بدترین جمہوریت بمقابلہ حقیقی جمہوریت - محمد عامر خاکوانی

اپنے پچھلے دو تین کالموں میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ہمارے ہاں نمائشی اور نام نہاد جمہوریت چل رہی ہے، ہمارے بیشتر سیاستدان اسے اپنے اقتدار کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور درحقیقت ان میں سے کوئی بھی جمہوریت سے مخلص نہیں ہے۔ اس حوالے سے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کا بطور خاص ذکر آیا جو عدلیہ سے نااہل ہونے کے بعد متواتر جج صاحبان اور فوج کو نشانہ بنا رہے ہیں اوراقتدار میں اپنی واپسی کی جنگ کو سول بالادستی کی کشمکش کا نام دے رہے ہیں۔ بعض قارئین نے یہ سوال اٹھایا کہ موجودہ جمہوریت اور سیاستدانوں پر اعتراضات درست ہیں، لیکن یہ کسی آمر کے آنے کا جواز تو نہیں بن سکتے اور آخر اسے ٹھیک کرنے کا طریقہ کیا ہوسکتا ہے؟ یہ اہم سوال ہے۔ ہمارے ہاں آج کل یہی چل رہا ہے کہ جیسے ہی ناقص سیاسی نظام پر تنقید کی جائے، فوراً ہی اعتراض کرنے والے پر پر و اسٹیبلشمنٹ ہونے کا لیبل چسپاں کر دیا جاتا ہے۔ تجزیے کا ایک کلاسیکل اصول ہے کہ کسی بات میں ابہام پیدا ہوجائے تو اس کے سلائس کر کے، حصے بنا کر بات کو واضح کیا جائے۔ ہم یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ میرے نزدیک حکومت کرنے کا حق صرف سیاستدانوں کو حاصل ہے۔ ہمارے ہاں مختلف نظام ہائے حکومت کی بحثیں چلتی رہتی ہیں، اس وقت ہمارے سامنے جمہوریت کا ماڈل موجود اور رائج ہے۔ سب سے بہترین آپشن یہی ہے۔ مغربی جمہوریت بے مہار اور بے لگام ہوجاتی ہے۔ پاکستانی آئین میں قرآن وسنت کو سپریم اتھارٹی مانا گیا ہے۔ یوں اس خدشے کو دور کر دیا گیا۔پاکستان میں جو جمہوری ماڈل رائج ہے، اسے کوئی چاہے تو ایک طرح سے اسلامی جمہوریت کہہ سکتا ہے۔ یہی نظام چلنا چاہیے البتہ اس میں خامیاں دور ہو جائیں، ان پر آگے چل کر بات کرتے ہیں۔

فوجی حکمرانی یا آمریت کا کوئی جواز ہے نہ دلیل۔ پاکستان میں آنے والی چاروں حکومتیں غلط اور ناجائز تھیں۔ ان کے آنے کا کوئی جواز نہیں تھا، اگرکسی کے پاس تھوڑا بہت جواز تھا بھی تووہ بعد میں نہ رہا۔ ان آمروں نے اپنی حکومتوں اور اقتدار کو طویل کرنے کے لیے ہر جائز وناجائز حربہ استعمال کیا اور یوں وہ ہر لحاظ سے غاصب قرار پائے۔ ایوب خان کی مداخلت بلاجواز تھی، انہیں سکندر مرزا کا ساتھ دینے کے بجائے جمہوریت کا ساتھ دینا چاہیے تھا۔ چلیں آ ہی گئے تھے تو پھر بعد میں اقتدار سیاستدانوں کو سونپ کر ایک سائیڈ پر ہوجاتے۔ مادر ملت فاطمہ جناح کے امیدوار بننے کے بعدایوب خان اگر چاہتے تھے تو دستبردار ہو کر ملک کو ایک متفقہ لیڈر دے سکتے تھے۔ جو بگاڑ جنرل ایوب نے پیدا کیا، وہ سدھر جاتا، اس کے بجائے انہوں نے مادر ملت کودھاندلی سے ہرایا۔ جنرل یحییٰ خان کو اقتدار سونپنا بھی بڑی غلطی تھی۔ پاکستان دو لخت کرانے میں اس ڈکٹیٹر نے مرکزی کردار ادا کیا، اگرچہ مجیب الرحمٰن اور بھٹو بطور سیاستدان اس میں معاون رہے۔ جنرل ضیاءکے حوالے سے بھی یہی بات کہی جا سکتی ہے۔ اگرپی این اے، بھٹو حکومت میں معاہدہ ہوگیا تھا اور اگلے روز اس کا اعلان ہونا تھا، تب تو ضیا نے ظلم عظیم کیا۔ اگر ڈیڈ لاک تھا اور شدید ٹکراؤ کے خوف سے انہیں مارشل لاءلگانا پڑا، تب بھی انہیں حالات نارمل آنے پر واپس ہوجانا چاہیے تھا۔ بھٹو صاحب کو پھانسی دینا ایک بدترین غلطی تھی۔جنرل ضیاءکے پاس گیارہ سال اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز موجود نہیں تھا۔ پرویز مشرف کے پاس حکومت میں آنے کا سب سے کم جواز موجود تھا۔وہ پاکستانی تاریخ کے بدترین ڈکٹیٹر ثابت ہوئے۔ خلاصہ کلام یہ کہ آمریت کا کوئی جواز نہیں۔ یہ آؤٹ آف کوئسچن ہے۔ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہونا چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں:   جماعت اسلامی کا آئندہ لائحہ عمل - گل رحمان ہمدرد

کوئی آمر ایسا ہوسکتا ہے، جس میں بعض اچھے انسانی خصائص موجود ہوں، ممکن ہے کسی میں اعلیٰ انتظامی صلاحیتیں ہوں یا وہ دور اندیش حکمران ثابت ہو، مگر ہرفوجی آمرکے ساتھ دو تین خامیاں موجود ہیں، جن کی بنا پر وہ ملک وقوم کے لیے تباہ کن ثابت ہوتا ہے۔بنیادی مسئلہ ہے کہ آمر کودنیا کے سامنے جائز (legitimate)حکمران نہیں مانا جاتا۔ اسی کمزوری کی بنا پر وہ اپنے ملک کے لیے اچھی بارگیننگ اور ڈیل نہیں کر سکتا۔ وہ جعلی ریفرنڈم کراتا، غیر جماعتی انتخابات کے ڈرامے رچاتا ہے، تب بھی دنیا اس کی پارلیمنٹ کو ربڑ سٹمپ سمجھتی اور اسے غاصب حکمران قرار دیتی ہے۔ اسی لیے جب کوئی بڑا موقعہ آتا ہے، جیسے 80 ءکے عشرے میں افغان تحریک مزاحمت کے لیے امریکی مدد یا نائن الیون کے بعد کے پاک امریکہ تعلقات .... ایسے میں ڈکٹیٹرسپر پاور ز سے اپنے ملک کے لیے زیادہ منوانے کے بجائے اپنے دور اقتدار کو طویل بنانے کے لیے ڈیل کرتا ہے۔ آمر کی عوام میں جڑیں نہیں پنپ سکتیں، اس کے پاس سیاسی جماعت نہیں ہوتی جو لیڈر کو گلی محلے کے عام آدمی سے جوڑتی ہیں۔ وہ پھر ایوب خان کی طرح کنونشن لیگ، جنرل ضیا ءکی طرح غیر جماعتی انتخابات سے جنم لینے والی ٹوٹی پھوٹی مسلم لیگ اور پرویز مشرف کی طرح کنگز پارٹی یعنی ق لیگ کی خدمات حاصل کرتا ہے۔ یہ مصنوعی کوششیں بیکار، بے مصرف اور عملاً بوجھ ثابت ہوتی ہیں۔اس سے پہلے ہر آمر کوشش کرتا ہے کہ پہلے سے عوام میں مقبول، تجربہ کار سیاستدانوں کو باہر نکال پھینکے تاکہ اس کا اقتدار قائم ہوسکے۔ ایوب خان کے ایبڈو کے ذریعے،کبھی جنرل ضیا ءکے نان پارٹی الیکشن اور پھر پرویز مشرف کے دونوں بڑے سیاستدانوں کو ملک میں واپس نہ آنے دینے سے اس کا اہتمام کیا جاتا ہے۔مصیبت یہ ہے کہ مقبول اور طاقتور سیاستدانوں کو کمزور کرنے کی کوشش میں آمر ایسی نئی پنیری لگا دیتا ہے، جو بعد میں تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ برادری، پیسے کے زور پر سیاست کرنے والی زہریلی فصلیں ضیااور مشرف نے کاشت کیں، ہمارے سیاسی کلچر سے ان کا زہر نکل نہیں پا رہا۔مشاورت کا حقیقی ماحول نہ ہونے کے باعث جنرل ضیا اور مشرف نے کئی ایسے بلنڈر کئے، جن کی قیمت ہم آج تک ادا کر رہے ہیں، شائد مزید کریں۔

جب دنیا بھر میں یہ طے پا چکا ہے کہ جمہوریت ہی طریقہ انتخاب ہوگا اور کسی وردی میں ملبوس شخص کو بندوق کی طاقت سے حکومت کا حق نہیں مل سکتا، تو ہمیں بھی بے سود، ناکام تجربات نہیں کرنے چاہئیں۔ انسانی شعور اس قدر آگے جا چکا ہے کہ وہ عوام کی منتخب جمہوریت ہی کو تسلیم کرپاتا ہے۔ اس لیے جمہوریت تو طے شدہ معاملہ ہے۔ اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ جمہوریت میں اصلاحات لائی جائیں اور جمہوریت صرف الیکشن لڑ کر اقتدار پر قابض ہوجانے کا نام نہ رہ جائے۔ الیکشن کے عمل کو شفاف، آزاد اور غیر جانبدارانہ بنایا جائے۔ اس کے ساتھ لوئر مڈل کلاس اور نظریاتی کارکنوں کے الیکشن عمل میں برقرار رکھنے کے لیے اخراجات کی حد پر سختی سے عمل ہو۔ بلدیاتی اداروں کو مضبوط، طاقتور اور فعال بنایا جائے۔ جماعتوں میں جمہوریت قائم ہوسکے اور شہزادوں، شہزادیوں کا راستہ روکا جائے۔سیاسی جماعتیں ذاتی گھر، پلاٹ یا فیکٹریاں نہیں جو اپنی اولاد میں بانٹ دی جائیں یا کسی مجہول وصیت کے ذریعے اپنے نصف بہتر کو دے دی جائے۔ سیاسی کارکن غلام ہوتے ہیں نہ ہی سیاسی رہنماؤں کا درجہ درباریوں جیسا ہے۔ جمہوریت ایک پیکیج ڈیل کا نام ہے۔ اس کے تمام اجزا پر عمل کرنا پڑے گا، ورنہ وہ جمہوریت نہیں، نمائشی جمہوریت اور ایک بھیانک مذاق ٹھیرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   قومی سیاست کے رنگ - یاسر محمود آرائیں

یہ بات سو فی صد درست اور اصولی ہے کہ اگر جمہوری نظام ٹھیک نہیں چل رہا تو اس کا مطلب مزید جمہوریت ہے، اس کی بساط لپیٹ دینا نہیں۔ جمہوریت کو مضبوط کرنے کے لیے سسٹم چلتا رہنا چاہیے۔ یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ سسٹم میں اگر اصلاحات اور بہتری نہ لائی جائے تو چاہے وہ جتنے سال چلتا رہے، اس میں خرابی برقرار رہے گی۔ ہم پاکستانیوں کو سمجھنا اور سیکھنا ہوگا کہ سسٹم خود بخود ٹھیک نہیں ہوتا، اس کے لیے جدوجہد اور کوشش کرنا پڑتی ہے۔ ہمیں آمریت نہیں چاہیے، مگر ہمیں بدترین جمہوریت بھی درکار نہیں۔ ہمارے مقدر میں آخر بدترین جمہوریت کیوں؟ ہمیں اچھی جمہوریت کیوں نہیں مل سکتی؟

جن ممالک میں اچھی جمہوریت ہے، وہاں بھی انسان ہی نظام چلا رہے ہیں؟بھارت جیسا ملک جہاں کرپشن بے پناہ ہے، مگر اپنے انتخابی نظام کو اس نے فول پروف بنا لیاہے۔ ججوں کے بجائے وہاں بیوروکریٹ الیکشن کمیشن چلاتے ہیں اور کسی کی جرات نہیں کہ سسٹم توڑ سکے۔ ہمارے ہاں جعلی سیاسی قائد اور ہیروز چل رہے ہیں۔کئی کئی سو ارب کی بیرون ممالک جائیدادیں وہ بنا چکے ہیں، کوئی سوال اٹھائے تو اسے پرو اسٹیبلشمنٹ کہہ دیتے ہیں۔ پورے نظام کو جس نے ہائی جیک کر رکھا ہے، اسے گاڈ فادر نہ کہا جائے تو اور کیا مناسب لفظ ملے گا؟جمہوریت کو فوج یا اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ ان نام نہاد جمہوری لیڈروں سے خطرہ ہے۔یہ صرف اپنے اقتدار کے لیے ہم سب کا استحصال کرتے ہیں۔یہ سب کچھ آخر کب تک چلے گا؟ کبھی تو ہمیں اٹھ کر انہیں ناں کرنا ہوگی۔ انہیں بتانا ہوگا کہ پہلے خود کو جمہوریت پسند بناؤ، اپنی پارٹیوں میں جمہوریت لاؤ، پھر آپ کو سول بالادستی کے لیے کہنا نہیں پڑے گا۔ عوام کے سیلاب کے سامنے پھر کوئی نہیں ٹھیر پائے گا۔ہمیں بدترین نہیں، بہترین جمہوریت چاہیے۔ اس کا آغاز تو ہونا چاہیے۔

Comments

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر خاکوانی

محمد عامر ہاشم خاکوانی کالم نگار اور سینئر صحافی ہیں۔ روزنامہ 92 نیوز میں میگزین ایڈیٹر ہیں۔ دلیل کے بانی مدیر ہیں۔ پولیٹیکلی رائٹ آف سنٹر، سوشلی کنزرویٹو، داخلی طور پر صوفی ازم سے متاثر ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں