2050ء تک دنیا کیسی ہوگی؟ حافظ محمد زبیر

مجھے تخلیق (creativity) سے دلچسپی ہے لہٰذا نئے نئے آئیڈیاز کے بارے پڑھتے رہنے میں رغبت ہے بلکہ مجھے گیمز اتنی پسند نہیں ہیں لیکن "پلے اسٹور" میں جا کر نئی نئی گیمز کو ڈاؤن لوڈ کرنا اور ان میں پیش کیے گئے نت نئے آئیڈیاز پر غور کرنا کہ انہیں اسلام کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے یا ان سے ذہن کی تخلیقی صلاحیتیں کیسے بیدار کی جا سکتی ہیں؟ تو وہ میں کرتا رہتا ہوں۔ اس کے لیے عموماً "ایڈیٹرز چوائس" والی گیمز کا مطالعہ رہتا ہے۔

کل کافی دیر اس آئیڈیا کے تحت ویب پیجز کی ورق گردانی رہی کہ 2050ء تک دنیا کیسی ہوگی؟ یا سائنس اور ٹیکنالوجی میں کون سے ایسے دس، بیس آئیڈیاز ہیں کہ اگر وہ عملی صورت میں سامنے آ گئے تو یہ دنیا تبدیل ہو جائے گی۔ مجھے لگتا ہے کہ مذہبی لوگوں کے لیے یہ جاننا بہت ضروری ہے، چاہے ہم اس سب کچھ کے جاننے کے باوجود کچھ نہ کر سکتے ہوں لیکن تخلیقی اذہان کا مطالعہ خود ہمارے ذہن کی سوئی ہوئی تخیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے میں معاون ثابت ہو گا، ان شاء اللہ!

جن چیزوں میں بہت تیزی سے دنیا میں ترقی ہو رہی ہے، ان میں سے ایک آرٹیفیشل انٹیلیجنس (Artificial Intelligence) ہے۔ امید یہ کی جا رہی ہے کہ 2025ء تک آپ کا کمپیوٹر اس قابل ہو جائے گا کہ وہ انسان کی طرح سوچ سکے، یعنی ایسے روبوٹ ایجاد ہو جائیں گے جو انسان کی طرح باشعور ہوں گے۔ چین میں تو ایسی روبوٹ گڑیا بننا شروع ہو گئی ہیں کہ جن سے شادی کی جا سکے۔ اور چائینز اس میں اس لیے زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں کہ وہ آپ کی اپنی مرضی کی بیوی ہوگی، جیسی آپ چاہیں گے، سو فی صد ویسی۔ اب کسے ایسی بیوی نہیں چاہیے؟ اتنی فرمانبردار! 😀 اسی طرح اگلے دس سال میں ایسے سوٹ ایجاد ہونے کا امکان ہے جو آپ کو اسپائڈر مین جیسی طاقت فراہم کر سکیں۔ 2030ء تک گھروں میں کام کاج کے لیے روبوٹس کا استعمال شروع ہو جائے گا۔

دوسرا بڑا میدان کہ جس میں بہت تیزی سے ترقی ہو رہی ہے، وہ ورچوئل رئیلٹی (Virtual Reality) کا میدان ہے۔ اگلے چند سالوں میں ٹیکسٹ بکس ختم ہو جائیں گی اور اس کی جگہ ورچوئل رئیلٹی لے لے گی۔ اگلے چند سالوں میں ورچوئل رئیلٹی کے ذریعے نہ صرف ایک استاذ اپنے اسٹوڈنٹس کو ماضی کی سیر کروا سکے گا جیسے کسی جنگ کے میدان کی بلکہ مستقبل میں بھی لے جا سکے گا۔ آپ اپنی امیجنری ورلڈ تخلیق کر سکیں گے اور 2045ء تک امکان ہے کہ آپ "میٹرکس" (Matrix) کی جیسی دنیا میں رہ رہے ہوں گے کہ اس وقت تک یہ ممکن ہو جائے گا کہ انسانی ذہن کو کمپیوٹر کے ساتھ لنک کر دیا جائے اور انسان پارٹ ٹائم کمپیوٹر یا مشین بن جائے گا۔

تیسرا بڑا میدان تھری ڈی پرنٹنگ کا ہے۔ بڑے بڑے پرنٹرز کے لیے تھری ڈی پرنٹنگ پر بہت تیزی سے کام ہو رہا ہے بلکہ چین میں تو تقریباً دس گھر تھری ڈی پڑنٹنگ سے بنائے جا چکے ہیں۔ کتنا عجیب ہے ناں کہ آپ اپنے لیپ ٹاپ، ٹیب میں اپنی گاڑی اور اپنا گھر ڈیزائن کریں گے اور اپنے پرنٹر سے اس کو نکال لیں گے؟ اگلے دو سالوں میں ہوم ڈیلیوری کے لیے ڈرونز کا استعمال عام ہو سکے گا۔ 2025ء تک اسمارٹ فون ختم ہو جائے گا اور اگر آپ کے پاس ہوا تو لوگ آپ پر ہنسیں گے۔ ان کی جگہ چھوٹی چھوٹی بریسلیٹ لے لیں گے، جو اسمارٹ فون کا کام کریں گے۔ اگلے دس سالوں میں گاڑیاں خود سے چلنا شروع ہو جائیں گی اور دو مختلف زبان جاننے والے ایک دوسرے کی بات مکمل طور سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے۔

اور ہم مسلمانوں کے پاس 2050ء کے بارے میں کہنے کے لیے کیا ہے کہ دنیا کیسی ہوگی؟ "اس وقت تک دجّال آ چکا ہوگا"۔ کاش کہ ہم 2050ء کے بارے اس سے کچھ زیادہ کہہ سکنے کی پوزیشن میں ہوتے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com