نہ بن جائے۔ انتہائی قابل عزت اور ایماندار سینیٹر بروٹس نے انتہائی اچھی نیت سے سیزر کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا تاکہ محدود جمہوریت بچائی جائے۔ دوسری طرف سیزر بھی انتہائی اچھی نیت سے روم کو رومۃ الکبریٰ بنانا چاہتا تھا۔ قصہ کوتاہ، بروٹس اور اس کے ساتھیوں نےقیصرِ روم جولیس سیزر کو قتل کر ڈالا۔ بروٹس سیزر کا قریبی دوست تھا۔ بروٹس کے وار پر سیزر تڑپ اٹھا اور کہا ’’یو ٹو بروٹس‘‘ اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ دونوں حریفوں کی نیت اچھی تھی مگر نتیجہ کیا نکلا؟

روم بحران کا شکار ہوا اور بالآخر سیزر کے موقف کو دوام ملا، بروٹس کو بے وفائی کا طعنہ ملا۔ کسی فرد کوجاننے، پہچاننے یا پھر اس کا مقام متعین کرنے کے لئے اس کی نیت پر تبصرہ غیراہم ہے۔ اہمیت اس بات کی ہے کہ اس کے اعمال، اس کے کردار کانتیجہ کیا نکلا؟
قیام پاکستان کے صرف 7سال بعد کی بات ہے۔ 1954میں گورنر جنرل غلام محمد تخت ِ پاکستان پر متمکن تھے۔ امریکی اخبارات انہیں پاکستان کا ’’مرد ِ آہن‘‘ قرار دے چکے تھے۔

ان کی بے پناہ خدمات کے اعتراف میں ان کے پاکستانی مداح انہیں ’’خادم ِ ملت‘‘ کا خطاب دے چکے تھے۔ ہندوستان بھر میں ان کےماہر مالیات ہونے کاڈنکہ بجتا تھا حالانکہ اس شعبے پر ہر طرف ہندو چھائے ہوئے تھے۔ غلام محمد کو یہ اعزاز بھی حاصل تھا کہ انہوںنے مسلم لیگ اور کانگریس کی مخلوط ہندوستانی کابینہ میں وزیر خزانہ لیاقت علی خان کو ایسے ماہرانہ مالی مشورے دیئے تھے کہ کانگریس کی حکومت کوعملاً معطل کردیا۔ مرد ِ آہن انتہائی نیک، بندہ پرور اور اپنے پیرومرشد کے انتہائی تابع دار تھے۔ انہوں نے انتہائی نیک نیتی سے پاکستان کی پہلی قومی اسمبلی کو توڑ ڈالا کیونکہ ان کے خیال میں اس کے اراکین نااہل اور بددیانت تھے۔ مخالف فریق بھی نیک نیت مولوی تمیز الدین اسپیکر قومی اسمبلی تھے۔ انہوں نے اس اقدام کو چیلنج کردیا۔ اسمبلی میں حسین شہید سہروردی جیسے نامور اور انتہائی ایماندار لوگ موجود تھے۔ اب معاملہ ایک تیسرے نیک نیت جسٹس منیر کی عدالت میں آگیا۔ جسٹس منیر قانون کی باریکیوں سے واقف تھے۔ جناح صاحب کی لبرل ازم کے مداح تھے۔انہیں ڈر تھاکہ ریاست کے خلاف فیصلہ دیا تو ملک کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے انتہائی نیک نیتی سے نظریہ ٔ ضرورت کے تحت اسمبلی توڑنےکوجائز قراردیا۔ اب دیکھیں تاریخ نے دو نیک نیتوں غلام محمدا ور جسٹس منیر کے اعمال کو غلط قرار دیا اور کیس ہارنے والے نیک نیت مولوی تمیز الدین کو درست قراردیا تو اصل بات نیت کی نہیں بلکہ نتیجہ کی ہے۔

ایک اور مثال نواب ناظم آف بنگال، بہار اور اڑیسہ کے جانشین اسکندر مرزا کی ہے جو ہندوستان کے پہلے آئی سی ایس افسر تھے۔ میر جعفر ان کے آبائو اجداد میں سے تھے۔ اسکندر مرزا پہلے پولیٹیکل ایجنٹ تھے پھر دفاع پاکستان کے مضبوط مویّد بن گئے۔ انہیں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا اہم ترین ستون قرار دیا جاتا تھا۔ وہ جنرل ایوب خان کے ذاتی دوست تھے۔ پاکستان کے آخری گورنر جنرل اور پاکستان کے پہلے منتخب صدر تھے۔ انہو ںنے انتہائی نیک نیتی سے 1956 کا آئین منظور کیا۔ جس میں مشرقی اور مغربی پاکستان کی برابر نمائندگی کااصول طے ہوا اور پھر انہوںنے انتہائی نیک نیتی سے اپنے ہی بنائے ہوئے آئین کومنسوخ کردیا مگر افسوس کے صرف دس دن بعد ہی انہیں ان کے ایک اور نیک نیت دوست جنرل ایوب خان نے اقتدارسے رخصت کرکے ہمیشہ کے لئے جلا وطن کردیا۔ نتیجہ کیانکلا؟ نظام کوجتنی بھی نیک نیتی اور نیک ارادوں سے لپیٹا جائے انجام خرابی ہی میں نکلتا ہے۔

ایوب خان کی نیک نیتی پر کون شک کرسکتا ہے؟ وہ ایک محب وطن سپاہی کی طرح دفاع کو مضبوط کرنا چاہتا تھا اور پاکستان کی معاشی ترقی کا خواہشمند تھا۔ ایوب خان کی ڈائریوں سے پتا چلتا ہے کہ 1958کے مارشل لا سے بہت پہلے وہ انتہائی نیک نیتی سے ملک کو بہتر طور پر چلانے کا منصوبہ بنارہا تھا۔ اس لئے اس نے سیاستدانوں کی چخ چخ سے تنگ آ کر مارشل لا لگایا مگر انتہائی نیک نیتی سے لائے گئے اس انقلاب کاانجام کیا ہوا؟ صدر ایوب خان کو خود صدارتی نظام کی ناکامی کااعتراف کرنا پڑا اور گول میز کانفرنس میںاس نے تسلیم کیا کہ دوبارہ پارلیمانی نظام نافذ ہونا چاہئے۔

صدر یحییٰ خان اقتدار میں آئے تو انہو ںنے غیرجانبداری کا تاثر دیا اور انتہائی دیانت داری اور نیک نیتی سے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ انتخابات کروائے۔ جنرل یحییٰ خان نے بھی انتہائی نیک نیتی سے یہ سوچا کہ اگر شیخ مجیب الرحمٰن یا ذوالفقار علی بھٹو کو انتقال اقتدار کردیا تو ملک کا برا حال ہو جائے گا۔ مشرقی پاکستان میں فوجی ایکشن بھی انہوںنے اس نیک نیتی سے کیاکہ غداران ِ وطن کا صفایا کرکے مشرقی پاکستان کے حب الوطنوں کو فائدہ دیا جائے مگر کیا اس نیک نیتی کا فائدہ ہوا؟ ہرگز نہیں الٹا اس کا نقصان ہوا کہ پاکستان دولخت ہوگیا۔ نتیجہ کیا نکلا کہ بہترین نیتوں کے باوجود آئین اور نظام سے ہٹ کر چلنا ملک کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے۔

ذوالفقار علی بھٹو نے بڑی نیک نیتی سے جنرل ضیاء الحق کو آئوٹ آف ٹرن چیف آف آرمی اسٹاف بنایا۔ کئی سینئر جرنیلوں کوریٹائر کردیا اور سوچا کہ جنرل ٹکا خان کے بعد ضیاء الحق جیسا پرہیزگار بھی سول اور فوج کے تعلقات کو اچھا رکھ سکے گا۔ دوسری طرف جنرل ضیاء الحق نے نیک نیتی سے فیصلہ کیا کہ ملک میں اسلامی نظام ہی مسائل کا حل ہے۔ فوج ہی ملک کو بہتر چلا سکتی ہے۔ اب ان دونوں کی نیتوں کا نتیجہ دیکھیں ذوالفقارعلی بھٹو کی نیک نیتی نے اس کے خلاف مارشل لا لگوا دیا اور جنرل ضیاء الحق کی نیک نیتی سے ہم راہ ِ راست سے ہی بھٹک گئے۔ 90روز لمبے ہوتے گئے اور ہم افغان جنگ کے چنگل میں ایسے پھنسے کہ آج تک دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ ابھی تک بین الاقوامی سیاست کا کمزور مہرہ ہیں۔

نتیجہ یہ کہ آئین سے ہٹیں گے تو مشکل میں پھنسیں گے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف دونوں بڑی نیک نیتی سے اپنے اپنےنظریاتی حلقے کی نمائندگی کرتے رہے اور آپس میں لڑتے رہے۔ نتیجہ کیا تھا دونوں کی چھٹی ہوگئی اورطویل مارشل لا آگیا۔ جنرل مشرف نے دوسری افغان جنگ میں نرم شرائط پر شمولیت اختیار کی نہ پارلیمان تھی نہ کوئی روک ٹوک اور نہ آئین ہی تھا۔ نتیجہ کیا نکلا ہم بھی ناراض اور امریکہ بھی ناراض۔ نواز شریف نیک نیتی سے معاشی انقلاب لانا چاہتے تھےاور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ اور مڈل کلاس انتہائی نیک نیتی سے کرپشن کا خاتمہ چاہتی تھی۔ نتیجہ موجودہ سیاسی بحران ہے جس کو عمران خان، حکومت ِ وقت، فوج اور سارے دانشور انتہائی نیک نیتی سے سلجھانا چاہتے ہیں۔ حل کیا ہے؟ صرف اور صرف آئین۔ آئین پر چلیں گے تو راستے کھلتے چلے جائیں گے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت یا عدلیہ کا کوئی بھی اور نیک نیت اقدام ملک کا راستہ کھوٹا کرسکتا ہے..۔