ڈپریشن سے نجات کے دو طریقے - زینی سحر

موسم بدل رہا ہے. بدلتا موسم انسانوں کی نفسیات پہ بری طرح اثر انداز ہوتا ہے. موسم کے علاوہ اور بھی بہت سارے عوامل ہیں جو مل کر آپ پر مایوسی اور ڈپریشن کا سایہ ڈالتے ہیں. دیگر باتوں کے علاوہ نیٹ پہ بنتے اور بگڑتے رشتے بھی اس کی ایک بڑی وجہ ہیں. پہلے وقتوں میں لوگ ایک دوسرے کو اپنے دل کا حال سنا کر اپنے دل کا بوجھ ہلکا کر لیتے تھے. اب سکرین شاٹ کے ڈر سے یہ بھی ممکن نہیں رہا. اب آپ اندر ہی اندر گھٹتے ہو، اور جھنجھلاہٹ، غصے اور مایوسی کی کیفیات طاری ہوتی ہیں.

آپ رونا چاہتے ہیں لیکن رونے کے لیے کوئی کندھا میسر نہیں ہوتا ہے. یہ کیفیت جب حد سے بڑھنے لگے تو انسان خود کشی کرنے کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے. آج کل ہمارے معاشرے میں خودکشی کا رجحان بڑھ رہا ہے، بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے. اس کی بنیادی وجہ یہی ہے، اپنا حال دل کسی کو نہ سنا پانا یا کسی ایسے کو سنا دینا جو اتنا کم ظرف نکلے کہ اپ کی کمزوری کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے.

یہ بات تقریبا ہر دوسرا بندہ آپ کو بتاتا ہے کہ اپنی فیملی کو وقت دیں، بہن بھائیوں اور والدین کے ساتھ مل بیٹھیں، لیکن یہ سب کرنے کے باوجود بھی کبھی کبھی آپ ڈپریشن کی اس کیفیت سے باہر نہیں آ پاتے، جو دور بيٹھے ایک شخص کی وجہ سے یا کسی بھی اور وجہ سے آپ پر طاری ہوتی ہے.

ایسے میں آپ کو دو کام کرنے چاہییں..
اول
مٹی کے ساتھ اپنا تعلق قائم کریں. گھر میں کوئی چھوٹے موٹے پودے لگا لیں جن کی کوڈی ہر روز کريں اور کوشش کریں کہ مٹی میں زیادہ سے زیادہ دیر تک ہاتھ ماریں. اگر گھر میں پودوں کی جگہ نہیں تو باہر کسی پارک میں یا فٹ پاتھ پر چلے جائیں، ٹھنڈی زمین پر ہلاتی پلاتی مار کر بیٹھیں، اور مٹی میں ہاتھ مارنا شروع کر دیں. چاہیں تو زمین پر لکیریں ماریں، پینٹ کریں یا پھر اس کو کھرچیں. بہرحال مٹی کو آپ کے ہاتھوں میں لگنا چاہیے. یہ کرنے کے بعد بہت حد تک خود کو مطمئن پائیں گے.

یہ بھی پڑھیں:   بدلتی معاشرتی نفسیات - سلمان طارق

دوم
جب مایوسی حد سے بڑھنے لگے تو کمرے میں جائیں، دروازہ بند کریں، ننگے فرش پر دوزانو بيٹھ جائیں. تھوڑی دیر اس کیفیت میں بیٹھیں اور پھر سجدے میں چلے جائیں. دل میں جتنی بھی باتیں ہیں، دکھ درد ہیں، آنسو ہیں، وہ اس سجدے کی حالت میں نکال دیں. اگر رونا نہیں آتا تب بھی ان ساری باتوں کو یاد کریں جن سے آپ کو تکلیف پہنچی. آپ نماز پڑھتے ہیں تو یہ بہت اچھی بات ہے، نہیں پڑھتے تب بھی ایک طویل سجدہ ضرور کريں، جس میں سارے شکوے شکایت نکال دیں دل سے. يقین مانیں جب آپ کمرے سے باہر نکلیں گے تو خود کوبہت پرسکون پائیں گے.
آزمائش شرط ہے.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں