امل امید رجا - فرح رضوان

میرا بچپنا کیا حسین تھا، میں سبھی کی آنکھ کا نور تھا
میری نوجوانی کا بانکپن کہ عجب ہی دل میں سرور تھا

وہ جوانی جس میں گھمنڈ تھا کہ وہ فخر تھا یا غرور تھا
میرے ذہن کا یہ فتور ہے، مجھے تب کہاں یہ شعور تھا

میرا عزم ایسا برا نہ تھا، میں کبھی بھی حد سے گرا نہ تھا
مگر ہاں ! ہزاروں ہی خواہشیں، میری چاہتوں کا سرا نہ تھا

میں جو گھر کا اپنے کفیل تھا بخدا نہ کوئی بخیل تھا
ہاں کسی کو وقت نہ دے سکا، کہ یہی تو سب سے قلیل تھا

میری دوربینی نگاہوں نے تیرا قرب اوجھل سا کر دیا
وہ دیا ہے داغ مفارقت، کہ ضمیر بوجھل سا کر دیا

کیوں سراب، آب دکھائی دے، اور راہ و منزل میں فرق ہے
مجھے اب سبھی کچھ دکھائی دے، بڑی دیر میں، یہی قلق ہے

مگر اے میرے رب عالمیں، تیری رحمتوں پر مجھے یقیں
کہ میں ان کے در کا غلام ہوں، جنہیں دشمنوں نے کہا امیں

تیری ذات شرک سے پاک ہے، میرے کاسے میں یہی اک عمل
یہی کلمہ راہ نجات ہے، یہی اک دلاسہ میری امل

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.