قادیانی، کچھ زخم کبھی نہیں بھرتے - حافظ یوسف سراج

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اتوار کی شام انار کلی کے باہر مال روڈ پر پرانی کتابوں کے سٹالز پر جانا معمول ہوگیا تھا۔ ان دنوں لٹریچر کا بھوت سوار تھا اور خاص طور پر کلاسیکی ادب کا جادو سر چڑھ کر بول رہا تھا۔ انہی دنوں ایم اے او کالج سے جب کافی نصابی انگریزی لٹریچر پڑھ لیا اور جان کیٹس، شیلے، شیکسپیئر، جان ملٹن سے لے کر سرے اور جان ڈن تک مغرب کے کوچۂ ادب میں تاکا جھانکی کر ڈالی تو کھلا کہ ایک سے زیادہ وجوہات کی بنا پر انگریزی ادب کو ذاتی طور پر مزید پڑھا تو جا سکتا ہے مگر ڈگری اردو لٹریچر ہی میں لینی چاہیے۔ ایسے میں جس واحد یونیورسٹی میں اس وقت ایم اے کے داخلے جا سکتے تھے، وہ بہاولپور کی اسلامیہ یونیورسٹی تھی۔ سال ضائع ہونے سے بچانا تھا، سو وہیں داخلہ بھیج دیا اور پھر وہیں امتحان دیا اور بہاولپور بھی دیکھا۔ دھیمے مزاج کا پرخلوص سا یہ شہر بہت اچھا لگا۔ کھلِا کھِلا، کھُلا کھُلا اور مٹی کی سوندھی خوشبو سے مہکا مہکا سا، خوش اطوار اورخوشگوار، سانولا سلونا اور تازہ چاندنی میں نہایا نہایا سا۔

لاہور آمد کے بعد اتوار کی ایک شام انارکلی میں’’مقدمۂ بہاولپور‘‘ نامی کتاب دیکھی تو اٹھا لایا تاکہ بہاولپور کو مزید جانا جا سکے۔ یہ کتاب مگر بہاولپور کے ایک ہی خاص رُخ سے نقاب سرکاتی تھی، اور وہ تھا، ہندوستان میں قادیانیت کے پہلے مقدمے کی روداد کا ہوش رُبا اور سانس روک دینے والا رخ۔ اک ہی رات میں کتاب کھنگال ڈالی اور گویا ایک ہی رات میں میری روح پر وہ پورا زمانہ بیت گیا۔

یہ مقدمہ ڈسٹرکٹ کورٹ کے فاضل جج محمد اکبرخان کی عدالت میں (1926ء تا1935ء) نو سال تک چلا تھا۔ دراصل عبدالرزاق نامی نوجوان مولانا الٰہی بخش کا رشتے دار تھا، اور مولانا نے اپنی بیٹی غلام عائشہ کا نکاح کم سنی میں عبدالرزاق سے کر دیا تھا۔ یہ نوجوان بہاولپور سے رزق کی تلاش میں نکلا تو ربوہ وغیرہ جا کر ختم نبوت پر اپنے ایمان کا اثاثہ گنوا بیٹھا۔ جونہی یہ بات کھلی، مولانا نے احمد پور شرقیہ کی عدالت میں عبدالرزاق کے ارتداد کو وجہ بنا کر اپنی بیٹی کے تنسیخ ِ نکاح کا دعویٰ دائر کر دیا۔ یہ کیس پھر بہاولپور منتقل ہو گیا اور چونکہ فریقین کی ذات سے بڑھ کر ان کے عقائد پر مؤثر ہو رہا تھا، اس لیے یہ محض خلع یا فسخ ِ نکاح کا مقدمہ ہونے کے بجائے بہت سے لوگوں کے کفر و اسلام کا فیصلہ کرنے والا مقدمہ بن گیا تھا، چنانچہ مقدمے کی ہار جیت پر دونوں طرف سے روپیہ خرچنے اور جدوجہد برتنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگایاجانے لگا۔ یہ وقت مولانا الٰہی بخش پر بڑا کڑا تھا۔ وہ غریب آدمی تھے اور ان کے مقابل کہیں زیادہ اثر و رسوخ کے حامل لوگ تھے۔ اس دوران ایسا وقت بھی آیا کہ مولانا پر ایک مقدمہ ملتان میں دائر کر دیا گیا اور پولیس مولانا کے تعاقب میں نکل کھڑی ہوئی۔ اس دوران گاؤں کا کوئی ایسا گھر نہ بچا تھا کہ جہاں کسی وقت مولانا کو اپنے اہلِ خانہ سمیت پناہ نہ لینا پڑی ہو۔

یہ بھی پڑھیں:   قانون توہین رسالت پر فیصلہ کُن راؤنڈ - ڈاکٹر عمرفاروق احرار

ادھر ہندوستان بھر سے مرزائی حضرات اور اہلِ سنت کے جید علماء اپنے دلائل دینے لشٹم پشٹم ریاست بہاولپور پہنچنے لگے۔ کیا کیا لوگ یہاں آئے، علامہ انور شاہ کاشمیری، مولانا ثنااللہ امرتسری، مولانا محمد شفیع اور دیگر جید و اجل علماء۔ کبھی تو ایک ایک گواہ پر ایسی بحث چلتی کہ دو دو ماہ لے جاتی اور ہزاروں صفحات بطور ثبوت پیش کیے جاتے۔ آخر میں مرزائیوں کو معلوم ہوگیا کہ وہ دلائل کے میدان میں کمزور ہیں تو انہوں نے ایک درخواست کے ذریعے عدالت کو بتایا کہ عبدالرزاق فوت ہوگیا ہے، لہٰذا اب فیصلہ نہ کیا جائے۔ دوسرے فریق نے مگر پوری کوشش کر کے یہ نہ ہونے دیا، انہیں یہ بھی شک گزرا کہ شاید عبدالرزاق کی موت طبعی نہیں تھی بلکہ وہ فیصلہ رکوانے کی ایک کوشش تھی۔ بہرحال نو سال کے طویل اور بھرپور سیشنوں، دلائل کی شنوائی اور ثبوتوں کی پیشکش کے بعد، اور پھر ہر فریق کو اپنے مؤقف کے دفاع کا پورا حق اور بھرپور موقع دینے کے بعد جو فیصلہ آیا، وہ اب تاریخ کا حصہ ہے۔ یعنی نکاح فسخ ہوا اور ساتھ ہی قادیانی دائرۂ اسلام سے خارج قرار پائے۔ رہیں بی بی غلام عائشہ تو ان کا نکاح مولانا نے اپنے ایک شاگرد مولانا سلطان محمود سے کر دیا۔ بعد میں جنھوں نے جلالپور میں اپنی علمی قابلیت، للہیت اور فہمِ حدیث میں بڑا نام کمایا۔ مقامی لوگ آج بھی انہیں ’بڑے استاد‘ کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ غلام عائشہ زیادہ دیر زندہ نہ رہیں۔ الحمدللہ، اس فقیر کو ان کے ایک ثقہ و سنجیدہ سکالر بیٹے پروفیسر یحییٰ صاحب سے ملاقات کا شرف حاصل ہو چکا ہے۔ آپ نے ملک و بیرون ملک پڑھایا اور دارالسلام نامی اشاعتی ادارے میں بیش بہا تحقیقی و تصنیفی خدمات سرانجام دیں۔

1947ء میں پاکستان بنا تو ریاست بہاولپور پاکستان میں ضم ہوگئی اور ریاست پاکستان نے ایک بار پھر بڑے پیمانے پر یہی فیصلہ جمہوری انداز میں پارلیمنٹ میں کیا۔ یہاں بھی انصاف اور دیانت کے تقاضے بخوبی پورے کیے گئے۔ قادیانی پیشوا مرزا ناصر کو اسمبلی کا رکن نہ ہونے کے باوجود قومی اسمبلی میں اپنا مؤقف پیش کرنے کا پورا حق اور موقع دیا گیا۔ مگر ظاہر ہے کہ یہاں بھی وہی کچھ تھا، جو بہاولپور کی عدالت میں بیت چکا تھا۔ نہ مؤقف نیا تھا، نہ دلائل نئے تھے اور نہ نتیجہ ہی نیا نکلا۔

وجہ یہ بنی تھی کہ 22 مئی 1974ء کو ملتان نشتر کالج کے کچھ طلبہ بذریعہ ریل ربوے کے پاس سے گزرے تو انہیں قادیانی لٹریچر دیاگیا، طلبہ مزاحم ہوئے اور ریل گزر گئی، البتہ واپسی پر قادیانی نوجوانوں نے ان طلبہ پر بری طرح تشدد کیا، چنانچہ رِستے زخموں اور مجروح بدنوں کے ساتھ ٹرین فیصل آباد پہنچی تو پورے ملک میں کہرام مچ گیا، جو پھر ایک تحریک میں ڈھل گیا۔ مجلس ِاحرار، شورش کاشمیری، مفتی محمود، شاہ احمد نورانی اور علامہ احسان الٰہی ظہیر سمیت تمام مسالک کے جید لوگوں نے استقامت اور جرات کی تاریخ رقم کی اور بالآخر 7 ستمبر 1974ء کو پاکستانی قومی اسمبلی نے آئین میں دوسری ترمیم کرتے ہوئے ریاست کی نظر میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا۔ قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا سب سے پہلا فتویٰ 1900ء کی ابتدا میں مولانا محمد حسین بٹالوی نے لکھا تھا اور ہندوستان بھر کے علما سے اس پر توثیقی دستخط لے لیے تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   انا خاتم النبیین لا نبی بعدی - ڈاکٹر میمونہ حمزہ

قادیانیوں کا کیس دراصل خالص اسلامی نقطۂ نگاہ سے کچھ اور ہے، لیکن جدید ریاستی نظام میں اور ایک خاص جمہوری انداز سے آزادی ملنے والے ملک میں انہیں ایک خاص رعایت حاصل ہو گئی ہے، جو شاید کسی روایتی اسلامی مملکت میں نہ مل سکتی تھی۔ اب یہ مسئلہ جتنا قانونی اور تہذیبی سفر طے کر چکا ہے، اسے چھیڑنا دونوں فریقوں کے ساتھ زیادتی ہے۔ خاص طور پر قادیانیوں کے ساتھ کہ اس طرح کے حساس مسئلے میں اس طرح کی رعایت مل جانا ان کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ پاکستانی قوم عملا جیسی بھی ہو، حرمت رسول ﷺ اور ختم نبوت ﷺ کے معاملے میں ا س کی جذباتیت پوری تاریخ سے آج تک برابر سفر کرتی آئی ہے۔ اس کی ایک حالیہ مثال ممتاز قادری کا اقدام ہے۔ سوچنا چاہیے کہ کس طرح ایک مشکوک صورتحال میں ایک سرکاری محافظ کے ہاتھوں سرکاری گن کی گولی سے ایک گورنر کو قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد میں ریاست نے قانونی اعتبار سے جو مناسب سمجھا، وہ کیا، لیکن یہ واقعہ مسئلے کی حساسیت کا عکاس ہے۔ آپ سوچیے اگر ختم نبوت کی قانونی حیثیت طے نہ کی جا چکی ہوتی تو مختلف حساس مواقع پر کس آسانی سے عوامی جذبات کی آنچ میں قادیانیوں کی زندگیاں داؤ پر لگ جاتیں؟ تو آئین کی یہ شق خود قادیانیوں کے فائدے میں ہے۔ یہ ایک عظیم الشان حق ہے جو ایک اسلامی ریاست نے قانوناً انہیں دے رکھا ہے۔ چنانچہ رانا ثناءاللہ صاحب ہوں، یا مختلف بلوں کی ترمیمات کی سیڑھیوں پر پاؤں رکھ کے ختم نبوت کے آئین تک پہنچنے کی خام خواہش رکھتے مغربی ہرکارے یااین جی اوز کے بےخبر خواہشمند۔ انہیں مسلمانوں کے ان نازک ایمانی مقامات سے چھیڑ چھاڑ سے دور ہی نہیں، کوسوں دور رہنا چاہیے۔ اسی میں ملکی امنِ عامہ اور انسانی زندگیوں کا تحفظ ہے۔ قانونِ ختم نبوت ﷺ سے کھیلنا وہ آگ ہے کہ جسے اگر کوئی بھی احمق اپنی نادانی سے یا کوئی بھی سیانا اپنی سازش سے بڑھکا بیٹھا تو پھر اسے آسانی سے بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔ نہ علما کے، نہ عوام کے اور نہ ریاست کے۔

Comments

حافظ یوسف سراج

حافظ یوسف سراج

ادب اور دین دلچسپی کے میدان ہیں۔ کیرئیر کا آغاز ایک اشاعتی ادارے میں کتب کی ایڈیٹنگ سے کیا۔ ایک ہفت روزہ اخبار کے ایڈیٹوریل ایڈیٹر رہے۔ پیغام ٹی وی کے ریسرچ ہیڈ ہیں۔ روزنامہ ’نئی بات ‘اورروزنامہ ’پاکستان‘ میں کالم لکھا۔ ان دنوں روزنامہ 92 نیوز میں مستقل کالم لکھ رہے ہیں۔ دلیل کےاولین لکھاریوں میں سے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

  • یوسف سراج بھائی عمدہ تبصرہ کیا ہے۔ تمام فریقین کے لیے بتری یہی ہے کہ ایسے نازک موضوع کو چھیڑنا ہی دراصل بے وقوفی ہے۔ آپ سیکولرازم کا نعرہ ماریں لیکن کسی ریاست کے قانون کو چھیڑنا کہاں کی دانشمندی ہے۔۔۔