چیئرمین نیب کی تقرری، اصل کھیل - ارشد علی خان

اب جبکہ جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال باقاعدہ طور پر چیئرمین نیب کے عہدے کا چارج سنبھال چکے ہیں تو ان کا اصل امتحان شروع ہواچاہتا ہے۔ اس سے قبل لاپتہ افراد کمیشن اور ابیٹ آباد کمیشن کی سربراہی اتنی زیادہ مشکل ذمہ داری نہیں تھی کیونکہ اس میں وہ کسی کو جوابدہ نہیں تھے بلکہ دیگر ادارے ان کو جوابدہ تھے، تاہم بطور چیئرمین نیب ان کو محاورتا نہیں بلکہ حقیقت میں لوہے کے چنے چبانا پڑیں گے۔ بطور چیئرمین نیب انھیں سپریم کورٹ میں اپنے جونئیر ججوں کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ ان کی تعیناتی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب سابق وزیراعظم میاں نواز شریف سمیت ان کے دیگر اہل خاندان کے ریفرنسز نیب عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔

جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے ایام زندگی پر ایک نظر ڈالتے ہیں جس کے بعد بطور نیب چیئرمین نواز اینڈ فیملی کے ریفرنسز میں ان کے سامنے آنے والی مشکلات اور ان سے وابستہ کی گئی امیدوں پر تبادلہ خیال کریں گے۔

جسٹس جاوید اقبال 1 اگست 1946ء کو پنجاب کے شہر سرگودھا میں پیدا ہوئے، تاہم وہ پلے بڑھے کوئٹہ میں ہیں۔ کوئٹہ میں گریجویٹ کی ڈگری لینے کے بعد انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی اور پولیٹیکل سائنس میں ماسٹر ڈگری لی، جس کے بعد 1971ء میں یونیورسٹی آف ویسٹ آسٹریلیا سے ایل ایل ایم کیا۔1971ء میں ہی کوئٹہ واپس آئے اور بلوچستان ہائی کورٹ میں بطور پبلک پراسیکیوٹر خدمات انجام دینا شروع کیں۔ 1973ء میں انھوں نے حکومت بلوچستان کی لیگل برانچ میں شمولیت اختیار کی، وہ ڈپٹی سیکرٹری لاء بھی رہے۔ 1982ء میں انھوں نے صوبائی حکومت کے لاء ڈیپارٹمنٹ سے استعفی دیا اور بلوچستان یونیورسٹی میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ اسی سال ان کو ڈسٹرکٹ کورٹ میں بطور سیشن جج تعینات کر دیا گیا۔ 1987ء میں انھوں نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے فقہ اور شریعہ میں ماسٹر ڈگری لی اور نیشنل انسیٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن سے بھی کورس کیا۔ 1990سے93ء تک وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار رہے۔ 1993ء میں انھیں بلوچستان ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا، 1995ء میں گورنر بلوچستان نے انھیں بطور جسٹس کنفرم کیا۔ 1999ء میں جسٹس جاوید اقبال ان ججز میں سے ایک تھے جنھوں نے پرویز مشرف کے پی سی او کے تحت دوبارہ حلف اٹھایا۔ 4 فروری 2000ء کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بنائے گئے جبکہ اپریل 2000ء میں انھیں سپریم کورٹ میں بطور سینئر جج تعینات کیا گیا۔افتخار محمد چوہدری کے خلاف صدارتی ریفرنس کے وقت جسٹس جاوید اقبال سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کی حیثیت سے خدمات سرانجام دے رہے تھے، تاہم انھوں نے مشرف کے پی سی او کے تحت دوبارہ حلف لینے سے انکار کیا جس کے بعد انھیں گیارہ ججز سمیت سپریم کورٹ سے ہٹا دیاگیا۔ جسٹس جاوید اقبال 9 مارچ 2007ء سے 23 مارچ 2007ء تک سپریم کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس رہے۔ 17مارچ 2009ء کو وکلاء اور سول سوسائٹی کی ججز بحالی تحریک کی کامیابی کے بعد ان کو 2 نومبر 2007ء والی پرانی پوزیشن پر سپریم کورٹ میں بحال کر دیاگیا اور 2011ء میں وہ اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:   این اے 4 ضمنی الیکشن ایک جائزہ - احسن سرفراز

اب بات کرتے ہیں بطور چیئرمین نیب ،جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کو پیش آنے والی مشکلات اور ان سے وابستہ امیدوں کی۔

ایک طرف تحریک انصاف ایسی سیاسی جماعت ہے جس کے لیڈروں سمیت کارکنان سے اپنی عزت بچانا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ترین ضرور ہے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کئی بار جسٹس جاوید اقبال کی تعیناتی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کی تقرری کے حوالے سے ہم سے کسی قسم کی مشاورت نہیں کی گئی اور اب نیب ریفرنسز میں ان کی کارکردگی ثابت کرے گی کہ حکومت اور اپوزیشن میں اس تعیناتی پر مک مکا ہوا ہے یا نہیں۔ اس کا سیدھا سادہ مطلب ہے کہ اگر نیب عدالت میں نواز شریف اینڈ فیملی کے خلاف دائر ریفرنسز میں نیب کی کارکردگی عمران خان کے معیار پر پوری نہ اتری تو سمجھو آپ کی عزت بیچ چوراہے پھوٹ گئی، جبکہ اسٹیبلشمنٹ بھی اس سارے کھیل کی ایک اہم فریق ہے، بلکہ اگر کہا جائے کہ میاں نواز شریف کے بعد اسٹیبلشمنٹ ہی تخت و تاج کے اس کھیل کی سب سے اہم فریق ہے جو بہرصورت میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو نیب ریفرنسز میں سزا دلوانا چاہتی ہے، تو کچھ غلط نہیں ہوگا۔ ایک طرف تو یہ صورتحال ہے دوسری جانب پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن ہیں جنھوں نے بطور چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کا تقرر کیا ہے۔ یہ دونوں سیاسی جماعتیں بھی کسی امید کے تحت ہی جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کی تعیناتی پر متفق ہوئی ہوں گی جبکہ تیسری جانب سپریم کورٹ ہے جس نے پانامہ لیکس کی جے آئی ٹی تحقیقات کی بنیاد پر نیب عدالت میں داخل کیے گئے ریفرنسز کی نگرانی کے لیے جسٹس اعجاز افضل کی ذمہ داری لگائی ہے۔ اس صورت میں بطور چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے لیے سب کو خوش رکھنا اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہوگا اور ان کے لیے اپنی وہ عزت بچانا مشکل ہو جائے گا جو انھوں نے ایبٹ آباد کمیشن کی بلامعاوضہ سربراہی سے کمائی ہے۔ اگرچہ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ جانتے ہیں کہاں ہاں کرنی ہے اور کہاں ڈٹ جانا ہے، اس کے باوجود بھی ایک مشکل مرحلہ ان کے سامنے ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اندر کی خبر - یاسر الیاس

کچھ عرصے سے سپریم کورٹ نے نیب اور اس کے سابق چیئرمین قمر زمان چوہدری کے بارے میں جو ریمارکس دیے، ہیں وہ کسی سے ڈھکے چھپے نہیں، یہاں تک کہ نیب کو کرپشن کرنے والوں کا سہولت کار کہاگیا، دیکھنا اب یہ ہوگا کہ کس طرح عدالت عالیہ کے معزز جج اپنے ایک سینئر کو کٹہرے میں کھڑا کرکے سوال جواب کریں گے اور نیب ریفرنسز میں پیش رفت پر سوالات اٹھائیں گے۔ سیاسی جماعتوں یعنی مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے سپریم کورٹ کے ساتھ اصل کھیل یہی کھیلا ہے۔

سپریم کورٹ بیٹ کے زیادہ تر رپورٹرز جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے، اور سمجھتے ہیں کہ جسٹس صاحب کو معلوم ہے کہ کہاں ہاں کرنی ہے اور کہاں نہ، تاہم بعض رپورٹرز کی رائے ان کے بارے میں اس سے بالکل اُلٹ ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ جسٹس جاوید اقبال نے لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی کے دوران اچھے خاصے لاپتہ افراد کی بازیابی میں کردار ادا کیا، جبکہ ابیٹ آباد کمیشن کی سربراہی تو انھوں نے بلامعاوضہ سرانجام دی تھی، اس لیے اس پر تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ یہ الگ بات کہ ان کی لاپتہ افراد کمیشن کی سربراہی کے دوران آمنہ مسعود جنجوعہ کا وہ بیان ریکارڈ پر ہے جو انھوں نے سپریم کورٹ میں دیا تھا کہ ہمارے کیسز کمیشن میں بھیجنے سے بہتر ہے کہ آپ یہ کیسز سپریم کورٹ میں ہی ختم کردیں، جبکہ ابیٹ آباد کمیشن کی رپورٹ ابھی تک حکومت نے عام نہیں کی، اس لیے اس حوالے سے جسٹس صاحب کے کارنامے سے اہل پاکستان بے خبر ہیں۔